1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

شریک کے انتقال کی صورت میں شرکت کا حکم

سوال

ہمارے والد صاحب ایک آدمی کے ساتھ کاروبار میں شریک تھے، والد صاحب کے انتقال کے بعد اب شرکت کا کیا ہے؟

جواب

اگر کسی شریک کا انتقال ہو جائے تو شرکاء کے درمیان شرکت ختم ہو جائے گی۔ تاہم سابقہ کاروباری شریک کے ساتھ از سر نو معاہدہ کر کے دوبارہ اسی کاروبار میں شرکت کی جاسکتی ہے۔


حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 13)

  • ‌وإذا ‌مات ‌أحد ‌الشريكين أو ارتد ولحق بدار الحرب بطلت الشركة" لأنها تتضمن الوكالة، ولا بد منها لتتحقق الشركة على ما مر، والوكالة تبطل بالموت، وكذا بالالتحاق مرتدا إذا قضى القاضي بلحاقه؛ لأنه بمنزلة الموت على ما بيناه من قبل، ولا فرق بين ما إذا علم الشريك بموت صاحبه أو لم يعلم؛ لأنه عزل حكمي، وإذا بطلت الوكالة بطلت الشركة"

مجيب
ناصر خان بن نذیر خان
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :75537
تاریخ اجراء :2022-02-21

فتوی پرنٹ