1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

دو بیٹے اور پانچ بیٹیوں کے درمیان میراث کی تقسیم

سوال

صورت مسئلہ یہ ہے کہ مرحوم محمد ابراہیم جن کی وفات سن 2000ء میں ہوئی،اس وقت ان کی زوجہ زندہ تھیں اور اب وفات ہوچکی ہیں،مرحوم نے دوبیٹے اور پانچ بیٹیاں چھوڑی ہیں،مرحوم نے ترکہ میں ایک گھر جس کی پیمائش 6580 مربع گز ہے اور اس وقت کے اعتبار سے تقریباً 60 لاکھ قیمت ہے،ایک کشتی جس کی قیمت دس لاکھ بیس ہزار روپے ہے،چار ہٹ(سمندر کے کنارے پکنک منانے والوں کے لیے کرایہ پر ٹھہرنے کی جگہ)جس کی ماہانہ آمدن چار لاکھ چھ ہزار روپے ہے،چھوڑی ہے۔

سوال یہ  ہے کہ میت کے اس ترکہ کو ان کے ورثاء میں شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں کس طرح تقسیم کیا جائے؟

جواب

مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحوم  کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب  الاداء ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، البتہ اگر کسی نے بطورِ تبرع یہ اخراجات ادا کر دیے ہوں تو پھر ان اخراجات کو نکالنے کی ضرورت نہیں،  اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب الاداء قرض  ادا کیا جائے ، اس کے بعد  ترکہ کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک   مرحوم کی طرف سے کی گئی جائز وصیت پر عمل کیا جائے گا، اس کے بعد جو تركہ باقی بچے اس کو (72) حصوں میں برابرتقسیم کرکے  مرحوم کی بیوی کو نو (9) حصے، ہر بیٹے کو دو (14) حصے اورہر بیٹی کو  ایک (7) حصہ دے دیا جائے،تقسیمِ میراث کا نقشہ درج ذیل ہے:

نمبر شمار

وارث

    عددی حصہ

     فيصدی حصہ

1

بیوی

9     

    12.5%

2

بیٹا

14

19.444%

3

بیٹا

14

19.444%

4

بیٹی

7

9.722%

5

بیٹی

7

9.722%

6

بیٹی

7

9.722%

7

بیٹی

7

9.722%

8

بیٹی

7

9.722%

واضح رہے کی مرحوم کی بیوی چونکہ ان کی وفات کے وقت حیات تھیں، اس لیے ان کا وراثتی حصہ ان کے ورثاء کے درمیان شریعت کے مطابق تقسیم ہو گا، البتہ اگر مذکورہ اولاد کے علاوہ ان کا کوئی اور وارث موجود نہ ہو تو اس صورت میں ان کا حصہ اسی اولاد کے درمیان 1/2کی نسبت سے تقسیم ہو گا، یعنی ہر بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ دیا جائے گا۔


حوالہ جات

القرآن الکریم: [النساء: 11]:

{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ}

القرآن الکریم: [النساء: 12]:

{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ }

السراجي في الميراث: (ص:8تا10) مكتبة البشرى كراتشي:

  

فيبدأ بأصحاب الفرائض وهم الذين لهم سهام مقدرة في كتاب الله تعالى ثم بالعصبات من جهة النسب، والعصبة : كل من يأخذ  ما أبقته  أصحاب الفرائض وعند الإنفراد يحرز جميع المال ، ثم بالعصبة من جهة السبب وهو مولى العتاقة ، ثم عصبته على الترتيب ثم الرد على ذوي الفروض النسبية بقدر حقوقهم، ثم  ذوي الأرحام ثم مولى الموالاة۔


مجيب
محمد نعمان خالد
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :16039
تاریخ اجراء :2022-03-12

فتوی پرنٹ