میراث کا مسئلہ (بیوی، بہن اور دو بھانجیوں میں وراثت کی تقسیم)

سوال کا متن:

کیا فرماتے ہیں حضراتِ مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رضوان حیدر نامی ایک صاحب کا انتقال سنہ 2015ء میں ہوا، جنہوں نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا۔ اور بوقتِ موت ورثاء میں انہوں نے ایک زوجہ جس کا نام خالده حیدر، ایک بہن جس کا نام عزیزہ فاطمہ اور دو بھانجیاں جن کا نام ماہ جبین اور مہر ہے، چھوڑ گئے۔ رضوان حیدر صاحب کی وفات کے بعد ان کے ترکہ کو تقسیم نہیں کیا گیا بلکہ ترکہ میں چھوڑے گئے مکان کو ان کی زوجہ: خالدہ حیدر استعمال کرتی رہیں، سنہ 2018ء میں رضوان حیدر صاحب کی بیوی: خالدہ حیدر کا بھی انتقال ہوگیا، چنانچہ کچھ زمانہ تک متروکہ مکان بند پڑا رہا، مگر کچھ زمانہ بعد رضوان حیدر صاحب کی بھانجیوں نے اسے اپنے تصرف میں لانا شروع کردیا جس پر ان کی خالہ: عزیز فاطمہ نے عدالت میں کیس درج کردیا۔

معلوم یہ کرنا ہے کہ شریعتِ مطہرہ میں اس ترکہ کے وارث کون ہیں اور کون نہیں ہیں؟ اور دوسری بات یہ بھی پیشِ خدمت ہے کہ خالدہ حیدر کے پیچھے کوئی وارث بھی نہیں ہے، بسیار کوشش کی گئی ہے کہ ان کا کوئی قریبی یا دور کا رشتہ دار معلوم ہو جائے، مگر ان کا کوئی رشتہ دار ثابت نہیں ہوا، تو ان کے متعلق بھی حکم ارشاد فرما دیں کہ شریعتِ مطہرہ کے مطابق ان کا ترکہ کن لوگوں کو ملے گا؟ قرآن و حدیث اور فقۂ حنفی کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر مشکور و ماجور ہوں۔

وضاحت: سائل کے بقول عزیزہ فاطمہ مرحوم (رضوان حیدر) کی حقیقی بہن ہیں۔

جواب کا متن:

سوال میں ذکر کردہ صورت میں رضوان حیدر کی وفات کے بعد سب سے پہلے ان کے ترکہ سے تجہیز و تکفین کا معتدل خرچہ نکالا جائے گا، بشرطیکہ کسی نے بطور احسان یہ خرچہ نہ اٹھایا ہو، اُس کے بعد ان پر اگر کوئی قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا، پھر اگر کوئی وصیت تھی تو ایک ثلث (1/3) میں سے اس کی ادائیگی ہوگی۔ ان سب کے بعد جو کچھ بچے گا اُس میں ترکہ کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ گھر کی مالیت کو 4 حصوں میں تقسیم کرکے 1 حصہ مرحوم کی زوجہ (خالدہ حیدر) کو اور 3 حصے مرحوم کی بہن (عزیزہ فاطمہ) کو دے دیے جائیں؛ اس لیے کہ بہن ذوی الفروض نسبی میں سے ہے، اور جب میراث کے حصص زیادہ ہو جائیں اور ان کا کوئی مستحق نہ ہو، تو باقی ماندہ حصے کو ذوی الفروض نسبی پر ان کے حصص کے بقدر تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ البتہ اس ترکہ میں بھانجیوں کا شرعاً کوئی حصہ نہیں ہے۔

ورثاء

عددی حصے

فیصدی حصے

زوجہ (خالدہ حیدر)

1 حصہ

٪25

بہن (فاطمہ عزیز)

3 حصے

٪75

بھانجی (ماہ جبین)

-

-

بھانجی (مہر)

-

-

ٹوٹل

 

100

نیز مرحومہ کی زوجہ (خالدہ حیدر) کا اگر واقعۃً کوئی وارث نہیں ملا، تو اگر انہوں نے کسی کے لیے اپنے ترکہ کی وصیت کی ہے تو وہ ترکہ وصیت کے مطابق تقسیم ہوگا، لیکن اگر کسی کے لیے وصیت نہیں کی، اس صورت میں ترکہ کو فقراء اور معذور ضرورت مندوں میں ضرورت کے مطابق تقسیم کر دیا جائے۔


حوالہ جات

الدر المختار (337/2):

"بيوت المال أربعة، لكل مصارف بينتها العالمونا ... ورابعها [بيوت المال]: الضوائع، مثل مالا يكون له أناس وارثون ... ورابعها [مصارف بيوت المال]: فمصرفه جهات تساوى النفع فيها المسلمون."

رد المحتار (203/7):

"(قوله: ورابعها فمصرفه جهات إلخ) موافق لما نقله ابن الضياء في شرح الغزنوية عن البزدوي من أنه يصرف إلى المرضى والزمنى واللقيط وعمارة القناطر والرباطات والثغور والمساجد وما أشبه ذلك. ولكنه مخالف لما في الهداية والزيلعي أفاده الشرنبلالي أي فإن الذي في الهداية وعامة الكتب أن الذي يصرف في مصالح المسلمين هو الثالث كما مر. وأما الرابع: فمصرفه المشهور هو اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم، فيعطى منه نفقتهم وأدويتهم وكفنهم وعقل جنايتهم، كما في الزيلعي وغيره. وحاصله: أن مصرفه العاجزون الفقراء"


مجيب
محمد مسعود الحسن صدیقی ولد احمد حسن صدیقی
مفتیان
محمد حسین خلیل خیل صاحب
سعید احمد حسن صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :81025
تاریخ اجراء :2023-08-15