1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

شوہر کو ایڈز کی بیماری لگنے کی وجہ سے خلع لینے کا حکم

سوال

میری بہن کی شادی تقریباً چھ ماہ پہلے ہوئی، شادی سے پہلے ہمیں بہنوئی کی بیماری کا علم نہیں تھا، شادی کے بعد ڈاکٹروں کی رپورٹوں سے معلوم ہوا کہ بہنوئی کو شادی سے ایک سال قبل ٹی بی کا مرض تھا، بہنوئی کے والدین کے بقول ایک ماہ پہلے صحت ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے خون لگوانے پر اس کو ایڈز کا مرض لاحق ہو گیا، ہم نے بہت زیادہ ڈاکٹروں سے خود بھی چیک کروایا ہے، لیکن ڈاکٹروں کا کہنا یہ ہے کہ ٹی بی پہلے تھی، جو علاج میں غفلت کے سبب بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، ساتھ ایڈز کا مرض بھی بتاتے ہیں، ہم نے سیالکوٹ، گجرات اور لاہور جناح ہسپتال تک علاج کروایا ہے، ڈاکٹر ٹی بی کا علاج تو بتاتے ہیں، مگر ایڈز کے بارے میں کہتے ہیں ہم کنٹرول نہیں کر سکتے۔

ڈاکٹر حضرات نے ہماری بہن کو ہمبستری وغیرہ کے معاملات سے منع کر دیا ہے، کیونکہ ایڈز کے جراثیم پھیلنے کا خطرہ ہے، ابھی تک ہم نے اپنی بہن کے دو ایڈز کے ٹیسٹ کروائے ہیں، فی الحال الحمدللہ مرض لاحق نہیں ہوا، ڈاکٹر حضرات واضح علیحدگی کا مشورہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ایک جان کے پیچھے دوسری جان ضائع کرنے کا مشورہ نہیں دے سکتے۔ ازراہ کرم ہمیں شریعت کی روشنی میں اس کا حل بتایے۔

جواب

واضح رہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما اللہ کے نزدیک شوہر کو  نامردی کے علاوہ شوہر کو کوئی اورمرض لاحق ہونے کی صورت میں عورت کو فسخِ نکاح کا حق حاصل نہیں، مگرعلامہ کاسانی رحمہ اللہ کی تصریح کے مطابق  حضرت امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک شوہر کوجنون، برص یا  کوئی بھی ایسا مرض لاحق ہونے کی صورت میں عورت  اپنے خاوند سےخلع کا مطالبہ کر سکتی ہے کہ جس مرض کی موجودگی میں عورت کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا مشکل  اور نقصان کا باعث ہو۔

 مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں صورتِ مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ ایڈز (Aids)بھی انہی موذی امراض میں سے ہے جو خطرناک اور جان لیوا ہونے کے ساتھ ساتھ متعدی بھی ہے، اس لیے ایسی صورت میں امام محمد رحمہ اللہ کے مسلک پر عمل کرتے ہوئے عورت کو اپنے شوہر سےعلیحدگی کا اختیارملنا چاہیے، عصرِ حاضر کے بعض علمائے کرام نے بھی اس کی اجازت دی ہے، چنانچہ ہندوستان کی  اسلامی فقہ اکیڈمی کی طرف شائع کردہ جدید فقہی مباحث(ج:10،ص:10) میں مذکور ہے:

"ان تفصیلات کی روشنی میں غور کیا جائے تو ائمہ ثلاثہ رحمہم اللہ کے علاوہ حنفیہ کے نزدیک بھی ایڈز ان امراض میں سے ہے جن کی وجہ سے عورت کو حقِ تفریق حاصل ہوتا ہے، کیونکہ یہ برص اور جذام سے زیادہ قابلِ نفرت بھی ہے اور متعدی بھی اور چونکہ جنسی ربط بھی اس مرض کی منتقلی کا ایک اہم سبب ہے اس لیے ایڈز کا مرض بیوی کے حق میں نامردی کے حکم میں ہے، کیونکہ  وہ مرض کی  منتقلی کے خوف سے داعیہ ٴنفس کی تکمیل نہیں کر سکتی"

لہذاصورتِ مسئولہ میں ہماری رائے کے مطابق ضرورت کے پیشِ نظر عورت امام محمدرحمہ اللہ کے مسلک پر عمل کرتے ہوئے شوہر سے طلاق یا مہرمعاف کرنے کے عوض خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے اور اگر شوہر طلاق یا خلع دینے پر رضامند نہ ہو تو عدالت میں دعوی دائر کرکے جج کے سامنے ایڈز کی بیماری کے ثبوت اور گواہ پیش کرکے فسخِ نکاح کی ڈگری لے سکتی ہے، فسخِ نکاح کا فیصلہ جاری ہونے کی تاریخ سے عورت کی عدت شروع ہو جائے گی، عدت مکمل ہونے پر عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں شرعاً بااختیار ہو گی۔  


حوالہ جات

العناية شرح الهداية (4/ 305) دار الفكر، بيروت:

(وإذا كان بالزوج جنون أو برص أو جذام فلا خيار لها عند أبي حنيفة وأبي يوسف، وقال محمد لها الخيار) لأنه تعذر عليها الوصول إلى حقها لمعنى فيه فكان بمنزلة الجب والعنة فتخير دفعا للضرر عنها حيث لا طريق لها سواه، بخلاف جانبه لأنه متمكن من دفع الضرر بالطلاق۔

الفتاوى الهندية (1/ 526) دار الفكر، بيروت:

قال محمد - رحمه الله تعالى - إن كان الجنون حادثا يؤجله سنة كالعنة، ثم يخير المرأة بعد الحول إذا لم يبرأ، وإن كان مطبقا فهو كالجب وبه نأخذ كذا في الحاوي القدسي.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 327) دار الكتب العلمية، بيروت:

[فصل شروط لزوم النكاح]

(فصل) : وأما خلو الزوج عما سوى هذه العيوب الخمسة من الجب، والعنة والتأخذ والخصاء والخنوثة، فهل هو شرط لزوم النكاح؟ قال أبو حنيفة، وأبو يوسف ليس بشرط، ولا يفسخ النكاح به.

 

وقال محمد: خلوه من كل عيب لا يمكنها المقام معه إلا بضرر كالجنون والجذام والبرص، شرط لزوم النكاح حتى يفسخ به النكاح۔

حاشية الطحطاوي على الدرالمختار (213/2) كوئٹة:

وخالف محمد في الثلاثلة الأول الجنون والجذام والبرص وألحق به القهستاني كل عيب لا يمكنها المقام معه إلا بضرر، ونقله المؤلف في شرح المتقى.

تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (3/ 25) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:

وقال محمد - رحمه الله - ترد المرأة إذا كان بالرجل عيب فاحش بحيث لا تطيق المقام معه لأنها تعذر عليها الوصول إلى حقها لمعنى فيه فكان كالجب والعنة.

الموسوعة الفقهية الكويتيةدارالسلاسل – الكويت:

وما قاله الكاساني: وقال محمد: خلوه من كل عيب لا يمكنها المقام معه إلا بضرر، كالجنون، والجذام، والبرص شرط للزوم النكاح، حتى يفسخ به النكاح حيث جاءت هذه العيوب بصيغة التمثيل. هذا إلى جانب أن نصوص الفقهاء عامة كانت تعلل التفريق للعيب بالضرر الفاحش وبالعدوى، وعدم القدرة على الوطء، وهو ظاهر في جواز القياس عليها.


مجيب
محمد نعمان خالد
مفتیان
آفتاب احمد صاحب
سیّد عابد شاہ صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :76228
تاریخ اجراء :2022-03-05

فتوی پرنٹ