1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

میاں بیوی کی مشترک آمدنی سےمکان بنایاگیا،شوہرفوت ہوگیا،ورثہ میں  بیوہ اوربیٹی زندہ ہیں،ایسی صورت میں کیاشوہرکےبہن بھائی کابھی میراث میں حصہ ہوگا؟

سوال

سوال:السلام علیکم ورحمتہ اللہ!میرا نام مریم سلمان ہے میری ایک جوان غیر شادی شدہ بیٹی ہے اور میرے شوہر کا انتقال ۲ ماہ قبل ہوا ہے۔میں گارڈن سٹی گلشن معمار میں اپنےمرحوم شوہرکےذاتی مکان میں رہتی ہوں۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہ گھر میرے شوہر کے نام ہے اور شوہر کی وفات کے بعد اس گھر کو اپنے نام پر کروانا ضروری ہے
جس کے لئے میں نے متعلقہ ادارے میں رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ چونکہ آپکی اولاد میں بیٹا نہیں ہے تو یہ گھر آپ کہ شوہر کےبہن بھائیوں میں بھی تقسیم ہو گاجو کہ دو بہنیں اور ایک بھائی ہے اور ایک بہن کی وفات ہو گئی ہے (میرے ساس اور سسر کا کافی عرصہ پہلے انتقال ہو چکا ہے)۔

بات کریں اس گھر کی تومیرے شوہر دبئی میں جاب کرتے تھے تو اس جاب کی انکم میں سے میرے شوہر نے مجھے مختلف اوقات میں سونا بنوا کر دیا جو خالص میری ملکیت تھا پھر ایک موقع پر جب وہ دبئی سے گھر آئے تو ہم نے آپس میں مشورہ کر کے ایک پراپرٹی دیکھی مگر اس وقت تک میرے شوہر کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ پلاٹ خریدا جا سکے تو ہم نے آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ میں اپنا زیور (سونا)جو کہ ساڑھے 7تولے تھا بیچ کر پلاٹ لے لیتے ہیں اور جو بنک بیلنس تھا اس کو اسی طرح پڑا رہنے دیں گے تاکہ جب پلاٹ پر تعمیرات کرنی ہوں گی تو اس وقت یہ پیسا کام آئے گا۔

میں نےاپناسونابیچااورپلاٹ لےلیا،یہ سونامیں نے واپسی کے مطالبہ کی نیت سے نہیں دیا تھا بلکہ اپنی مرضی سے اپنے شوہر کی مدد کے لئے دیا تھا تاکہ ہم مل کر اپنا گھربنائیں،یاد رہے  یہ سارا سونا میرے شوہر نے شادی کے بعد بنوا کر دیا تھا اس میں میرے سسرال کی طرف سے کوئی سوناشامل نہیں،سسرال کی طرف سے مجھے ایک سونے کا سیٹ شادی کے موقع پر دیا گیا تھا جو کہ بعد میں میرے شوہر نے میری مرضی شامل کر کہ مجھ سے لے کر اپنی بہن کو اس کہ شادی پر ہدیہ کر دیا تھااس کہ بعد میرے شوہر نے دبئی میں جاب کرتے  ہوئے جو بنک بیلنس بنایا اُس سے ہم نے اپنے پلاٹ کی تعمیرات کاکام شروع کروادیااور اپنا موجودہ گھر تعمیر کیا۔

اب مجھے بتایا جائے کہ اس گھر میں میرے سسرال والوں کا حصہ کیوں ہو گا؟ ان کی طرف سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں ہے،لیکن اگرانہیں معلوم ہو جائے تو وہ اپنے حصے کا اصرار شدت سے کرنا شروع ہو جائیں گے، جس وجہ یہ ہے کہ میرےشوہرکےساتھ پہلےبھی بہنوں اور بھائی کی طرف سے دھوکہ ہوا جب ان کے والدین کی وفات کے بعد ان کےوالدین کاگھربیچاگیاتواس وقت ان کو کسی قسم کا حصہ نہیں دیا گیا ،چونکہ میرے شوہر اس وقت دبئی میں تھے اور ان کابھائی بھی دبئی میں ہی تھا اس وقت میرےشوہرکے بھائی اور بہنوں نے مشترکہ گٹھ جوڑ کر کہ میرے شوہر کے بھائی کو دبئی سےبلوایااورجس نےمکان یہ کہہ کربیچ دیاکہ میں اکلوتابیٹا ہوں اپنے والدین کا۔ اس بارے میں میرے شوہر کو تب پتا چلا جب میں نے  ان کو بتایا کہ آپ کے بھائی نے گھر بیچ دیاہےجس کی وجہ سے وہ بہت دلبرداشتہ ہوئے اور ان کو ہارٹ اٹیک ہواکچھ وقت کےبعدجب میرےشوہرواپس پاکستان آئےابھی تک والدین والے مکان کی کاغذی کاروائی باقی تھی اور بروکر کو بھی معلوم ہو گیا کہ میرے شوہر کو دھوکہ دیا گیا ہے جس وجہ سے بروکر نے بھی میرے شوہر کے دستخط لازمی قرار دیے میرے شوہر قانونی جنگ لڑنا چاہتے تھے مگر نوکری باہر ملک ہونے کی وجہ سے وہ پیچھے ہٹ گئے اور ان کے بھائی نے جہاں دستخط لینے تھے وہ لے لئے میرے شوہر دلبرداشتہ تھے اس وجہ سے بعد میں انہوں
نے کسی قسم کے حصے کا مطالبہ نہیں کیامیرے سسرال والے جس میں میرے شوہر کی دو بہنیں اور ایک بھائی یہ تمام افراددبئی میں ہی سیٹل ہیں اور وہیں رہتے ہیں اور ہمارا آپس میں کو ئی رابطہ نہیں ہے،میرے مسئلہ میں شریعت کیا کہتی ہے جبکہ اس گھر کی ایک اینٹ سے لے کر ہر چیز میں نے اور میرے شوہر نے اپنے پیسوں سے بنائی ہے برائے مہربانی رہنمائی فرمائی جائے جزاکم اللہ  خیرا۔

 

جواب

صورت مسئولہ میں متعلقہ ادارےکی طرف سےجوکہاگیاہےکہ اس میں شوہرکےبہن بھائیوں کابھی حصہ ہوگا،شرعایہ بات درست ہے،کیونکہ یہ مکان میاں بیوی کی مشترک کمائی سےبناہے،توکمائی کاجتنافیصدشوہرکالگاہے،اس کےبقدراس کےحصہ میں میراث بھی جاری ہوگی اورچونکہ اس صورت میں شوہرکےبہن بھائی بھی وارث ہوتےہیں توان کوبھی حصہ ملےگا۔

ورثہ میں تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ  شوہرکی میراث میں سےبیوہ کوآٹھواں حصہ ملےگا،بیٹی کوکل میراث کاآدھاحصہ اورباقی شوہرکےبہن بھائیوں میں اس طرح تقسیم ہوگاکہ بھائی کودوحصےملیں گےاوردوبہنوں کوایک ایک حصہ ۔

موجودہ صورت میں اس کااندازہ لگایاجائےگاکہ شوہرنےاس کی خریداری وتعمیرمیں ذاتی رقم  کتنی لگائی ہے؟اوروہ رقم ٹوٹل خرچہ کی کتنی فیصدبنتی ہے؟ اس کےبقدرحصہ میں میراث بھی  جاری ہوگی۔

مثال کےطورپر مکان کی خریداری اورتعمیرمیں ٹوٹل خرچہ دس لاکھ 1,00,000روپےہوا،جس میں سے5لاکھ 5,00,000روپےشوہرکی ذاتی رقم  لگی تھی،توگویاکہ شوہرکی وفات کےبعدمکان کا50فیصدحصہ میراث ہوگااورشوہرکےموجودورثہ میں  تقسیم ہوگی۔

اس کےبعد وفات کےوقت مکان کی بازاری قیمت معلوم کی جائے،مثلا مکان  کی قیمت فروخت اب 30 لاکھ ہے،تواس میں سے50فیصدیعنی 15 لاکھ روپےمیراث  شمارہوں گے،جس میں سےبیٹی کو 7,50,000سات لاکھ پچا س ہزارروپےملیں گےاور1,75,000 ایک لاکھ پچھترہزارروپےبیوہ کوملیں گےاورباقی 5,75000پانچ لاکھ پچھترہزارروپےشوہرکےبہن بھائیوں میں تقسیم ہوں گے،بھائی کودوگناحصہ ملےگااوربہن کوایک ایک حصہ یعنی ہربہن کو 1,43,750روپےاوربھائی کو 2,87,500روپےملیں گے۔

چونکہ آدھامکان بیوہ کےقبضہ اورملکیت میں ہے،اس لیےمکان کی موجودہ قیمت کےمطابق حصہ تقسیم کرکےاسی کےمطابق ہرایک کےحصےمیں آنےوالی رقم بیوہ دیگرورثہ کودیدیےتووہ مکان کی مکمل مالک بن جائےگی۔

صورت مسئلہ میں اس سےپہلےکہ شوہرکےبہن بھائی وراثت کادعوی کریں آپ پہلےسےہی ان کےمشورےسےقیمت لگاکران کوان کاحصہ دیدیں تاکہ بعدمیں لڑائی جھگڑےکی نوبت ہی  نہ آئے۔


مجيب
محمّد بن حضرت استاذ صاحب
مفتیان
آفتاب احمد صاحب
سیّد عابد شاہ صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :76018
تاریخ اجراء :2022-02-14

فتوی پرنٹ