1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

شوہرنےسوتیلی بیٹی کوشہوت سےہاتھ لگایاتوکیاحکم ہوگا؟

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !امام صاحب میرانام زوہیب ہے،میری بیوی کانام سلمی ہے،میری بیوی کےپہلےشوہر سےدوبیٹیاں ہیں،بڑی بیٹی کی عمر 16سال ہے،اورچھوٹی بیٹی کی عمر 11سال ہے،آپ سےیہ جانناچاہتاہوں کہ میں بہک گیاتھا،اورمیں جس کوبیٹی بناکرلایاتھا اس کےقریب جاکرشہوت میں اس کےجسم کوہاتھ لگایاہے،اورمجھےاس بات کاعلم نہیں تھاکہ میرانکاح میری بیوی سےٹوٹ گیاہے،یہ بات میری بیوی کوپتہ لگ گئی تھی،اس نےاوراس بیٹی نےمجھےمعاف کردیااورہم ساتھ رہنےلگے،اس کےبعدہماراایک بیٹابھی ہواہے،میں دین سےبہت دورتھا،مجھےبالکل کسی بات کاعلم نہیں تھا،مجھےیہ بات اب پتہ لگی کہ ہمارانکاح ٹوٹ گیاہے،امام صاحب میں اب بدل گیاہوں،اللہ سےتوبہ کرلی ہے،ہرطرح کےگناہ سے،نمازبھی باجماعت پڑھتاہوں ،اورمیری بیوی کوبھی میرےساتھ کی ضرورت ہے،بچہ ہونےکےبعدبیوی کی ریڑھ کی ہڈی میں مسئلہ ہوگیاہے،اس کےماں باپ بھی نہیں ہیں،کوئی کمانےوالابھی نہیں ہے،بچوں کاساتھ ہے،ہم ساتھ رہناچاہتےہیں،ہمارےلیےکوئی راستہ نکالیں ،جوبھی راستہ ہوگا،ہم اس پرعمل کرنےکےلیےتیارہیں،اوربرائےمہربانی جلدی جواب کےمنتظرہیں کیونکہ 8ماہ سےہم الگ رہ رہےہیں،امیدکرتاہوں کہ جواب ہمارےحق میں ہوگا۔

 

جواب

صورت مسئولہ میں اگرواقعتاسوتیلی بیٹی کےجسم  کوشہوت سےہاتھ لگایااوردرمیان میں کوئی ایساحائل بھی نہیں تھا،جوبیٹی کےبدن کی حرارت محسوس کرنےسےمانع ہوتوایسی صورت میں آپ کانکاح ختم ہوگیاہے،بیوی آپ پرہمیشہ کےلیےحرام ہوگئی ہے،اب دوبارہ نکاح کی کوئی صورت نہیں،میاں بیوی میں سےکوئی ایک "متارکت"کرلےیعنی ایک دفعہ یہ کہہ دےکہ میں  تجھ سےتعلق ختم کرتاہوں،یاپھرشوہرطلاق دےکرعلیحدہ کردے،اس وقت کےبعدسےبیوی عدت گزارکرکہیں اورشادی کرسکتی ہے،آپ دونوں کی دوبارہ شادی کسی صورت میں جائزنہیں۔      ۔۔۔


مجيب
محمّد بن حضرت استاذ صاحب
مفتیان
آفتاب احمد صاحب
سیّد عابد شاہ صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :76040
تاریخ اجراء :2022-02-15

فتوی پرنٹ