1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

قضاء نماز کی نیت

سوال

قضاء نماز کی نیت کس طرح کی جائے؟

جواب

قضاء نماز کی نیت بھی عام نماز کی طرح ہے، البتہ اس میں یہ ضروری ہے کہ جس وقت کی قضاء نماز پڑھی جا رہی ہو اس کی تعیین کی جائے (مثلاً فلاں دن کے ظہر کی نماز)۔ اگر بہت ساری نمازیں قضاء ہیں اور وقت یاد نہیں تو اس طرح نیت کر لی جائے کہ میں اپنی قضاء نمازوں میں سے فلاں وقت (مثلاً فجر یا ظہر) کی سب سے پہلی یا سب سے آخری نماز کی قضاء کر رہا ہوں۔


حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 76):

(قوله كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته ‌صلاة ‌الخميس ‌والجمعة ‌والسبت ‌فإذا ‌قضاها لا بد من التعيين لأن فجر الخميس مثلا غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول أول فجر مثلا، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولا أو يقول آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخرا، ولا يضره عكس الترتيب لسقوطه بكثرة الفوائت. وقيل لا يلزمه التعيين.


مجيب
ناصر خان بن نذیر خان
مفتیان
آفتاب احمد صاحب
سعید احمد حسن صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :76064
تاریخ اجراء :2022-02-21

فتوی پرنٹ