تحریک آزادی نسواں کا حکم

سوال کا متن:

آزادی نسواں کی تحریک کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟ اس تحریک کا مقصد عورت کو معاش کے قابل بنانا ہے،اسلام کے مطابق عورت کون کون سی نوکری کرسکتی ہے؟

جواب کا متن:

آزادی کا لفظ ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے،جس کی مختلف صورتیں ہیں اور ان میں بعض اسلام میں جائزاوربعض ناجائز اور ممنوع ہیں۔

اسلام سے قبل عورت کی حالت:

 اسلام سے پہلے دنیا بھر کے اقوام اور ملل اور انسانی رسوم ورواج میں عورت ظلم وستم اور ابتذال اور تحقیر کی حالت  میں مبتلا تھی،چنانچہ ایک طرف عورت کو  غلام بلکہ جانوروں کی طرح مال کی حیثیت حاصل تھی ،جو معاشرے کا مجبور  ترین اورغیر مختار فرد ہوتا تھا،نیزانسانی معاشرتی حقوق میں امتیازی سلوک کاشکارتھی،چنانچہ اسے نحوست کی علامت قراردیاگیا،نیزاسےمیراث سےمحروم رکھا گیا، دیت اور قصاص میں یہ مرد کے برابر حقدار نہیں تھی،اور دوسری طرف عورت  محض آلہ تعیش اور ذریعہ استلذاذ  کے طور پر مشترکہ  قومی ملکیت اور شاملات  کی طرح  کئی مردوں کی مشترکہ متاع نشاط بن سکتی تھی،شوہر کے ہوتے ہوئے اس کا عاشق بھی برابر کا حقدار سمجھا جاتا تھا،لیکن قرآن مجید نے اس کی اس حالت  کو اپنی معجزانہ تعبیرمیں لفظ جاہلیت اولی سےتعبیرفرمایا ہے،ارشاد ہے: {وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى} [الأحزاب: 33] "قدیم  زمانہ جہالت کے دستور کے موافق مت پھرو" یعنی اسلام سے قبل کی تمام غیر اسلامی رسوم وروایات کو چھوڑدو۔

اسلام   اورمساوات /آزادی وحقوق نسواں:

لہذااسلام  ہی نے آکر اس کو بھی مرد کی طرح انسانی معاشرے کا ایک آزاد اور خود مختار  محترم فرد کی حیثیت دی اوراسےدینی دنیوی انفرادی واجتماعی معاشرتی حقوق کاتحفظ فراہم کیا،چنانچہ ایک طرف تو اس ضعیف وناتوں جسم سے ظلم واستبداد کی ساری بیڑیاں توڑ ڈالیں اور اسے مقام انسانیت( انسانی حقوق) میں مردوں کے ہمسروبرابر قراردیا ہے،لہذا ارشاد ہے: { يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [الحجرات: 13] ، اے لوگو!ہم نے تم کوایک مرد اور عورت سے پیدا کیا اور تمہیں مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو، اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہز گار ہو، بیشک اللہ خوب جاننے والا خوب خبردار ہے۔"یعنی جنس اور قوم یا خاندان باعث تفاخر نہیں،بلکہ اللہ کے نزدیک شرافت اور کرامت کااصل مدار  تقوی (عمل اور کردار کی درستگی وپاکی )ہے۔"نیز عورت کو انسانی معاشرے میں بیوی کاپیار ومحبت، سکون وسرور سےلبریزاورماں کامحترم،مقدس ومعززاوربیٹی کارحمت وشفقت  سے بھرا مقام بھی عطا فرمایااوراس جیسے دیگرنسوانی رشتوں کی بھی تحسین وعزت افزائی فرمائی،چنانچہ ارشاد خدواندی ہے: {وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً} [الروم: 21] ترجمہ"اور اس  کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ  اس نے تمہارے لیے تمہاری جنس کی بیویاں بنائی ہیں تاکہ تم ان سے مل کرآرام پاؤ اور اس نے تم میاں بیوی میں محبت اور ہمدردی پیدا کی۔" نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :من ابتلي من هذه البنات بشيء فأحسن إليهن، كن له سترا من النار.( متفق عليه)کہ جو شخص لڑکیوں کی کفالت کرے گا تودوزخ کی آگ اس پر حرام ہوگی، نیز فرمایا :من عال جاريتين حتى تبلغا جاء يوم القيامة أنا وهو كهاتين وضم أصابعه.( رواه مسلم)کہ جودو بیٹیوں کی بلوغت تک نگہداشت کرے گا وہ جنت میں میرے ساتھ اتنا قریب ہوگا جیسے ہاتھ کی دو انگلیاں قریب ہوتی ہیں، نیز فرمایا: خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي وما أكرم النساء إلا كريم ولا أهانهن إلا لئيم( كتاب الأربعين في مناقب أمهات المؤمنين) (ص: 109) کہ   تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ برتاؤ میں اچھا ہواورمیں تم سب سے زیادہ اپنے گھر والوں سے اچھا سلوک کرنے والا ہوں اورعورتوں کی عزت اور تکریم شرفاء کا اور ان کی اہانت وتحقیر رذیلوں کا شیوہ ہے،نیزعورتوں کےساتھ کھلانےپلانے،رہن سہن میں حسن سلوک کی بہت سخت تاکیدیں فرمائی،چنانچہ فرمایا:الاواستوصوا بالنساء خيرا۔۔۔۔۔ ألا وحقهن عليكم أن تحسنوا إليهن في كسوتهن وطعامهن». رواه الترمذي، وقال: «حديث حسن صحيح»اور پھردوسری طرف ومذہبی واسلامی معاشرتی اقدار وروایات میں اسے عبادات کا بھی مکلف بنادیا کہ وہ بھی اللہ کی عبادت کر کے اجروثواب اور قدرو منزلت  حاصل کرنے میں مردوں سے کم نہیں ،بلکہ اپنے اخلاص اورجدو جہد سے مردوں سے بھی سبقت لے جاسکتی ہیں، چنانچہ قرآن مجید میں  اہل ایمان کوتوصیف کے تمغوں سے نوازنے  میں مردوں کے ساتھ انہیں بھی بلاتفریق  نواز، چنانچہ اگر مردوں کو مسلمین، مؤمنین، قانتین، صادقین، صابرین، خاشعین،صائمین، حافظین ذاکرین کےخطابات سےنوازاہےتو  اس کےساتھ ساتھ عورتوں کوبھی مسلمات،مؤمنات،قانتات،صائمات،صادقات،صابرات،خاشعات،متصدقات،حافظات،ذاکرات کےتمٖغوں سے نوازکر دونوں کو بلا تفریق مغفرت اور اجر عظیم کی بشارت سے نواز، ارشاد خداوندی ہے:{إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا } [الأحزاب: 35] بلکہ بہت ساری مذہبی ذمہ داریوں سے عورتوں کوخصوصی استثناء اور رخصت بھی دے رکھی ہے۔چنانچہ جہاد،جمعہ،قضاءعامہ وحکومت وریاست کے ذمہ داریوں سے اسے مکمل آزادی بخشی اورصنف نازک کےمخصوص حالات مثلا حالت حیض ونفاس میں بعض احکام مثلا نماز اور روزے کے احکام میں خصوصی تخفیف فرمائی،لیکن اس سب کچھ کے باوجود ان کےاخروی اجرو ثواب میں کمی نہیں فرمائی،بلکہ مؤمن مردوں اور عورتوں دونوں کےلیےمطلقا مکمل اجر وثواب کی وعدہ کے ساتھ آخرت میں جنات خلد وخدواندی خوشنودی کی مکمل و  مساویانہ بشارت دی ہے اور واضح الفاظ میں فرمایا  کہ{وَعَدَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ وَرِضْوَانٌ مِنَ اللَّهِ أَكْبَرُ ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} [التوبة: 72]البتہ غیر اختیاری فضائل جیساکہ مرد ہونا اور اس کی وجہ سے جہادوغیرہ میں شرکت  اور میراث میں ان کا دوگنا حصہ ہونا اور مرد کی گواہی کا کامل ہونا وغیرہ اس میں خدواندی تقسیم پر رضامندی کو شیوہ بنانے اور کسی حکمت الہیہ پر مبنی ہونے کا نظریہ وعقیدہ رکھنے کا حکم بھی ساتھ دیا ہے: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا } [النساء: 32]  ترجمہ:"اور تم(سب مردو عورت) ایسےکسی امرکی تمنامت کیاکروجس میں اللہ تعالی نے بعضوں کوبعضوں پرفوقیت بخشی ہے،کیونکہ مردوں کےلیےان کےاعمال کاحصہ( اخروی ثواب) ثابت ہے اورعورتوں کےلیے ان کےاعمال کاحصہ( اخروی ثواب) ثابت ہے،اوراللہ تعالی سےاس کےفضل کی درخواست(یعنی دعاء) کرو،بلا شبہ اللہ تعالی ہر چیز کوخوب جانتےہے۔"

نیزجہاں اسلام نے عورت کوفی الجملہ انسانی و مذہبی معاشرتی مساوات،آزادی وحقوق دیئے ہیں تو ساتھ ہی اس کے حدود بھی متعین فرمادیئے ہیں کہ وہ اپنی شادی  کے معاملات میں شرعی پابندی کے دائرہ  میں خود مختار ہے، اسی طرح اپنے مالکانہ حقوق وتصرفات کےاختیار  کا حق اسے دیا گیا ہے اور بوقت ضرورت اس کو مختلف ذرائع معاش اختیار کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے، اسے حق وصیت دیا گیا ہے، اسی طرح اسے میراث کا مستحق ٹہرایا گیا ہے، نیز دیت اور قصاص میں وہ مردوں کے برابر مانی گئی ہے، ان کی عزت ،عقت اور پاکدامنی پر غلط انگلی اٹھانے والوں کی سزامردوں کی سزا کے برابر رکھی گئی،اور مرد(شوہر) کی طرف سے غلط بہتان پر اس سے لعان کے ذریعہ جدائی کا حق بھی دیا گیا ہے ، نیزجدائی کے بعد  ایک متعین مدت تک کے لیے اسے اپنی ممتا کو سہارا دینے کے لیے  بچے کی پرورش کا حق بھی دیا گیا ہے، اسی طرح اسے گواہی  دینےکا حق استعمال کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے اگرچہ وہ مرد کی گواہی کے آدھی کے برابر ہے، اسی طرح ناچاقی کی صورت میں اس کو بالواسطہ( بواسطہ عدالت) فسخ نکاح کا حق استعمال کرنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔الغرض دنیاکاکوئی قدیم یاجدیددستورونظام اوررسم ورواج ایسانہیں،جس نےعورت کووہ مقام دیاہوجو اسلام نےاسےدیاہے۔

چادراورچاردیواری اورطلب معاش کےمسئلہ میں اسلامی نقطہ نظرکافلسفیانہ پس منظر:

اسلام نے عورتوں کی عصمت وآبرو  اور ان کے حقوق کےاحترام وتحفظ کویقینی بنانےکےلیےاس کو بنیادی طور پر گھر میں رہنے کی تاکید فرمائی ہے،اوراس کو نکاح جیسے مقدس بندھن میں بندھے رہنے کی تلقین کی گئی اور مردوں کو بشرط عدل ونصاف صرف چار شادیوں کی اجازت دی گئی اور اس کے نان نفقہ کا ذمہ دار مرد کو بنایا گیا اور  ان تمام عوامل پر پابندی لگائی گئی جو اس کی عزت وآبرو کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں،چنانچہ نامحرم کے لیے اسے دیکھنے کو آنکھ کا زنا قرار دیا گیا،مردوں سے اختلاط پر پابندی لگائی گئی،گھر سے بلاضرورت نکلنے پر پابندی لگائی گئی، اس لیے کہ عورتوں کے ذمہ  گھریلو معاملات سپرد کئے گئے ہیں، لہذا اس کا حل یہی ہے کہ عورت گھر میں اپنی حاضری کو یقینی بنائے تاکہ گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی تربیت اور خانگی امور کی بروقت  ادائیگی ممکن ہو اور مرد کے ذمہ چونکہ گھر سے باہر کے کام ہیں کہ وہ معاش تلاش کرے اور اس صنف نازک  اور اپنی اولاد کی تربیت اور پرورش کی ذمہ داری نبھائے اس کےلیے اس پر گھر میں بند رہنے کی پابندی نہیں لگائی گئی۔

عام حالت میں  عورتوں کوطلب معاش کےلیے گھرسےباہر نکلنے سےمنع کیا گیا ہے،البتہ بوقت ضرورت وحاجت عورتوں کو گھر سے نکلنے کی بھی اجازت شریعت نے دے رکھی ہے،اس لیے کہ غیر شادی شدہ لڑکی خواہ نابالغ ہو یا کہ بالغ، اس کی کفالت بنیادی طور پر اسکے والد پرڈالی گئی ہے اور شادی شدہ عورت کی کفالت  اس کے شوہر کے ذمہ ہے، البتہ اگر اس کا شوہر نہ ہو اور اس کے علاوہ اس کی کفالت کا کوئی بندوبست( ورثہ کی طرف سے) نہ ہو سکے تو ایسی صورت میں اپنے اور بچوں کی کفالت کےلیے حدود شریعت میں رہتے ہوئے کوئی بھی  جائزذریعہ معاش اختیار کرسکتی ہے۔ یہی حکم اس کی تعلیم اور  تربیت کا ہے کہ جب تک گھر میں بندوبست ہوسکے تو نکلنا درست نہیں، ورنہ حدود شریعت میں رہتے ہوئے باہر جاسکتی ہے۔

خواتین معاشرےکےہراس شعبہ زندگی میں جاسکتی ہیں جہاں ان کی ضرورت ہو،لہذا مثلاتعلیمی اداروں ،ہسپتالوں اورسیکورٹی اداروں میں سے جہاں جس قدران کی ضرورت ہے، وہ جاسکتی ہیں ،لہذااس کے لیے متعلقہ تعلیم اوراس کےبعدمتعلقہ پیشےسےوابستگی بھی درست ہے،لیکن شرط یہی ہے کہ پردہ کی مکمل پابندی کےساتھ ان کی جس قدر(ذاتی یا ملی وقومی)ضرورت ہو،اسی قدرکی اجازت ہوگی،لہذابلاضرورت یازائدازضرورت  جانایعنی محض رقم کمانےکےلیےجانااورشامل ہونااسلامی تعلیمات کےمنافی ہے۔البتہ صنفی نزاکت و کمزوری اورعموماجذبات سے مغلوبیت،جلد فریب خوردگی اورناعاقبت اندیشی جیسی فطری کمزوریوں کے ہوتے ہوئے حکومت وریاست،قضاء عامہ اور عدالتوں کے شعبوں  کے بوجھ اٹھانے سےانہیں روک دیا گیا ہے۔

مغربی تحریک آزادی یا حقوق نسواں  کی اسلام میں گنجائش نہیں۔:

 عورتوں کے حقیقی حقوق  اور فطری آزادی پر مشتمل اسلام کے پیش کردہ نظام ستروحجاب اور صنف نازک کے مقدس ومحترم مقام ومنزلت پر مبنی نظام کو تہ وبالا کرنے کے لیے مغرب کے مستشرقین اور غیر مسلم مصنفین اور مسلمانوں کے نام نہاد مصلحین ومفکرین وترقی پسندوں نے اس الہی نظام کوعرصہ دراز سے نشانہ تنقیدو تضحیک بنایا ہوا ہے،اور مسلمانوں میں مغرب سے مرعوب اذہان  بھی  اہل مغرب کی لے میں لے ملاتے ہیں،لہذا کبھی توتعددازواج کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو کبھی حبس بے جاکےعنوان سے پردہ کو  تختہ مشق بنایا جاتا ہے اور کبھی مسلمان عورتوں کی مظلومیت اور قید وبند کا ماتم شروع کیا جاتا ہے، اس طرح اسلامی معاشرے میں مسلمان عورت کی ایک نہایت بھیانک اور قابل رحم تصویر بناکر پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آزادی یاحقوق نسواں تحریک ہو یا مساوات مردوزن کے نام سے تحریک ہویہ در حقیقت تہذیب مغرب کی ایک خطرناک سازش ہے،جس کا بنیادی مقصدحقوق اورغیرفطری آزادی یانام نہادمساوات کےنام پر عورتوں کو  معاشرتی اموروانتظامی اختیارات کے اعتبارسے نہ صرف یہ کہ مردوں کے شانہ بشانہ لا کھڑا کرنا ہے، جس سے معاشرے میں عدم توازن پیدا ہونا ایک لا بدی حقیقت ہے،جس کا  عورتوں کی کم عقلی کےباعث خودآزادی نسواں کا علمبردارمغرب بھی شکار ہے،بلکہ ہر قسم کے اخلاقیات اور مذہبی اقدار سے کھلی آزادی دلانا ہے  اور اسے انسانی معاشرے میں ایک کھلونا بلکہ مردوں کی تسکین خواہش اورہوس کا مشترکہ ارزان بلکہ بے قیمت پرزا بنانا ہے،جس کی اسلام جاہلیت اولی کےعنوان سےنفی کرتارہاہے،اس لیے کہ اس سے معاشرے میں عورت کے صنفی احترام  وتقدس اورجنسی تحفظ کابالکل ختم ہوجانا نہ صرف یہ کہ محتاج بیان ودلیل نہیں،بلکہ معاشرےکےہرکس وناکس کومشاہدبھی ہے، نیز یہ تحریک درحقیقت مسلم ممالک میں مغربیت (جنسی بے راہ روی اور فحاشی)کو فروغ دینے کی ایک خطرناک سازش  ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کے خاندانی نظام کو تباہ کرنا ہے۔لہذا اس مغربی تحریک کا حصہ بننے والے نام نہاد مسلم اسکالرودانشوراپنے منفی سرگیوں پرنظر ثانی کریں،ورنہ اللہ کی طرف سےدنیوی واخروی وبال اور عذاب کے منتظر رہیں، ارشاد خدواندی ہے:{ إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} [النور: 19]


حوالہ جات

۔۔۔۔۔


مجيب
نواب الدین
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :80959
تاریخ اجراء :2023-08-10