بول ایپ کا حکم

سوال کا متن:

سوال:   کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ (BOl) کے نام سے موسوم ایک کمپنی ہے اس کمپنی کا مختصر تعارف یہ ہے کہ یہ کمپنی 1999 میں معرض وجود میں آئی ہے اور یہ نیدرلینڈ میں ہے یہ ایمازون کی طرح کام کرتی ہے۔اس کا طریقہ کار یہ ہے اس کمپنی نے ایک پلیٹ فارم مہیا کیاہوا ہےتاجروں اور گاہکوں کو تاجر اپنی اشیاء بیچتے ہیں اور گاہک خریدتے ہیں۔

یہ کمپنی تیسرے بندے کو اس شرط پر جوائننگ دیتی ہے  وہ بندہ شروع میں اس کمپنی کو بطور فیس اور کچھ پیسے اس کمپنی کےاکاؤنٹ میں رکھے گا۔ اور اس تیسرے بندے کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ یومیہ ان تاجروں کی پوسٹوں کوآگے شیئرکریگا اور یہ کمپنی تاجروں سے کمیشن لیکراس تیسرے بندے کودیتی ہے۔

اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ اس تیسرے بندے کا اس طرح کام کرنا اس کمپنی کےاندر شریعت مطہرہ کی رو سےدرست ہے یا نہیں؟

جواب کا متن:

سوال میں مذکور ایپ کے بارے میں جب تحقیق کی گئی تو تفصیلی ویڈیوز کے مطابق اس کا طریقہ کار سوال میں مذکور طریقے سے الگ ظاہر ہوا۔ یہ ایپ درحقیقت کچھ خریدتی اور بیچتی نہیں بلکہ چیزوں کے اشتہارات دکھاتی ہے۔ اس طریقہ کار کے مطابق کئی ایپلیکیشنز کام کر رہی ہیں۔ یہ ایپلیکیشنز یہ ظاہر کرتی ہیں کہ "ان کا تعلق ایمازون، ای بے اور اس طرح کی بڑی آن لائن مارکیٹس سے ہے۔ یہ ان کی اشیاء اسکرین پر دکھاتی ہیں اور جب چیز دیکھ کر ان کے یہاں "یس" یا "سبمٹ" پر کلک کیا جاتا ہےتو جو چیز سامنے ہوتی ہے وہ ان مارکیٹس میں جا کر فروخت ہو جاتی ہے۔" ہماری تحقیق کے مطابق عملاً ان مارکیٹس کا یہ طریقہ کار نہیں ہے کہ کوئی فروخت کنندہ کسی تیسرے شخص کو درمیان میں ڈالنے کا پابند ہو۔ نیز تکنیکی طور پر بھی کلک کرنے کے بعد مارکیٹ پر فروخت ہونا اس وقت تک ممکن نہیں ہے  جب تک مارکیٹ خود یہ سہولت (API) فراہم نہ کرے اور مارکیٹ کی جانب سے ایسی کوئی سہولت متعارف نہیں ہے۔

لہذا مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں یہ کام صرف ان چیزوں کے اشتہار دیکھنے کا ہے جو کہ شرعاً قابل اجرت کام نہیں ہے اور اس کی اجرت لینا شرعاً درست نہیں ہے۔ اس کے لیے جو رقم ابتدائی طور پر جمع کروائی جاتی ہے اس کی حیثیت اس اشتہار دیکھنے کی ملازمت کا حق خریدنے کی ہے۔ چونکہ یہ ایک حق مجرد ہے لہذا اسے خریدنا اور اس کے لیے رقم دینا شرعاً جائز نہیں ہے۔ نیز یہ کام چونکہ جائز نہیں ہے لہذا اس میں کسی کو ممبر بنانا اور اس کی اجرت لینا بھی درست نہیں ہے۔


حوالہ جات

۔۔


مجيب
محمد اویس پراچہ
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :77729
تاریخ اجراء :2022-09-06