پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج (PMEX) کا حکم

سوال کا متن:

سوال:    پاکستان مرکنٹائل ملٹی کموڈیٹی فیوچر ایکسچینج، جس میں آن لائن ٹریڈنگ ہوتی ہے بروکر کے ذریعے جس میں مشتری کا مبیع پر حکمی قبضہ ہوتا ہے،کیوں کہ پی ایم ای ایکس حسی قبضہ صرف سونے میں دیتی ہے وہ بھی صرف کراچی میں، اس کے علاوہ  اجناس فیزیکلی مہیا نہیں کرتی،  کیا اس ایکسچینج میں انویسٹمنٹ اور ٹریڈنگ کرناشرعاً جائز ہے؟

جواب کا متن:

پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج میں سونے کی چند اقسام کے علاوہ باقی تمام چیزوں میں ہونے والی ٹریڈ میں خریدی جانے والی چیز پر نہ تو قبضہ لیا اور دیا جاتا ہے اور نہ ہی قبضہ مقصود ہوتا ہے۔ اس میں مقصود قیمتوں کے فرق کو برابر کرنا ہوتا  ہے جسے کیش سیٹلمنٹ (Settlement)  کہا جاتا ہے۔ مثلاًاگر زید نے آج تیل کی خریداری کی ہے (جسے اصطلاح میں لانگ کرنا کہتے ہیں)  تو اس کا مقصد تیل خریدنا نہیں ہوتا بلکہ مستقبل میں اس کی قیمت کی بنیاد پر نفع یا نقصان حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اب اگر کل تیل کی قیمت بڑھ گئی تو زید کو نفع ہو جائے گا اور اگر کم ہو گئی تو نقصان ہو جائے گا۔   شرعاً بیع (خرید و فروخت) کا مقصد کسی چیز کی ملکیت حاصل کرنا ہوتا ہے  جو کہ یہاں پایا نہیں جاتا، لہذا یہ عمل سٹہ بازی یعنی قمار (جوے) کے تحت آتا ہے ۔ چنانچہ ٹریڈ کی یہ قسم حرام ہے اور اس سے حاصل شدہ آمدن بھی حرام اور واجب التصدق ہے۔


حوالہ جات

۔۔


مجيب
محمد اویس پراچہ
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :80975
تاریخ اجراء :2023-08-08