1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

دامادکہتاہےکہ میں نے"طلاق دےدونگا"کہاتھا،جبکہ سسر کہتاہے"طلاق دیدی ہے"کالفظ کہاتھا

سوال

سوال: السلام و علیکم !  گزشتہ سال جون  میں میری اپنی اہلیہ سے ناراضگی ہوئی کیونکہ انہوں نے انشورنس کمپنی سے مجھ سے پوچھے بغیر  اپنے طبّی اخراجات وصول کر لئے،اصولی طور پر یہ درست نہیں تھا کیونکہ انکی انشورنس میری کمپنی نے کرا رکھی تھی اور تمام اخراجات کی رسیدیں کمپنی میں جمع کرانا ہوتی ہیں براہ راست انشورنس کمپنی سے رقم ان کے بینک میں پاکستان میں  جمع ہونا درست نہیں تھا ۔ میں ان کو تمام طبّی اخراجات ادا کرچکا تھا اور ان سے کہا تھا کہ رسیدیں سنبھال کر رکھیں تاکہ میں اپنی کمپنی میں جمع کرواسکوں ،  ان کے اس عمل سے مجھ کو شدید تکلیف اور صدمہ ہوا اور میری ساکھ بھی خراب ہوئی،میں متحدہ عرب امارت میں ملازمت کرتا ہوں اور اس وقت میری اہلیہ اپنے والد کے گھر میں تھیں ، میں نے اپنے سسر کو 10 جولائی 2020 کو  فون کیا اور ان سے اپنی اہلیہ کی شکایت کی،انہوں نے اس بات کو سنجیدہ لینے کے برخلاف مجھے سمجھانا شروع کردیا اور کہا کہ یہ کوئی غلط بات نہیں، میرے لئے یہ اور حیران کن بات تھی کیونکہ میرے سسر خود سعودی عرب میں ملازمت کر چکے تھے اور یہ اصول ہر جگہ موجود ہیں ۔

میں نے اپنے سسر سے واضح الفاظ میں کہا کہ  میں اس طرح کے طرز عمل کو برداشت نہیں کرسکتا ،شوہر اور بیوی میں اعتماد کا رشتہ ہونا چا ہیے  میں نے اپنے سسر سے کہا کہ میں خاتون کو پہلی طلاق دے دونگا اگر انہوں نے دوبارہ اس طرح کی کوئی حرکت کی ۔میرے سسر نے  مجھے سمجھایا کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کروں ۔ ہماری تقریباً آدھا گھنٹہ بات ہوئی ۔ انہوں نے مجھے کہا کہ وہ اس بارے میں میری اہلیہ کو سمجھاد ینگے  اور مجھے صبر کی تلقین کے ساتھ فون بند کردیا ۔فون بند ہونے کے کچھ گھنٹے بعد وہ کراچی میں  میرے گھر گئے اور والدہ اور بہنوں سے ناراض ہوئے کہ  آپ کے بیٹے نے ہماری بیٹی کو طلاق دے دی ہے ۔

میرے گھر والوں نے مجھے فون کیا اور معلوم کیا کہ میری کیا بات ہوئی ہے؟ میں نے گھر والوں کو بتایا کہ میں نے "دے دونگا" کا لفظ استعمال کیا ہے "دے دی ہے " کا نہیں۔ میرے گھر والوں نے میرے سسر کو سمجھایا کہ ان کے سننے میں غلطی ہو گئی ہے ۔ لیکن میرے سسر  بضد رہے کہ ان کی سماعت میں کوئی غلطی نہیں ہوئی اور گھر والوں کو  کہا کہ چارمہینےکےاندررجوع کریں۔(نوٹ فرما لیں کہ میرے سسر کی سماعت کمزور ہےاوروہ سماعت امداد  "hearing aid" کا استعمال کرتے ہیں ) ۔

میں نے اسی وقت کچھ علما سے مشورہ کیا اور سب نے جواب دیا کہ میرے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

اس واقعے کے بعد نہ میرا اپنی اہلیہ سے کوئی رابطہ ہوا، نہ انہوں نے کوئی کوشش کی ، کورونا کی وجہ سے نہ میں کراچی جا سکا کہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرسکوں ، میں نے دو  مہینے پہلے اپنی اہلیہ سے  رابطہ کرنے کی کوشش کی ، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا ، ان کے گھر والوں کو بھی فون کیا لیکن جواب ندارد ۔

اس عیدالفطر والے دن میری والدہ اور بھائی میرے سسرال گئے ،میرے سسر اور ساس نے نہ انکو میری اہلیہ سے ملوایا ،نہ میرے بچے سے ،میرے سسر بضد رہے کہ رشتہ ختم ہو گیا ہے، میں الله کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں نے اپنے سسر کو فون نیک نیتی سے اور اپنی اہلیہ کی سرزنش کے لئے کیا تھا ، میں نے "طلاق دے دونگا" کے الفاظ ادا کیے تھے، کیونکہ واقعی میں اپنی اہلیہ کی کچھ حرکات کی وجہ سے بہت دلبرداشتہ تھا ۔

لیکن میرے سسر اور ساس بضد ہیں کہ میں نے "دے دی ہے"  کے الفاظ استعمال کیے تھے  اور رشتہ ختم ہو گیا ہے ،میری ساس نے بھی اصرار کیا کہ انہوں نے بھی میرے الفاظ فون پر  سن لئے تھے۔  واللہ عالم ۔ 

اس صورت حال میں مہربانی فرما کر بتا دیں کیا واقعی طلاق ہو گئ ہے ۔ کیا میری بات اس بابت مستند ہے یا میرے سسر اور ساس  کی؟ ۔ 

 

جواب

صورت مسئولہ میں شوہرکےقول کےمطابق طلاق واقع نہیں ہوئی،کیونکہ شوہرخودقسم کھانےپرتیارہےکہ اس نے"طلاق دےدونگا"کےالفاظ استعمال کیےہیں،چونکہ  مستقبل کےالفاظ سےطلاق واقع نہیں ہوتی،اس لیےشوہرکےقول کےمطابق طلاق واقع نہ ہوگی ۔

دوسری بات یہ کہ اگرسسرصاحب نےواقعی"دیدی ہے"کےالفاظ سنےہیں توسائل کی تفصیل کےمطابق سسرکےکانوں کی سماعت کامسئلہ ہے،جس میں غلطی کاامکان بہرحال موجودہے،اسی طرح اس معاملےمیں سسر صاحب پرشرعااپنےدعوی کوثابت کرنےکےلیےدوگواہ پیش کرنابھی ضروری ہیں،جبکہ  موجودہ صورت میں صرف ایک عورت(ساس صاحبہ) گواہی دےرہی ہے،اس لیےسسرکی بات شرعامعتبرنہیں  ہوسکتی،ایسی صورت میں شوہراپنی بات پرقسم کھالےتواس کی بات معتبرہوگی اورطلاق واقع نہ ہوگی،میاں بیوی کاسابقہ نکاح برقراررہےگا۔


مجيب
محمّد بن حضرت استاذ صاحب
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
سعید احمد حسن صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :76048
تاریخ اجراء :2022-02-16

فتوی پرنٹ