بائنانس (Binance) اور کرپٹو ٹریڈنگ کا حکم

سوال کا متن:

بائنانس پر ٹریڈنگ کرنا کیسا ہے؟

جواب کا متن:

بائنانس کرپٹو کرنسی ٹریڈنگ کا ایکسچینج ہے جسے دنیا کے مختلف ممالک میں کرپٹو ٹریڈنگ سروس فراہم کرنے کا لائسنس حاصل ہے۔ اس پر ہونے والی ٹریڈ کی مختلف صورتیں ہیں جن کا حکم تفصیلاً مذکور ہے:

1.     فیوچر ٹریڈنگ: اس میں عملاً لین دین نہیں ہوتا بلکہ قیمت کے حساب سے نفع نقصان برابر کیا جاتا ہے۔ یہ شرعاً قمار  (جوا) ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور اس کی آمدن حرام ہے۔

2.     آپشن ٹریڈنگ: اس میں کسی شخص کو خریدنے یا بیچنے کا اختیار بیچا جاتا ہے اور اس پر پریمیم لیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ اختیار بیچے جانے والی چیز نہیں ہے اس لیے یہ بھی ناجائز ہے اور اس کی آمدن بھی حرام ہے۔

3.     مارجن ٹریڈنگ: اس میں بائنانس سے سود پر قرض لے کر اس سے ٹریڈ کی جاتی ہے۔ سود کا لین دین شرعاً حرام ہے۔ البتہ اس سے ہونے والے نفع کا حکم اسپاٹ ٹریڈنگ والا ہے جو آگے مذکور ہے۔

4.     اسپاٹ ٹریڈنگ: اس میں موجودہ قیمت کے مطابق کوائینز اور ٹوکنز کا لین دین ہوتا ہے۔ اس میں کوائین اور ٹوکن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

کوائین:

کوائین عموماً اس کرپٹو اثاثے کو کہا جاتا ہے جس کی اپنی الگ بلاک چین ہو جیسے بٹ کوائین، ایتھیریم، بی این بی، سول اور ٹرون وغیرہ۔ یہ اپنی بلاک چین پر ہونے والی ہر ٹرانزیکشن کی فیس کی ادائیگی وغیرہ میں استعال ہوتے ہیں۔ یہ فیس ٹرانزیکشن (لین دین و دیگر ڈیٹا ریکارڈ) کی تصدیق کرنے والے ممبران کو دی جاتی ہے۔ اکثر کوائینز کی بلاک چین پر یہ سہولت ہوتی ہے کہ ان پر مختلف پراجیکٹس (بلاک چین  پر چلنے والے سافٹ وئیرز) بنائے جا سکیں۔ ان پراجیکٹس میں بھی جو ڈیٹا منتقل اور محفوظ ہوتا ہے اس کی فیس  کی ادائیگی بھی کوائین میں کی جاتی ہے۔ کچھ کوائین دنیا میں کچھ علاقوں میں گورنمنٹ کی اجازت سے بطور زر بھی استعمال ہوتے ہیں جیسے بٹ کوائین "ایل سلواڈور" اور "لوگانو (سوئٹزرلینڈ)"  میں بطور زر استعمال کیا جا سکتا ہے، نیز ایران میں اسے امپورٹس میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

ٹوکن:

ٹوکن اس کرپٹو اثاثے کو کہا جاتا ہے جس کا تعلق کسی پراجیکٹ سےہوتا ہے۔ یہ کوئی کمپنی بھی ہوسکتی ہے اور کوئی بلاک چین پر چلنے والا سافٹ وئیر بھی، جیسے "اے وی اے" ٹوکن کا تعلق "ٹراولا" کمپنی سے ہے جو دنیا بھر میں ہوٹل اور فلائٹ بکنگ کی سہولیات فراہم کرتی ہے اور "اسٹورج" ٹوکن کا تعلق بلاک چین پر کمپیوٹر کے  ڈیٹا کے لیے اسٹوریج فراہم کرنے والے پراجیکٹ سے ہے۔ ان میں پہلا ٹوکن ایک سینٹرلائزڈ (ایک شخص یا چند اشخاص کی ملکیت) کمپنی کا ہے جب کہ دوسرا ٹوکن ایک ڈی سینٹرلائزڈ (بغیر ملکیت کے چلنے والے) پراجیکٹ کا ہے۔

ٹوکن میں پھر مزید پانچ قسمیں ہیں:

1.     لیوریج ٹوکن: یہ ٹوکن بلاک چین پر نہیں ہوتے بلکہ مختلف ایکسچینج بناتے ہیں۔ یہ فیوچر ٹریڈنگ کے کنٹریکٹ کی بنیاد پر بنتے ہیں۔ ان کی ٹریڈنگ بھی جوا ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور آمدن بھی حرام ہے۔

2.     میم کوائین: یہ عموماً ٹوکن ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات مکمل بلاک چین رکھنے والے کوائین بھی ہوتے ہیں۔ ان کی ابتدا "ڈوگی" کوائین سے ہوئی تھی جس کی اپنی بلاک چین ہے اور اسے بٹ کوائین کا مذاق اڑانے (میم بنانے) کے لیے بنایا گیا تھا۔ بعد میں لین دین کی وجہ سے اس کی قیمت بن گئی۔ ان کے پیچھےکوئی پراجیکٹ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات کچھ ٹوکن ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا پراجیکٹ ابھی بنا نہیں ہوتا لیکن مستقبل میں بننے کا وعدہ ہوتا ہے۔ یہ کبھی "میم کوائین" سمجھے جاتے ہیں اور کبھی نہیں۔

3.     ڈی فائی ٹوکن: یہ ٖڈی سینٹرلائزڈ فنانس کے ٹوکن ہوتے ہیں یعنی ان کا پراجیکٹ ایسی سروسز فراہم کرتا ہے جو فنانس کی فیلڈ سے تعلق رکھتی ہیں لیکن یہ سسٹم عام بینکنگ سسٹم کے برخلاف بلاک چین پر چلتا ہے اور مکمل اختیار ایک کمپنی کے ہاتھ میں ہونے کے بجائے ٹوکن ہولڈرز کی ووٹنگ پر منحصر ہوتا ہے۔ ان میں سودی قرض سے لے کر ایکسچینج تک، کئی قسم کی جائز و ناجائز سروسز شامل ہوتی ہیں۔

4.     یوٹیلٹی ٹوکن: یہ ٹوکن ایسے پراجیکٹس کے ہوتے ہیں جو فنانس کے علاوہ کوئی سروس فراہم کرتے ہیں جیسے ویڈیو اسٹریمنگ، آڈیو اسٹریمنگ، ویب تھری، گیمنگ اور  اسٹوریج وغیرہ۔ پھر ان دونوں (ڈی فائی اور یوٹیلٹی) قسم کے ٹوکنز کی مزید تین قسمیں ہوتی ہیں:

‌أ.      ایسے ٹوکن جو پراجیکٹ کی سروس  لینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

‌ب. ایسے ٹوکن جو پراجیکٹ میں مختلف پیرامیٹرز میں تبدیلی کے وقت ووٹنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں کیوں کہ ڈیسینٹرلائزڈ ہونے کی وجہ سے پراجیکٹ سنبھالنے والی ٹیم اکیلے فیصلہ نہیں کر سکتی۔ ان میں بعض اوقات ٹوکن ہولڈر کو پرافٹ میں حصہ ملتا ہے اور بعض اوقات نہیں ملتا۔ پرافٹ میں حصہ نہ ملنے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ ان پراجیکٹس میں پرافٹ کا سسٹم نہیں ہوتا۔

‌ج.    ایسے ٹوکن جو سروس اور ووٹنگ، دونوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

5.     اسٹیبل کوائین:یہ ایسے ٹوکن ہوتے ہیں جن کی قیمت اس کرنسی کے تقریباً برابر رہتی ہے جس کے ساتھ انہیں منسلک کیا گیا ہو، جیسے ٹیتھر (یو ایس ڈی ٹی) کی قیمت ڈالر کے قریب رہتی ہے۔ ان کی پھر دو قسمیں ہوتی ہیں:

‌أ.      وہ اسٹیبل کوائین جن کے پیچھے مطلوبہ کرنسی اور دیگر سیکیورٹیز موجود ہوتی ہیں۔ انہیں بنانے والے ان کی باقاعدہ فنانشل اسٹیٹمنٹ جاری کرتے ہیں۔

‌ب. وہ اسٹیبل کوائین جو پیچیدہ ریاضیاتی اور معاشی میکنزم کے ذریعے مطلوبہ کرنسی کے قریب رکھے جاتے ہیں۔ ان کے پیچھے عموماً کرپٹو ایسٹس ہوتے ہیں۔  انہیں "الگورتھمک اسٹیبل کوائین" کہتے ہیں اور ان میں مشہور مثال "ڈائی (DAI)" کوائین کی ہے۔

مندرجہ بالا تفصیلات اور ان کی پیچیدہ صورتوں کی وجہ سے ان کے حکم کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ:

5.     ان ٹوکنز کی ٹریڈنگ جن کے پیچھے ناجائز(مثلاً سودی قرض یا ہیجنگ وغیرہ کا) پراجیکٹ  ہو۔ چونکہ ان کا انتہائی استعمال بھی ان کے پراجیکٹ میں ہوتا ہے اس لیے ان کی ٹریڈنگ اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز نہیں ہے۔

6.     ان کوائینز اور ٹوکنز کی ٹریڈ جن کا پراجیکٹ ناجائز نہ ہو۔ ان کے بارے میں حضرات مفتیان کرام کی مختلف آراء ہیں۔ زیادہ تر مفتیان کرام کا اس کی پشت پرحکومت کے نہ ہونے، اس کے ثمن نہ ہونے یا سٹے بازی میں استعمال ہونے کی وجوہات کی بنا پر اس کے ناجائز ہونے کی جانب رجحان ہے۔ چونکہ اس عنوان سے جعل سازی عام ہونے اور لوگوں کو کافی نقصان ہونے میں کوئی دو رائے نہیں ہیں، اس لیے ہمارے یہاں سے بھی اس میں معاملات کرنے  سے گریز ہی کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اگر کسی نے ماضی میں اس کی ٹریڈنگ میں نفع کمایا ہے تو وہ نفع ایک جانب کر دے اور کوئی حتمی رائے آنے کے بعد اس کے مطابق عمل کرے۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ اگر حکومت اس پر پابندی لگاتی ہے تو چونکہ عوام کی مصلحت پر مبنی حکومتی قانون پر عمل کرنا شرعاً لازم ہوتا ہے، لہذا اس سے اجتناب کرنا ضروری ہوگا۔


حوالہ جات

۔۔


مجيب
محمد اویس پراچہ
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :81020
تاریخ اجراء :2023-08-13