1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

کیا مدعی خود ثالث بن سکتا ہے؟

سوال

سوال یہ ہے کہ ایک شخص نے کسی دوسرے شخص پر دعوی کیا، مدعی علیہ اور اس کے ساتھ دیگر لوگوں نے مدعی سے کہا کہ آپ خود ہی فیصلہ کر دیں، سوال یہ ہے کہ کیا مدعی خود فیصلہ کر سکتا ہے؟ اور کیا اس فیصلہ کو ماننا مدعی علیہ پر شرعاً لازم ہو گا؟

جواب

مدعی کے خود ثالث بننے کے جواز یا عدمِ جواز سے متعلق  تصریح فقہائے کرام رحمہم اللہ کے کلام میں کہیں نہیں ملی، البتہ قضاء اور تحکیم کے اصولوں کی روشنی میں معلوم یہ ہوتا ہے کہ مدعی کا خود ثالث بننا درست نہیں اور نہ ہی شرعی اعتبار سے مدعی علیہ پر اس فیصلے کو ماننا واجب ہو گا، کیونکہ مجلة الاحکام العدلیہ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص قاضی پر ياقاضی کے اصول وفروع میں سے کسی پرکسی چیز کا دعوی کرے تو ایسی صورت میں قاضی خود فیصلہ نہیں کر سکتا،کیونکہ اس فیصلہ کے ساتھ قاضی کا مفاد متعلق ہے، لہذا  ایسے معاملات میں فریقین کی رضامندی سے بنایا گیا ثالث یا سلطان یا قاضی کا نائب فیصلہ کرے گا اورفقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ فریقین کے لیے ثالث بھی قاضی کے قائم مقام ہوتا ہےاور اس کے فیصلہ کرنے کی بھی وہی شرطیں ہیں جو قاضی کے لیے ذکر کی گئی ہیں، لہذامدعی کے ثالث بننے کے مسئلہ میں بھی  ثالث کا حکم قاضی کی طرح ہو گا اور اس کا اپنی ذات کے بارے میں از خود فیصلہ کرنا نافذ اور واجب العمل نہیں ہو گا۔

 البتہ ایسی صورت میں اگر مدعی علیہ خود مدعی پر اعتماد کرتے ہوئےیہ کہہ دے کہ آپ خود ہی اس معاملے کا فیصلہ کر دیں تو اس کی شرعی حیثیت فیصلے کی بجائے صلح کی ہو گی اور مدعی پر لازم ہو گا کہ وہ امانت و دیانت اور شرعی اصولوں کی رعایت رکھتے ہوئے جتنا شرعی حق بنتا ہے اس کے مطابق فیصلہ کرے اور ایسی صورت میں مدعی علیہ کو بھی چاہیے کہ وہ دیانت داری کے ساتھ مدعی کا حق ادا کر دے۔


حوالہ جات

قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار (8/ 3) دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت:

 وينبغي أن يكون المحكم كالقاضي فيما يجوز به التحكيم بشروطه فإنه شرط كما في الاختيار ونبه عليه الشارح في شرحه عن الملتقى.

قال في الشرنبلالية بعد أن ذكر القاضي قال: وينبغي أن يكون المحكم كذلك لانه يلزم الخصم بالحق ويخلصه اهـ.

وأقول: قد صدر الامر السلطاني الآن بنفاذ حكم المحكم إذا رفع للحاكم الشرعي وكان موافقا نفذه كما في كتاب القضاء من مجلة الاحكام العدلية.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 369) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب آرام باغ، كراتشي:

المادة (1809) إذا كان لأحد دعوى مع قاضي بلدته أو أحد منسوبيه الذين ذكروا في المادة السابقة فإن كان في تلك البلدة قاض غيره تحاكما إليه وإن لم يكن في تلك البلدة قاض غيره ترافعا في حضور حكم نصباه برضاهما , أو في حضور نائب ذلك القاضي إن كان مأذونا بنصب

النائب, أو في حضور قاضي البلدة المجاورة لبلدتهم فإن لم يرض الطرفان بإحدى هذه الصور استدعيا مولى من قبل السلطان.

درر الحکام شرح مجلة الأحكام (ج:4ص:13) دارالجیل، بیروت:

المادة (1535) - (الصلح ثلاثة أقسام، القسم الأول: الصلح عن إقرار، وهو الصلح الواقع على إقرار المدعى عليه، القسم الثاني: الصلح عن إنكار وهو الصلح الواقع على إنكار المدعى عليه، القسم الثالث: الصلح عن سكوت وهو الصلح الواقع على سكوت المدعى عليه بأن لا يقر ولا ينكر) . الصلح يقسم إلى ثلاثة أقسام باعتبار الجواب الذي يجيبه المدعى عليه عند عقد الصلح. لأن الخصم في وقت الدعوى إما أن يسكت، أو أن يتكلم مجيبا، وهذا التكلم لا يخلو من أن يكون نفيا، أو إثباتا، ولذلك فالإثبات هو القسم الأول والنفي هو القسم الثاني، والسكوت هو القسم الثالث. ويخرج بعبارة " أن يتكلم مجيبا " التكلم بالألفاظ التي لا تعلق لها بالدعوى (تكملة رد المحتار)


مجيب
محمد نعمان خالد
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :76055
تاریخ اجراء :2021-02-17

فتوی پرنٹ