1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

"بی سی "میں پہلی کمیٹی لینےکےلیےفیس(اضافی رقم)کی شرط لگانا

سوال

سوال:مجھے ضرورت کی وجہ سے کمیٹی ڈالنی پڑی ، جن کے پاس ڈالی وہ پاکستان میں (oraan)اوڑان کے نام سے کمپنی چلاتے ہیں جس کا خاص مقصد آنلائن کمیٹی ہے اور پاکستانی پوری دنیا سے کمیٹی ڈالتے ہیں، اس میں  پہلے مہینے کمیٹی نکلوانے کے لئے 7 فیصد فیس دینی ہوگی، مثا ل کے طور پر 10 مہینوں کی کمیٹی 20000 ہزار روپے ماہانہ  کےاعتبارسے دو لاکھ ہو گی، مگر پہلے مہینہ کمیٹی لینی ہو تو 21400 روپے ماہانہ جمع کروانے ہوں گے، 1400 اضافی رقم  انکے مطابق جلدی کمیٹی کی فیس ہے، جتنا بعد میں نکلوائیں گے فیس کم  ہوگی اور 4 مہینہ کے بعد نکلوانے پر کوئی فیس نہیں، مگر پیسے دو لاکھ ہی ملیں گے، اور سن کے مطابق شرعی سرٹیفائڈ ہیں،براہ مہربانی اس کی وضاحت کردیں۔ جزاک اللہ

کمپنی کالنک  درج ذیل ہے:https://www.oraan.com/

 

جواب

صورت مسئولہ میں سائل سےتفصیل معلوم کی گئی  کہ یہ اضافی رقم کس کی ملکیت ہوتی ہے،توسائل کاکہناتھاکہ اضافی رقم کمپنی خودوصول کرتی ہے،باقی تفصیل معلوم نہیں ۔

سوال میں مذکورکمیٹی کی رقم پرکسی ایک شریک سےاضافی رقم لیناشرعاجائزنہیں  اس کی دووجہ ہیں:

۱۔ایک وجہ تویہ ہےکہ قرض پراضافی نفع ہےجوسودہونےکی وجہ سےحرام ہوتاہے،اس لیےکہ کمیٹی میں ہر ایک  کی رقم قرض ہوتی ہے،توجوشخص اضافی پیسےلےرہاہے،اس کےپیسےبھی اگرکمیٹی میں شامل ہوں گےتووہ 20000قرض کےبدلےگویاکہ 21400 روپےلےگا،جس میں 1400روپےاضافی نفع  قرض پرنفع شمار ہوگاتویہ سودہونےکی وجہ سےحرام ہوگا۔

۲۔دوسری وجہ یہ ہےکہ اگریہ اضافی رقم کمیٹی کامنتظم وصول کرتاہوچاہےوہ خودکمیٹی میں شریک ہویانہ ہوتوبھی یہ وصول کرناشرعادرست نہیں ہوگا،کیونکہ یہ فیس 4مہینےسےپہلےکمیٹی وصول کرنےوالوں پراس رقم کےتناسب سےلازم کی جاتی ہےشرعایہ سود اوررشوت  میں داخل ہونےکی وجہ سےحرام ہوگااگرچہ اس کو فیس کےنام سےوصول کیاجائے۔

مذکورہ بالادونوں صورتوں میں کمیٹی کےجوازکی شرط کی خلاف ورزی بہرحال لازم آرہی ہے،کیونکہ مروجہ کمیٹی کےجوازکی بنیادی شرط یہ ہےکہ تمام شرکاء برابررقم جمع کروائیں ،جبکہ یہاں چندشرکاء کی طرف سےاضافی رقم دی جارہی ہے،اس لیےاس طرح کی کمیٹی میں شرکت کرناشرعاجائزنہ ہوگا۔


حوالہ جات

"ردالمحتارعلی الدرالمختار" 20/93  کل قرض جرنفعافہوحرام ای اذاکان مشروطا۔

"الجامع الصحيح سنن الترمذي"3 / 258:

عن أبيه عن أبي هريرة قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي في الحكم قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وعائشة وابن حديدة وأم سلمة قال أبو عيسى حديث أبي هريرة حديث حسن صحيح۔


مجيب
محمّد بن حضرت استاذ صاحب
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :75874
تاریخ اجراء :2022-02-07

فتوی پرنٹ