1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

مستحق زکوٰۃ شخص کےاکاؤنٹ میں رقم ٹرانسفرکرنےسےتملیک کاحکم

سوال

میری بیٹی بیمار ہے میں نےکچھ صدقہ اور کچھ زکاۃ کے پیسے اہلیہ کوبھیجے کہ یہ اپنےفلاں  بھائی کو دے دیں اور پیسےاس بھائی کےاکاؤنٹ میں بھیج دیئےپھربس اہلیہ کا کام صرف اتناتھاکہ وہ اپنےاس بھائ کو فون کرکےکہتیں کہ یہ پیسےآپکوہدیہ ہیں۔

لیکن اہلیہ نےاسکو فون نہیں کیابلکہ دودن بعدمجھ سےکہاکہ وہ پیسےمیں بھائی کونہیں دیتی بلکہ ان پیسوں سےاپنی اس بیمار بیٹی کاعقیقہ کرناچاہتی ہوں۔

اب سوال یہ ہےکہ وہ پیسےایک طرح سےمستحق کےقبضےمیں جاچکےہیں لیکن ابھی اس کویہ نہیں معلوم ہواکہ وہ پیسےاسکودیےہیں بلکہ وہ یہی سمجھ رہاہےکہ یہ پیسے میری اہلیہ یعنی اسکی بہن کےہیں۔

توکیامیری اہلیہ کےلیےجائزہےکہ وہ پیسےاس سےواپس وصول کرکےعقیقہ کرلیں،یا پھرمیری سابقہ نیت کی وجہ سےمیں وہ بیوی کےذریعےسے پیسےنہیں لےسکتا؟

جواب

زکوٰۃ کی ادائیگی کےلیےیہ ضروری ہےکہ فقیر(مستحق زکوٰۃ)کوزکوٰۃ کی ادائیگی کی نیت سےمال زکوٰۃ کا اس طرح مالک بنادیاجائے کہ اس(مستحق زکوۃ شخص)کومال زکوٰۃ میں ہرقسم کےمالکانہ تصرفات کا اختیار حاصل ہوجائے۔

شرعاًمستحق زکوٰۃ کوزکوٰۃ اورصدقےکاکسی شخص کومالک بنانےکےبعد ان سےدوبارہ زکوٰۃ یاصدقےکی رقم لیناجائزنہیں ہے۔

صورت مسؤلہ میں مستحق کےزکوٰۃ(بھائی)کےاکاؤنٹ میں صدقہ اورزکؤۃ کی رقم ٹرانسفرکرنے(ڈالنے) سےہی اکاؤنٹ ہولڈ(بھائی)کاقبضہ اورملکیت ثابت ہوجائےگی اگرچہ مستحق زکوٰۃ(بھائی)کویہ بات نہ بتائی جائےکہ یہ زکوٰۃ یاصدقےکی رقم ہے،کیونکہ کسی شخص کےاکاؤنٹ میں رقم ڈال دینااکاؤنٹ ہولڈرکی طرف سےشرعاًحکمی قبضہ کےقائم مقام ہے۔لہٰذاآپ کےلیےدوبارہ بھائی سےوہ رقم لینااورپھراس رقم سےعقیقہ کرنا شرعاًجائزنہیں ہے۔


حوالہ جات

صحيح البخاري (3/ 158):

قال النبي صلى الله عليه وسلم: «العائد في هبته كالكلب يعود في قيئه»

العناية شرح الهداية (9/ 56):

قال (الصدقة كالهبة) الصدقة لا تتم إلا مقبوضة لأنها تبرع كالهبة فلا تجوز فيما يحتمل القسمة

مشاعا، لما بينا في الهبة أن الشيوع يمنع تمام القبض المشروط، ولا رجوع فيها لأن المقصود هو الثواب وقد حصل فصارت كهبة عوض عنها۔

الفتاوى الهندية (4/ 406):

الصدقة بمنزلة الهبة في المشاع وغير المشاع وحاجتها إلى القبض، إلا أنه لا رجوع في الصدقة إذا تمت ويستوي إن تصدق على غني أو فقير في أنه لا رجوع فيها ومن أصحابنا رحمهم الله تعالى من يقول الصدقة على الغني والهبة سواء، كذا في المحيط.

إذا تصدق على رجل بدار ليس له أن يرجع، سواء كان المتصدق عليه فقيرا أو غنيا، كذا في المضمرات.

(فقہ البیوع 1/441):

ربما يقع تسليم النقود عن طريق التحويل المصرفي ( Bank Transfer ) وذلك بأن يكون لزيد رصيد في حسابه الجارى ( current Account ) لدى بنك ألف ، ولعمرو رصيد في حسابه الجارى ( current Account ) لدى بنك ب ، فيأمر زيد بنك ألف أن يحول مبلغاً إلى رصيد عمرو في بنك ب . فحينما يدخل المبلغ في رصيد عمرو في بنك ب ، يعتبر عمرو قابضاً لتلك النقود .

مجلة مجمع الفقه الإسلامي (6/ 558، بترقيم الشاملة آليا):

 في ضوء ما تقدم من أقاويل الفقهاء وأنظارهم في قبول وتسويغ واعتبار القبض الحكمي التقديري للأموال شرعًا، وترتيبِ الأحكام الشرعية للقبض الحقيقي عليه في الصور والحالات الآنفة الذكر، يمكننا تخريجُ بعضِ الفروع والمسائل المستجدّة التي يجري بها التعامل في المصارف وبيوت التمويل المعاصرة، وبناءُ أحكامها على قاعدة القبض الحُكمي للأموال، وذلك على النحو الآتي:

(أولا) يعتبر القيدُ المصرفي لمبلغٍ من المال في حساب العميل إذا أودعه في حسابه شخصٌ آخر أو جَعَله فيه بحوالةٍ مصرفيةٍ قبضًا حكميًّا من المستفيدِ صاحبِ الحسابِ، وتبرأ ذمةُ الدافع بذلك إذا كان مدينًا له به.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (7/ 5176):

 أن من صور القبض الحكمي المعتبرة شرعاً وعرفاً:

1) القيد المصرفي لمبلغ من المال في حساب العميل في الحالات التالية:

أ - إذا أودع في حساب العميل مبلغ من المال مباشرة أو بحوالة مصرفية.


مجيب
محمد عمر ولد حسین احمد
مفتیان
آفتاب احمد صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :76264
تاریخ اجراء :2022-03-13

فتوی پرنٹ