مدرسہ کے چندہ سے اسکول کی عمارت بنانے کا حکم

سوال کا متن:

مدرسہ کے چندہ سے اسکول کی عمارت بنانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب کا متن:

اگرمدرسہ کی انتظامیہ ضرورت اور مصالحِ وقف کے پیشِ نظر مدرسہ میں اسکول بنانا چاہے تو مدرسہ کا چندہ اسکول کی عمارت پر خرچ کرنا جائز ہے، البتہ یہ بات یاد رہے کہ اگر مدرسہ کے چندہ میں زکوة اور صدقاتِ واجبہ کی رقوم بھی شامل ہوں تو اس صورت میں پہلے مستحقِ زکوة طلباء (جوعاقل، بالغ اور غیرہاشمی ہوں)سے ایسی رقوم لوگوں سے لینے اور مصالح مدرسہ پر خرچ کرنے کا وکالت نامہ لے لینا چاہیے، تاکہ لوگوں کی زکوة اور صدقاتِ واجبہ شرعی طریقہ کے مطابق ادا ہو جائیں، ان سے وكالت نامہ لیے بغیر زکوة وغیرہ کی رقوم اسکول اور مدرسہ کی عمارت پر خرچ کرنا جائز نہیں، اس سے لوگوں کی زکوة وغیرہ ادا نہیں ہو گی اور اس کا گناہ سراسر مدرسہ کی انتظامیہ پر ہو گا، اس لیے اس سلسلہ میں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔


حوالہ جات

۔۔۔


مجيب
محمد نعمان خالد
مفتیان
آفتاب احمد صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :77312
تاریخ اجراء :2022-07-04