1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

کیا ہندو سے ملاقات کے وقت اس کو نمستے کہنا جائز ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  کیا ہندو سے ملاقات کے وقت اسے نمستے یا نمسکار کہنا جائز ہے؟

جواب

"نمستے" یا  نمسکار“  یہ دونوں "سنسکرت"  زبان کے  الفاظ ہیں، جو ہندؤں  میں سلام کے طور پر بولے جاتے ہیں۔  "بھارت کوش"  ہندی لغت میں اس کے لفظی معنی " احترام سے جھک کر کیا گیا سلام"  سے کیا گیا ہے۔ اور اردو کی مشہور و معروف لغت "فیروز اللغات" میں اس کا معنی " ہاتھ جوڑ کر تعظیم کرنا" سے کیا گیا ہے۔ (فیروز اللغات، ص: 1379)

 لہذا  اس کا استعمال کسی انسان کی تعظیم کے لیے کرنا، اسلام کے عقیدہٴ توحید کے خلاف ہے،  اس لیے مسلمان ہرگز اسے استعمال نہ کرے۔ البتہ غیرمسلموں کے ساتھ آفس یا فون پر ملاقات کے دوران ”آداب عرض“ ، ”السلام علی من اتبع الہدی“ یا کوئی ایسا لفظ استعمال کیا جاسکتا ہے جو غیر مسلموں  کا مذہبی شعار نہ ہو اور نہ ہی اس کے اندر شرکیہ معانی  پائے جاتے ہوں۔


حوالہ جات

في  سنن أبي داؤد:

عن ابن عمر رضی اللہ تعالی  عنھما، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: من تشبه بقوم فهو منهم. ( حدیث نمبر: 4031)

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:

أن التشبه إنما يكره في المذموم وفيما قصد به التشبه.  (رد المحتار: 1/646)


مجيب
عبدالعظیم بن راحب خشک
مفتیان
فیصل احمد صاحب
شہبازعلی صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :76718
تاریخ اجراء :2022-03-16

فتوی پرنٹ