زبانی ایجاب وقبول کیے بغیر نکاح نامہ پر دستخط کرنے کا حکم

سوال کا متن:

میں نے اپنی بیٹی کا نکاح اپنے بھتیجے سے کیا، ہم راولپنڈی میں رہتے تھے اور بھتیجے کا خاندان حیدرآباد میں تھا، جس کی وجہ سے لڑکے کی صورتِ حال کا صحیح علم نہیں تھا، جب نکاح ہونے لگا تو نکاح پڑھانے والے نے نکاح پڑھایا اور لڑکے کو قبول کرنے کے لیے کہا، مگر لڑکے کا ذہنی توازن درست نہ ہونے کی وجہ سے اس نے زبان سے قبول نہ کیا، لڑکے کا والد بھی موجود تھا، اس سے کہا گیا کہ لڑکا زبان سے قبول نہیں کر رہا تو اس نے کہا یہ نکاح نامے پر دستخط کر دے گا، چنانچہ لڑکے نے نکاح نامہ پر دستخط کر دیے، لڑکے کے والد نے کہا کہ نکاح نامہ پر دستخط کرنا کافی ہے، پھر  لاعلمی کی وجہ سے لڑکی کی رخصتی بھی کر دی گئی،  لڑکی صرف دو ماہ لڑکے کے پاس رہی اور پھر اپنے والدین کے گھر آگئی اور عرصہ پانچ سال سے اپنے والدین کے گھر موجود ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ نکاح درست ہوا یا نہیں؟ اگر درست نہیں ہوا تو کیا لڑکی دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے؟

جواب کا متن:

نکاح کے شرعاً درست اور منعقد ہونے کے لیے گواہوں کی موجودگی میں فریقین کی طرف سے بآوازِ بلند ایجاب وقبول کاپایا جانا  ضروری ہے، تاکہ گواہان ایجاب وقبول کو سن سکیں، مجلس میں موجود گواہان کے سامنے صرف نکاح نامہ  پر دستخط کرنا یا کسی کاغذ پر نکاح کی کاروائی کو لکھ لینا نکاح کے انعقاد کے لیے کافی نہیں،  لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً لڑکے نے زبان سے مذکورہ لڑکی کو اپنے نکاح میں قبول نہیں کیا تھا جیسا کہ سوال میں مذکور ہے  تو اس صورت میں شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوا اور ان دونوں کا دو ماہ تک اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں تھا، اس پر ان دونوں کو اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے۔

جہاں تک لڑکی کے دوسری جگہ نکاح کرنے کا تعلق ہے تو علیحدہ ہو جانے کے بعد اگر لڑکی کی عدت (یہ عدت وطی بالشبہة کی وجہ سے واجب ہے) گزر چکی ہے تو وہ دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔


حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 12) دار الفكر-بيروت:

(فلا ينعقد) بقبول بالفعل كقبض مهر ولا بتعاط ولا بكتابة حاضر بل غائب بشرط إعلام الشهود بما في الكتاب ما لم يكن بلفظ الأمر فيتولى الطرفين فتح

قال ابن عابدين: (قوله: ولا بكتابة حاضر) فلو كتب تزوجتك فكتبت قبلت لم ينعقد بحر والأظهر أن يقول فقالت قبلت إلخ إذ الكتابة من الطرفين بلا قول لا تكفي ولو في الغيبة، تأمل.

(قوله: بل غائب) الظاهر أن المراد به الغائب عن المجلس، وإن كان حاضرا في البلد ط (قوله: فتح) فإنه قال ينعقد النكاح بالكتاب كما ينعقد بالخطاب. وصورته: أن يكتب إليها يخطبها فإذا بلغها الكتاب أحضرت الشهود وقرأته عليهم وقالت زوجت نفسي منه أو تقول إن فلانا كتب إلي يخطبني فاشهدوا أني زوجت نفسي منه، أما لو لم تقل بحضرتهم سوى زوجت نفسي من فلان لا ينعقد؛ لأن سماع الشطرين شرط صحة النكاح، وبإسماعهم الكتاب أو التعبير عنه منها قد سمعوا الشطرين.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 516) دار الفكر-بيروت:

(قوله: فلا عدة في باطل) فيه أنه لا فرق بين الفاسد والباطل في النكاح، بخلاف البيع كما في نكاح الفتح والمنظومة المحبية، لكن في البحر عن المجتبى: كل نكاح اختلف العلماء في جوازه كالنكاح بلا شهود فالدخول فيه موجب للعدة، أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا، فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لكونها زنا كما في القنية وغيرها. اهـ.عا، أو الأخت في عدة الأخت، ونكاح المعتدة والخامسة في عدة الرابعة والأمة على الحرة. اهـ. (قوله: اختيار) ومثله في المحيط معللا بأن النسب لا يثبت فيه لأنه موقوف فلم ينعقد في حق حكمه فلا يؤثر شبهة الملك. اهـ.

قلت: ويشكل عليه أن نكاح المحارم مع العلم بعدم الحل فاسد كما علمت مع أنه لم يقل أحد من المسلمين بجوازه وتقدم في باب المهر أن الدخول في النكاح الفاسد موجب للعدة وثبوت النسب، ومثل له في البحر هناك بالتزوج بلا شهودوتزوج الأختين معا ، أو الأخت في عدة الأخت ، ونكاح المعتدة والخامسة في عدة الرابعة والأمة على الحرة .
ا هـ .
( قوله : اختيار ) ومثله في المحيط معللا بأن النسب لا يثبت فيه لأنه موقوف فلم ينعقد في حق حكمه فلا يؤثر شبهة الملك .


مجيب
محمد نعمان خالد
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :77078
تاریخ اجراء :2022-06-11