1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

قرض سے نجات کی مسنون دعا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ   میرے اوپر بہت سارا قرضہ ہو چکا ہے، براہ کرم قرض سے نجات کے لیے مسنون دعا بتا دیں۔

جواب

قرض کی ادائیگی کے لیے  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم کی حضرت علی رضی اللہ  تعالی عنہ کو سکھلائی ہوئی درج ذیل دعا چلتے پھرتے خصوصاً ہر فرض نماز کے بعد پڑھتے رہیں۔  اگر پہاڑ کے برابر بھی قرض ہوگا تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ان شاء اللہ اس کی ادائیگی کا غیب سے انتظام فرمادیں گے۔

’’اَللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَنْ مَّنْ سِوَاكَ‘‘.

ترجمہ:

اے اللہ ! اپنے حرام سے بچاتے ہوئے اپنے حلال کے ذریعے میری کفایت فرما، اور اپنے فضل سے دوسروں سے مجھے بے نیاز فرمادے۔


حوالہ جات

في سنن الترمذي:

 عن علي رضی اللہ تعالی عنہ، أن مكاتبا جاءه فقال: إني قد عجزت عن مكاتبتي فأعني، قال: ألا أعلمك كلمات علمنيهن رسول الله صلى الله عليه وسلم،  لو كان عليك مثل جبل صير دينا،  أداه الله عنك، قال: قل: اللهم اكفني بحلالك عن حرامك، وأغنني بفضلك عمن سواك. (حدیث نمبر: 3563)


مجيب
عبدالعظیم بن راحب خشک
مفتیان
فیصل احمد صاحب
شہبازعلی صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :76722
تاریخ اجراء :2022-03-16

فتوی پرنٹ