1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

درودتاج پڑھنا کیساہے؟

سوال

سوال:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! یہ درود تاج ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے کہ اسکو پڑھنا کیسا ہے؟

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ ❁ صَاحِبِ التَّاجِ وَالْمِعْرَاجِ وَالْبُرَاقِ وَالْعَلَمِ ❁ دَافِعِ الْبَلآءِ وَالْوَبَآءِ وَالْقَحْطِ وَالْمَرَضِ وَالْأَلَمِ ❁ اِسْمُهُ مَكْتُوبٌ مَرْفُوعٌ مَشْفُوعٌ مَنْقُوشٌ فِي اللَّوْحِ وَالْقَلَمِ ❁ سَيِّدِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ ❁ جِسْمُهُ مُقَدَّسٌ مُعَطَّرٌ مُطَهَّرٌ مُنَوَّرٌ فِي الْبَيْتِ وَالْحَرَمِ ❁ شَمْسِ الضُّحَى ❁ بَدْرِ الدُّجَى ❁ صَدْرِ الْعُلَى ❁ نُورِ الْهُدَى ❁ كَهْفِ الْوَرَى ❁ مِصْبَاحِ الظُّلَمِ ❁ جَمِيلِ الشِّيَمِ ❁ شَفِيعِ الْأُمَمِ ❁ صَاحِبِ الْجُودِ وَالْكَرَمِ ❁ وَاللهُ عَاصِمُهُ ❁ وَجِبْرِيلُ خَادِمُهُ ❁ وَالْبُرَاقُ مَرْكَبُهُ ❁ وَالْمِعْرَاجُ سَفَرُهُ ❁ وَسِدْرَتُ الْمُنْتَهَى مَقَامُهُ ❁ وَقَابَ قَوْسَيْنِ مَطْلُوبُهُ ❁ وَالْمَطْلُوبُ مَقْصُودُهُ ❁ وَالْمَقْصُودُ مَوْجُودُهُ ❁ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ ❁ خَاتِمِ النَّبِيِّينَ ❁ شَفِيعِ الْمُذْنِبِينَ ❁ أَنِيسِ الْغَرِيبِينَ ❁ رَحْمَةٍ لِلْعَالَمِينَ ❁ رَاحَةِ الْعَاشِقِينَ ❁ مُرَادِ الْمُشْتَاقِينَ ❁ شَمْسِ الْعَارِفِينَ ❁ سِرَاجِ السَّالِكِينَ ❁ مِصْبَاحِ الْمُقَرَّبِينَ ❁ مُحِبِّ الْفُقَرَاءِ وَالْغُرَبَاءِ وَالْمَسَاكِينِ ❁ سَيِّدِ الثَّقَلَيْنِ ❁ نَبِيِّ الْحَرَمَيْنِ ❁ إِمَامِ الْقِبْلَتَيْنِ ❁ وَسِيلَتِنَا فِي الدَّارَيْنِ ❁ صَاحِبِ قَابَ قَوْسَيْنِ ❁ مَحْبُوبِ رَبِّ الْمَشْرِقَيْنِ وَالْمَغْرِبَيْنِ ❁ جَدِّ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ ❁ مَوْلَانَا وَمَوْلَى الثَّقَلَيْنِ ❁ أَبِي الْقَاسِمِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ❁ نُورٍ مِنْ نُورِ اللهِ ❁ يَا أَيُّهَا الْمُشْتَاقُونَ بِنُورِ جَمَالِهِ ❁ صَلّوُا عَلَيْهِ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

 

جواب

دورود تاج  کےالفاظ احادیث سےثابت نہیں نیزاس میں بعض الفاظ ایسے ہیں جو موہم شرک ہیں ،مثلا  دافع البلاء والوباء والقحط  والمرض  والألم ،اس لیےاس درودکوپڑھنےسےاحترازکرناچاہیے،اس کےمقابلےمیں سب سےبہتر دوردابراہیمی ہے،جس کےالفاظ احادیث صحیحہ سےثابت ہیں،اس کےپڑھنےکااہتمام کرناچاہیے۔


حوالہ جات

درود تاج سے متعلق حضرات اکابر رحمہم اللہ تعالی کے چند فتاوی:
فتاویٰ رشیدیہ میں ہے:
’’اس درود شریف کے جو کچھ فضائل بعض جاہل لوگ بیان کرتے ہیں بالکل غلط ہیں۔۔۔۔
پس کس طرح درود کے اس صیغے کو باعث ثواب قرار دے سکتے ہیں اور صحیح حدیث میں جو درود کے صیغے آئے ہیں ان کو چھوڑنا اور اس میں بہت کچھ ثواب کی امید رکھنا اور اس کا ورد کرنا گمراہی و بدعت ہے اور چونکہ اس میں کلماتِ شرکیہ بھی ہیں، عوام کے عقیدے کی خرابی کا اندیشہ ہے، لہٰذا اس کا پڑھنا ممنوع ہے، پس درود تاج کی تعلیم دینا ایسا ہی ہے کہ عوام کو زہر قاتل دے دیا جائے، کیونکہ بہت سے آدمی عقیدۂ شرکیہ کے فساد میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ان کی ہلاکت کا موجب ہوتا ہے۔‘‘
(فتاویٰ رشیدیہ، ص: 457)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
’’ابتداء معلوم نہیں کس نے ایجاد کیا، جو فضائل عوام بیان کرتے ہیں، وہ محض لغو اور غلط ہیں، احادیث میں جو درود وارد ہیں، وہ یقینا "درود تاج" سے افضل ہیں، نیز اس میں بعض الفاظ شرکیہ ہیں، اس لئے اس کو ترک کرنا چاہئے۔ فتاویٰ رشیدیہ میں اس کے متعلق جو کچھ لکھا ہے وہ صحیح ہے۔‘
(فتاویٰ محمودیہ،ج:۱،ص:۲۲۲، ط: جامعہ فاروقیہ کراچی )
’’  ان کی کوئی سند صحیح ثابت نہیں ، جو تعریفیں لکھی ہیں، بے اصل ہیں، بجائے ان کے قرآن پاک کی تلاوت کی جائے، درودشریف، کلمہ شریف، استغفارپڑھا جائے‘‘ ۔
(فتاویٰ محمودیہ،ج:۱،ص:۲۲٣، ط: جامعہ فاروقیہ کراچی )
فتاویٰ رحیمیہ میں ہے:
’’درود تاج کے الفاظ قرآن پاک اور حدیث شریف کے نہیں ہیں اور صحابہ کرام تابعین اور سلف صالحین سے درود تاج پڑھنا ثابت نہیں ہے، درود تاج سینکڑوں برس بعد کی ایجاد ہے، جس درود کے الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب کرام کو سکھلائے ہیں، (جیسے درود ابراہیم وغیرہ) کوئی دوسرا درود جو ایجاد ہو، اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے صادر شدہ الفاظ اور کسی امت کے ایجاد کردہ الفاظ کی برکت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایجاد کردہ اور تعلیم دیئے ہوئے الفاظ میں جو برکت اور کشش ہے وہ دیگر کلمات میں نہیں ہے۔ اور اگر وہ دوسرے الفاظ خلاف سنت بھی ہوں تو پھر کوئی نسبت ہی باقی نہیں رہتی۔ پھر تو وہ فرق ہو جاتا ہے، جو روشنی اور اندھیرے میں ہے۔‘‘
(فتاویٰ رحیمیہ، ج:٢، ص:٨٥، ط: دارالاشاعت )


مجيب
محمّد بن حضرت استاذ صاحب
مفتیان
آفتاب احمد صاحب
سیّد عابد شاہ صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :75846
تاریخ اجراء :2022-02-07

فتوی پرنٹ