والد کا اپنے بچے سے ملنے کا حق

سوال کا متن:

والدین میں  ایک طلاق کے بعد علیحدگی ہو چکی ہے۔ والد خود اپنے بچے کو والد ہ کے گھر چھوڑ کر آ یا تھا۔ والد عدالت کا طے کردہ خرچہ باقاعدگی سے ادا کر رہا ہے۔ عدالت نے والد کی ولا یت برقرار رکھی ہے ا ور ساتھ ہی  گھر کی ملاقات کے لئے کیس د ائر کرنے کی تجویز دی  ہے۔ فی الحال عدالت نے مہینے میں 1 گھنٹہ ملاقات طے کی ہے۔ والدہ اور اسکے گھر والوں سے متعدد مرتبہ بچے کی گھر کی ملاقات کی درخواست کی جا چکی ہے لیکن ان کی جانب سے انکار ہے۔ بچہ کی عمر ۴ سال سے زائد ہے۔ از روئے  شریعت، والد اپنے بچے  سے کس قدر گھر میں ملاقات  کا حقدار ہے؟

جواب کا متن:

میاں بیوی میں طلاق ہوجانے کے بعد باپ کو اُس کی اولاد سے ملنے سے نہیں روکا جاسکتا۔ لہذا جب بھی بچوں کا باپ بچوں سے ملنا چاہے گا تو اُسے اُن سے ملنے کی اجازت ہوگی، بچوں کو باپ سے ملنےنہ  دینا گناہ ہے۔ایک ماہ کی مدت بلاوجہ کا باپ پر ضرر ہے، اگر ہفتہ وار یا ہفتے میں کئی بار بھی باپ بچے سے ملنا چاہے تو اس کو حق ہے، یہ حق دلانا عدالت کی ذمہ داری ہے۔


حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (3/ 571):

"يؤيده ما في التتارخانية: الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعهده. ولا يخفى أن السفر أعظم مانع. (قوله: كما في جانبها) أي كما أنها إذا كان الولد عندها لها إخراجه إلى مكان يمكنه أن يبصر ولده كل يوم."

الفتاوى الهندية (1/ 543):

"الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي."


مجيب
محمد فرحان بن محمد سلیم
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
سعید احمد حسن صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :80963
تاریخ اجراء :2023-08-10