فاریکس (Forex) ٹریڈنگ کا حکم

سوال کا متن:

ڈیجیٹل ٹریڈنگ جیسے فاریکس کے بارے میں اسلام کا حکم کیا ہے؟

جواب کا متن:

فاریکس مارکیٹ میں بنیادی طور پر دو قسم کی چیزوں کا لین دین ہوتا ہے:

1.     مختلف ممالک کی کرنسیاں

2.     کموڈٹی جیسے سونا، چاندی، تیل وغیرہ

بعض آن لائن فاریکس پلیٹ فارم ان میں شئیرز اور دیگر چیزوں کا بھی اضافہ کرتے ہیں۔ آن لائن فاریکس ٹریڈنگ کا اصولی حکم یہ ہے کہ کرنسی اور سونے کی خرید و فروخت کے لیے تین شرائط کا پایا جانا ضروری ہے :

1.     اس کا لین دین حقیقی ہو، فقط اکاؤنٹ میں ظاہر نہ کی جاتی ہو۔

2.     اسے بیچنے والا اس کا حقیقتاً مالک بھی ہو اور بیچنے والے نے اس پر قبضہ بھی کیا ہو۔

3.     لین دین کی مجلس میں ہی کسی ایک کرنسی پر حقیقتاً یا حکماً  قبضہ کر لیا جائے۔

اسی طرح تیل کی خرید و فروخت کے لیے بھی دو شرائط کا پایا جانا لازمی ہے:

1.     اس کا لین دین حقیقی ہو، فقط اکاؤنٹ میں ظاہر نہ کیا جاتا ہو۔

2.     اسے بیچنے والا اس کا حقیقتاً مالک بھی ہو اور بیچنے والے نے اس پر قبضہ بھی کیا ہو۔

آن لائن فاریکس ایکسچینج کے مروجہ ماڈل میں نہ تو حقیقتاً لین دین ہوتا ہے اور نہ ہی قبضہ ہوتا ہے۔ اس پر قرینہ یہ ہے کہ اگر کسی آن لائن پلیٹ فارم پر کوئی کرنسی خریدی جائے اور اسے یہ کہا جائے کہ اسے بیچنے کے بجائے ہمیں دے دیا جائے تو اس کی طرف سے یہ سہولت فراہم نہیں کی جاتی بلکہ اصرار کیا جاتا ہے کہ اسے بیچ کر ڈالر میں ہی ادائیگی ہوگی۔   لہذا ایسی ویب سائٹس پر کام کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی آن لائن فاریکس ایکسچینج کے طریقہ کار کی نگرانی مستند علماء کرام  کر رہے ہوں اور انہوں نے تحریراً اس بات کی گواہی دی ہو کہ اس کا طریقہ کار شرعاً درست ہے تو اس پر کام کرنا جائز ہوگا۔


حوالہ جات

۔۔


مجيب
محمد اویس پراچہ
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :81019
تاریخ اجراء :2023-08-13