کیا امارت اختیاریہ والے امیر کے لئے بھی اقامتِ جہاد کا عمل جائز ہے؟

سوال کا متن:

کیا امارت اختیاریہ والے امیر کے لئے بھی اقامتِ جہاد کا عمل جائز ہے؟

یہ حکم تو معلوم تھاکہ مسلمانوں کا کوئی خلیفہ نہ ہو تو ان کے دینی امور کی تنظیم وتنسیق کے لئے، احوال ِشخصیہ سے متعلق معاملات کو حل کرنے کے لئے اپنے میں سے کسی کو امیر بنا لینا چاہئے، لیکن یہ امیر قوتِ قاہرہ والے باضابطہ شرعی امیر المؤمنین نہیں، جن کے لئے اقامتِ حدود، استیفاءِ قصاص، اور مسلح جہاد کا عمل جائز ہو، نہ اپنی حکومت کے خلاف نہ کسی اور حکومت کے خلاف۔

امام الحرمین کے مذکورہ بیان سے ایہام ہوتا ہے کہ اس طرح کے امارت اختیاریہ والے ذمہ داروں کے لئے مسلح جہاد کے عمل کو وہ نہ صرف جائز سمجھتے ہیں، بلکہ وہ ان کے لئے ایساکرنا فرض سمجھتے ہیں، سو کیا یہ بات فقہاء کرام بالخصوص حنفی مذہب کے فقہاء کرام اور اکابر علماء دیوبند کے مسلک کے مطابق ہے؟

اور کیا یہ نظریہ قواعدِ شریعت اور مزاجِ شریعت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے؟ بالخصوص مسلم ممالک کے حالیہ صورت حال میں اس نظریہ کی عملی تطبیق کا حکم کیا ہوگا؟ اس بارے میں جہاد ِاقدامی (انتقامی ہو یا خالص اقدامی جہاد ہو) اور جہاد دفاعی کے ما بین حکم میں کوئی فرق ہو تو وہ کیا ہے؟ اور کیا امام الحرمین کے اس مجوزہ جہاد میںخروج على أئمة الجمهورية وأئمة العلمانية في ديار المسلمين بھی شامل ہوگا؟

جواب کا متن:

امارتِ اختیاریہ والے امیر(جواہلِ حل وعقد کےبیعت کرنے، موجودہ امیر کا زندگی میں کسی کو نامزد کرنے، شوری کا کسی کو امیر منتخب کرنےاور تغلب یا جمہوری طرز پر ووٹنگ کے ذریعہ حاکم نہ بنا ہو) کو لوگوں کے درمیان مصالحت اور دیگر مالی معاملات حل کرنے کی اجازت ہو گی، لیکن قوتِ تنفیذیہ نہ ہونے کی وجہ سے اس کو احکامِ شرع نافذ کرنے کا اختیارحاصل نہیں ہو گا۔

جہاں تک جہاد کا فريضہ انجام دینے کا تعلق ہے تواصولی طور پرشرعی جہاد اور قتال فی سبیل اللہ  کی امارت سنبھالنے کا حق اور اختیارصرف قوتِ تنفیذیہ والے امیر کو ہی حاصل ہے، جبکہ امارتِ اختیاریہ والے امیر کے پاس احکامِ شرع کی تنفیذ کی طاقت نہیں ہوتی، اس لیے ایسے امیر کو جہاد کاامیربننے کا حق حاصل نہیں ہے، البتہ اگر کسی مسلم ملک پر کفار غالب ہو جائيں اور وہاں خالص کفر کی حکومت قائم ہو جائے یا کفار کی طرف سے کسی مسلمان کو اپنے مفاد کے لیے امیر بنا دیا جائے، جیسا  کہ ماضی قریب میں افغانستان میں ہوا تو ایسی صورت میں  وہاں کے عام مسلمانوں کو اپنا وطن واپس لینے کے لیے جہاد کرنے کی اجازت ہے اور ایسے جہاد کے لیے مسلمان کسی بھی دیندار، باہمت اور دوراندیش شخص کو امیر مقرر کر سکتے ہیں، تاکہ اس کی امارت میں جہاد کا فريضہ انجام دیا جاسکے۔ امام الحرمین رحمہ اللہ کی عبارت بھی اسی صورت پر محمول ہے کہ جب اس علاقہ میں مسلمانوں کا قوتِ تنفیذیہ والا کوئی بھی امیر موجود نہ ہو تو مسلمان صلاحیت رکھنے والے کسی بھی شخص کو امیر مقرر کرکےجہاد کا فريضہ انجام دے سکتے ہیں (جس کی تفصیل سوال نمبر(1) کے جواب میں گزر چکی ہے)  البتہ  اس صورت میں بھی مسلمانوں کے پاس قوت و طاقت اور اجتماعیت کے ساتھ ساتھ کسی ایک امیر پر اتفاق ہونا بھی ضروری ہے، اکابر علمائے دیوبند کا نقطہٴ نظر بھی یہی معلوم ہوتا ہے، چنانچہ حضرت مولانا  اشرف علی صاحب تھانوی  رحمہ اللہ جہاد کی شرائط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

جہاد کی بنیادی شرائط:

1۔جہاد کے لیے مرکز ضروری ہے، لہذا سخت ضرورت ہے کہ مسلمانوں کا کوئی مرکز ہو۔

2۔دوسری چیز یہ ہے کہ کوئی امیر المؤمین ہو، خواہ وقتی ہی ہو اور جس کو امیر بنایا جائے اس کے اندر تین صفات ہوں:

الف: تدین یعنی دینداری  ہو۔

ب:  دوسرے سیاست سے واقف ہو۔

ج:  تیسرے یہ کہ اس کے اندر ہمت ہو۔

اب مشکل یہ ہے کہ بعض کے اندر تدین تو ہے، مگر سیاست سے واقفیت نہیں اور بعض کے اندر ہمت نہیں۔ امیر کے اندر ان تینوں صفات کا ہونا ضروری ہےاس کام میں اتفاق کی سخت ضرورت ہے۔۔۔۔۔اس کے لیے ارادت کافی نہیں، قہروقوت کی ضرورت ہےاور وہ قوت امیر المؤمنین ہے اور اس وقت مسلمانوں کا کوئی امیر یا سردار نہیں جو ان کی قوت کو ایک مرکزپر جمع رکھ سکے، جو روح ہے اس کام کو کرنے کی۔                                                                           (الافاضات اليومية:119)

یہ بھی واضح رہے کہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نےجہاد کے لیے امیر مقرر کرنے کی شرط میں تفصیل بیان فرمائی ہے، وہ یہ کہ جہاد کی دو صورتیں ہیں:

پہلی صورت یہ کہ  کفار کی کوئی جماعت العیاذ باللہ مسلمانوں پر حملہ کر دے تو اس صورت میں دفاعی جہاد واجب ہوتاہے اور دفاعی صورتحال میں حکم یہ ہے کہ اگر کسی کو امیرمقرر کرنا ممکن ہو تو امیر مقرر کرکے اس کی امارت میں جہاد کیا جائے، لیکن اگر جنگ کی شدت کی وجہ سے امیرمقرر کرنا ممکن نہ ہو تو امیر کے بغیر ہی جہاد کرنا لازم ہو گا،  جیسا کہ علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ نے المغنی میں اور علامہ خرقی مالکی رحمہ اللہ نے مختصر الخرقی میں تصریح فرمائی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگ کی شدت کی حالت  میں اگرمسلمان امیر مقرر کرنے میں مصروف ہو گئے تو کفار مسلمانوں کو شدیدنقصان پہنچائیں گے، جو ناقابلِ تلافی ہو گا۔

دوسری صورت جہادِ اقدامی کی ہے وہ یہ کہ مسلمانوں کی جماعت ازخود کفار کے علاقے پر حملہ آور ہو تو اس صورت میں ايسے امیر کا مقرر ہونا ضروری ہے،  جس کے پاس طاقت اور قوتِ تنفیذیہ موجود ہو، اور یہ قوت اسی وقت حاصل ہو گی جب سوال نمبر(1) کے جواب میں ذکرکیے گئے چار طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ سے امیر مقرر کیا گیا ہو، صرف امارتِ اختیاریہ والا امیر جہادِ اقدامی کے لیے امیر نہیں بن سکتا۔

مختصر الخرقى (ص: 138) أبو القاسم عمر بن الحسين الخرقي (المتوفى: 334هـ) الناشر: دار الصحابة للتراث:

وواجب على الناس إذا جاء العدو أن ينفروا المقل منهم والمكثر ولا يخرجون إلى العدو إلا بإذن الأمير إلا أن يفجأهم عدو غالب يخافون غلبه فلا يمكنهم أن يستأذنوا.

المغني لابن قدامة (9/ 213) مكتبة القاهرة:

إذا جاء العدو، صار الجهاد عليهم فرض عين فوجب على الجميع، فلم يجز لأحد التخلف عنه، فإذا ثبت هذا، فإنهم لا يخرجون إلا بإذن الأمير؛ لأن أمر الحرب موكول إليه، وهو أعلم بكثرة العدو وقلتهم، ومكامن العدو وكيدهم، فينبغي أن يرجع إلى رأيه، لأنه أحوط للمسلمين؛ إلا أن يتعذر استئذانه لمفاجأة عدوهم لهم، فلا يجب استئذانه، لأن المصلحة تتعين في قتالهم والخروج إليه، لتعين الفساد في تركهم، ولذلك لما أغار الكفار على لقاح النبي - صلى الله عليه وسلم - فصادفهم سلمة بن الأكوع خارجا من المدينة، تبعهم، فقاتلهم، من غير إذن، فمدحه النبي - صلى الله عليه وسلم - وقال: خير رجالتنا سلمة بن الأكوع. وأعطاه سهم فارس وراجل.

إعلاء السنن، كتاب السير (ج 12 ص 4) ، باب فرضية الجهاد ودوامه مع كل أمير بر أو فاجر،دارالقران:

3782۔عن مكحول عن أبى هريرة قال: قال رسول الله : الجهاد واجب عليكم مع كل أمير برا أو فاجرا.....وفي الحديث دلالة على اشتراط الأمير للجهاد وأنه لايصح بدونه لقوله : (الجهاد واجب عليكم مع كل أمير إلخ ) فإذا لم يكن للمسلمين إمام فلاجهاد. نعم يجب على المسلمين أن يلتمسوا لهم أميرا. ويدل على أن الجهاد لايصح إلا بأمير ما رواه البخارى عن حذيفة فى حديث طويل ( قلت: فهل بعد ذلك الخير من شر؟ قال: نعم! دعاة إلى أبواب جهنم، من أجابهم إليها قذفوه فيها. قلت: فما تأمرنى إن أدركنى ذلك؟ قال: تلزم جماعة المسلمين

وإمامهم.قلت: فإن لم يكن لهم جماعة ولا إمام؟ قال: فاعتزل تلك الفرق كلها ولوأن تعض بأصل شجرة حتى يدركك الموت وأنت على ذلك)

اس کے علاوہ  امارتِ اختیاریہ والے امیر  کو مروجہ جمہوری طریقہ پر بنائے گئے مسلم حکمرانوں (اگرچہ وه فاسق وفاجر ہی ہوں)کے خلاف خروج اور بغاوت کی قطعاً اجازت نہیں ہے اور نہ ہی  يہ طریقہ اسلام کی تعلیمات کے موافق ہے، بلکہ یہ طرز ان تمام نصوص و روایات کے صریح خلاف ہے جن میں  اس وقت تک مسلمان حکمران کے خلاف خروج کی اجازت نہیں دی گئی  جب تک ان کی طرف سے صریح کفر کا صدور نہ ہو، جیسا کہ اس  کی تفصیل سوال نمبر(1) کے جواب میں گزر چکی ہے۔


حوالہ جات

۔۔۔۔


مجيب
محمد نعمان خالد
مفتیان
مفتی محمد صاحب
سیّد عابد شاہ صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :77307
تاریخ اجراء :2022-01-29