1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

مدرسہ کے لیے وقف شدہ جگہ کو تبدیل کرنے کا حکم

سوال

عبداللہ کے والد نےتیس مرلہ جگہ خریدی، تاکہ بیٹوں کے درمیان تقسیم کی جائے، عبداللہ نے والد صاحب کی اجازت سے عارضی طور پر ایک جگہ مدرسہ شروع کیا، جب مدرسہ کی ضرورت بڑھ گئی تو عبداللہ نے والد صاحب سے کہا کہ آپ اس تیس مرلہ میں سے کچھ جگہ مدرسہ کے نام پر وقف کر دیں اور تقسیم کے وقت مجھے زمین میں سے حصہ نہ دیں، والد صاحب نے بیٹوں سے مشورہ کے بعد ایک جگہ کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ سات مرلے جگہ مدرسہ کے لیے استعمال کر لو، پھر عبداللہ نے والد صاحب سے کہا کہ عدالت میں جگہ کر بیان دے دیں تاکہ قانونی کاروائی مکمل ہو جائے، والد صاحب اپنے کاموں کی مصروفیت کی وجہ سے عدالت نہ جا سکے، اس طرح سات سال گزر گئے، اس کے بعد والد صاحب نے خود کہا کہ یہ زمین تقسیم کر لو اور جو زمین میں نے اللہ کو دی ہوئی ہے وہ بھی عدالت میں جا کر وقف کروا لو۔ اس پر ایک بیٹے اور داماد نے اعتراض کیا اور کہا یہ جگہ قیمتی ہے، مدرسہ اس جگہ نہ بنائیں، بلکہ یہ بیٹوں کے درمیان تقسیم کر دیں اور مدرسہ دوسری جگہ بنا لیں، والد صاحب نے کہا اب میں یہ زمین اللہ کے نام پر وقف کر چکا ہوں، مدرسہ ادھر ہی بناؤں گا۔ اس پر بیٹا اور داماد ناراض ہوگئے اور گھر میں شدید اختلاف پیدا ہو گیا، جہاں تک کہ داماد نے کہا اگر اس جگہ مدرسہ بنایا تو میں تمہاری بیٹی کو طلاق دے دوں گا، والد صاحب بھی اب مجبور اور کافی پریشان ہیں، دیگر بھائی بھی بہن کی طلاق کے ڈر سے اس جگہ مدرسہ بننے کی مخالفت کر رہے ہیں، والد صاحب کہہ رہے ہیں کہ میں اس جگہ کی قیمت کے برابر رقم اللہ کے راستہ میں دے دوں یا کسی اور جگہ زمین خرید کر مدرسہ بنا دوں تو کیا یہ جائز ہے؟

داماد کا دراصل مدرسہ کے ساتھ گھر ہے اور وہ تحصیل دار بھی ہے، اسی وجہ سے اس نے دس سال تک مدرسہ نہ بننے دیا اور اب بھی وہ یہی کہہ رہا ہے کہ میں حکمِ امتناعی لے لوں گا اور کیس چالیس سال تک چلتا رہے گا۔ ایسی صورتِ حال میں اب عبداللہ یہ جگہ بیچ کر دوسری جگہ مدرسہ کے لیے خریدنا چاہتا ہے کیا اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟ بعض حضرات یہ کہہ رہے ہیں کہ جب تک مدرسہ میں باقاعدہ تعلیم شروع نہ ہو جائے اس وقت جگہ وقف نہیں ہوتی، کیا یہ بات درست ہے؟

جواب

فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہ اصول لکھا ہے کہ اگر کوئی زمین کسی نیک مقصد کے لیے وقف کر دی جائے تو وہ زمین وقف ہونے کی وجہ سے آدمی کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے اوراس کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرنا ضروری ہے، کسی اور مقصد کے لیے اس کو استعمال کرنا یا اس جگہ کو تبدیل کرنا جائز نہیں، نیز یہ بات کہنا درست نہیں کہ تعلیم شروع ہونے سے پہلے مدرسہ کی جگہ وقف نہیں ہوتی، کیونکہ وقف کے مکمل ہونے کے مسئلہ میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق فتوی دیاہے اور امام ابویوسف رحمہ اللہ کا مسلک یہ ہے کہ صرف زبان سے وقف کرنے سے وقف کا معاملہ  درست اور مکمل ہو جاتا ہے اور پھر اس کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہوتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں جب آپ کے والد صاحب نے یہ کہہ دیا کہ میں یہ جگہ اللہ کے نام پر وقف کر چکا ہوں تو وقف مکمل ہو گیا اور پھر اگر والد صاحب نے وقف کرتے وقت جگہ تبدیل کرنے کی شرط نہیں لگائی تھی تو اب  اس جگہ کو بیٹی کی طلاق وغیرہ کے ڈر سے بیچنا یا تبدیل کرنا  شرعاً جائز نہیں۔باقی داماد کو حکمت اور بصیرت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کی جائے کہ یہ شرعی مسئلہ ہے، شریعت عام حالات میں (جب وقف شدہ زمین قابلِ انتفاع ہو اور وقف کی جگہ تبدیل کرنے کی وقف کرتے وقت شرط نہ لگائی گئی ہو) وقف کی جگہ کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتی اور شریعت کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں شریعت کے مطابق ہی عمل کرنا چاہیے اور اس کارِ خیر میں رکاوٹ نہ بننے کی صورت میں آپ کو بھی ان شاءاللہ تعالیٰ  اس کا اجروثواب ملے گا۔


حوالہ جات

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (5/ 223) دار الكتاب الإسلامي:

وفي شرح الوقاية أن أبا يوسف يجوز الاستبدال في الوقف من غير شرط إذا ضعفت الأرض من الريع ونحن لا نفتي به وقد شاهدنا في الاستبدال من الفساد ما لا يعد ولا يحصى فإن ظلمة القضاة جعلوه حيلة إلى إبطال أكثر أوقاف المسلمين وفعلوا ما فعلوا. اهـ.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 384) دار الفكر-بيروت:

مطلب في استبدال الوقف وشروطه (قوله: وجاز شرط الاستبدال به إلخ) اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره،

 

فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار كذا حرره العلامة قنالي زاده في رسالته الموضوعة في الاستبدال، وأطنب فيها عليه الاستدلال وهو مأخوذ من الفتح أيضا كما سنذكره عند قول الشارح لا يجوز استبدال العامر إلا في أربع ويأتي بقية شروط الجواز.

درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 135) دار إحياء الكتب العربية:

(أزال أبو يوسف المسجد) عن ملك الواقف (بقوله جعلته مسجدا) لأن التسليم ليس بشرط عنده؛ لأنه إسقاط كالإعتاق .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (4/ 349) دار الفكر-بيروت:

قلت: الأولى أن يحمل ما قاله أولا على مسألة إجماعية هي أن الملك بالقضاء يزول، أما إذا خلا عن القضاء فلا يزول إلا بعد هذه الشروط عند محمد واختاره المصنف تبعا لعامة المشايخ وعليه الفتوى وكثير من المشايخ أخذوا بقول أبي يوسف وقالوا: إن عليه الفتوى ولم يرجح أحد قول الإمام وبهذا التقرير اندفع ما في البحر كيف مشى أولا على قول الإمام وثانيا على قول غيره وهذا مما لا ينبغي يعني في المتون الموضوعة للتعليم اهـ (قوله: لأنه كالصدقة) أي فلا بد من القبض والإفراز. اهـ. ح (قوله: وجعله أبو يوسف كالإعتاق) فلذلك لم يشترط القبض والإفراز. اهـ. ح: أي فيلزم عنده بمجرد القول كالإعتاق بجامع إسقاط الملك، قال في الدرر: والصحيح أن التأبيد شرط اتفاقا لكن ذكره ليس بشرط عند أبي يوسف.


مجيب
محمد نعمان خالد
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :77328
تاریخ اجراء :2022-07-05

فتوی پرنٹ