1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

ایک دفعہ شریعت کےمطابق زمین تقسیم کی  گئی، بھائی کی وفات کےبعددو  بھتیجےاختلاف کررہےہیں

سوال

سوال:کیافرماتےہیں  علماءکرام اس مسئلےکےبارےمیں کہ محمدبخش بوزدارکا 30 سال پہلےانتقال ہوگیا،جس کےچاربیٹے، ایک بیٹی تھی،فیض محمد ،اللہ رکھیو،گل حمد،لونگ ا وربیٹی بی بی حولاں،تمام بہن بھائیوں نےاپنےباپ کےانتقال کےبعداپنی بہن کوحصہ دےدیا،وہ آج تک اس کوکاشت کررہی ہے،باقی بھائیوں کےپاس جوزمین ہےوہ اسی طرح اس کوکاشت کرتےرہے،جس طرح وہ اپنےوالدمرحوم کےزمانےمیں کاشت کرتےتھے،جیسی تھی ویسی  ہی ہے،مطلب اس میں کوئی ردوبدل نہیں کیا،اورباپ کےانتقال کےبعد بھی 30سال تک کاشت کرتےرہے،ان بھائیوں میں کبھی بھی تقسیم پرتنازع نہیں ہوا،سب رضا ء مندی  وخوشی کےساتھ کاشت کرتےرہے،ان بھائیوں میں سےایک بھائی فیض محمد کاچند سال پہلےانتقال ہوگیاہے،فیض محمدکےچاربیٹےدوبیٹیاں ہیں،زمین کےدوحصےہیں،ان میں سےدوبیٹوں کوزمین کاوہ حصہ ملا،جواس کےچچااللہ رکھیوکےساتھ ہے،زمین کےاس حصہ کواورچچااللہ رکھیوکی زمین والےحصےکوسرکاری پانی کی نالی لگتی ہے،مطلب پانی کی تکلیف نہیں،البتہ چچااللہ رکھیووالےحصےکوسرکاری روڈلگتاہے،جوکہ اللہ رکھیو کےباپ کےبعد بناہے،اس کی زندگی میں نہیں بناتھا،اللہ رکھیو کےبھائی فیض محمدمرحوم نےکبھی بھی اپنےبھائی اللہ رکھیو کےساتھ اس بات پرتنازع نہیں کیاکہ میری زمین کوروڈنہیں لگتا،اورمرحوم فیض محمدکی زندگی میں دونوں بھائیوں یعنی فیض محمداوراللہ رکھیو کی زمین میں آم کےباغ تھے،اللہ رکھیو نےاپنےحصہ کاباغ ختم کیاتوفیض محمد نےاس پرکوئی اعتراض نہیں کیا،یہ دلیل ہےکہ فیض محمداس تقسیم پرراضی تھا،اب فیض محمد کےانتقال کےبعداس کےان  دوبیٹوں (جن کی زمین اپنےچچا اللہ رکھیو کےساتھ لگتی ہے) نےتنازع  کیاہےکہ ہماری زمین کوسرکاری روڈنہیں لگتا،لہذاہمیں یہ تقسیم قابل قبول نہیں،ایسی تقسیم کی جائےکہ ہماری زمین کوبھی سرکاری روڈ لگے،جبکہ چچااللہ رکھیونےکہاکہ یہ روڈداداکی زندگی میں نہیں تھا،اوریہ تقسیم اس زمانےسےچلی آرہی ہے،اورآپ کےوالدفیض محمد نےبھی مجھ سےکبھی اس بات کاتقاضانہیں کیا،باقی آپ کومیں اپنی زمین سےآنےجانے،فصل اٹھانےکاکچاراستہ دیتاہوں،لیکن وہ بضدہیں کہ یہ تقسیم ہمیں قبول نہیں،اب سوال یہ ہےکہ :

۱۔کیافیض محمدمرحوم کےدوبیٹوں کااپنےچچا سےیہ مطالبہ شرعا وقانونا جائزہےیانہیں؟

۲۔کیابھتیجوں کازبردستی تقسیم کرناجائزہوگا؟جبکہ چچا راضی نہیں ہے۔

نوٹ:فیض محمد مرحوم کی باقی اولاد کااپنےچچا اللہ رکھیو کےساتھ کوئی تنازع نہیں ۔

 

جواب

صورت مسئولہ میں عرصہ  30سال گزرنےکےبعددوبارہ تقسیم کامطالبہ شرعااورقانونا جائزنہیں،کیونکہ اس تقسیم کےاصل مستحق(جن کوتقسیم کااختیاراوراستحقاق تھاوہ)چچاوغیرہ ہیں،اتناعرصہ جب وہ اس تقسیم پرراضی تھے،زندگی میں کوئی اعتراض نہیں کیاگیاتوبھائیوں میں سےصرف کسی ایک بھائی کے دوبیٹوں کادوبارہ تقسیم کامطالبہ شرعادرست نہیں ہے۔

سائل کی وضاحت کےمطابق چونکہ سرکاری روڈبعدمیں بناہے،اس لیےصرف اس بناء پردوبارہ تقسیم کامطالبہ کرناجائزنہیں ہوگا۔

ہاں اگرچچاوغیرہ سمجھتےہوں کہ اصل زمین کی تقسیم کے وقت واقعتا گڑبڑہوئی تھی اوراس وقت پانی اورسرکاری روڈکاخیال نہیں رکھاگیاتھااورایک چچا کےعلاوہ باقی چچا بھی دوبارہ تقسیم پرتیارہوں تواس صورت میں دوبارہ تقسیم کی جاسکتی ہے،ورنہ موجودہ صورت میں دوبارہ تقسیم شرعادرست نہیں ہے،کیونکہ صرف دوبھتیجوں کوتقسیم پراعتراض ہے،باقی دوسرےبھائی یادیگربھتیجوں   کونہ کوئی اعتراض ہےنہ کوئی تنازعہ ۔


حوالہ جات

"الدر المختار للحصفكي" 6 / 574:

(ولو ظهر غبن فاحش) لا يدخل تحت التقويم (في القسمة) فإن كانت بقضاء(بطلت)اتفاقا لأن تصرف القاضي مقيد بالعدل ولم يوجد(ولو وقعت بالتراضي)تبطل أيضا(في الاصح)لأن شرط جوازها المعادلة ولم توجد فوجب نقضهاخلافا لتصحيح كالخلاصة۔

"رد المحتار " 26 /,40 36:

( ولو اقتسما دارا وأصاب كلا طائفة فادعى أحدهما بيتا في يد الآخر أنه من نصيبه وأنكر الآخر فعليه البينة )لأنه مدع۔۔۔۔۔۔۔ (وتسمع دعواه ذلك)أي ماذكرمن الغبن الفاحش(إن لم يقر بالاستيفاء  وإن أقر به لا ) تسمع دعوى الغلط والغبن للتناقض ، إلا إذا ادعى الغصب فتسمع دعواه ، وتمامه في الخانية۔


مجيب
محمّد بن حضرت استاذ صاحب
مفتیان
آفتاب احمد صاحب
سیّد عابد شاہ صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :75861
تاریخ اجراء :2022-02-09

فتوی پرنٹ