کیا مسلم گھرانوں میں تشدد کی وجہ اسلامی تعلیمات ہیں؟

سوال کا متن:

ناقدین سورت نساء کی آیت کو مسلمانوں میں گھریلو تشدد کی وجہ بتاتے ہیں،کیا ایسا ہی ہے؟

جواب کا متن:

قرآن مجید انسانیت کی رہنمائی کے لیے آنے والی آسمانی تعلیمات ہیں، جو ایسے مسلمہ اصول و ہدایات پر مشتمل ہیں کہ رہتی دنیاتک کوئی بھی ان کا متبادل تو کیا، ان کا مثل ،بلکہ ان کا عشر عشیر بھی پیش کرنے سے قاصر ہے۔انسانیت کی ہدایت اور اصلاح کے لیے کونسا طریقہ کار مفید ہے؟ وہ انسان کو پیدا کرنے والے خالق کے سوا کوئی دوسرا  کیسے جان اور بیان کرسکتا ہے؟ {أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ } [الملك: 14]

 اہل مغرب، مستشرقین عموما مختلف احکام شرعیہ اور ان سے متعلقہ نصوص کو اعتراضات کا نشانہ بناتے ہیں اور احکام الہیہ کو  جدیدانسانی معاشرے کےلیے غیرموزوں قرار دیتے ہیں، جس میں بہت سےنام نہاد اسلامی اسکالر بھی  انکےہمنوا ہوجاتے ہیں، چنانچہ حقوق نسواں یا مساوات کے خوشنما نعرے کےنام پر اسلام کے پیش کردہ خاندانی نظام پر مختلف طریقوں سے اعتراضات کیئے جاتے ہیں،جن میں درج بالا اعتراض بھی شامل ہے۔ 

سؤال میں مذکور آیت سے غالبا سورت نساء کی آیت {الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا } [النساء: 34]  کی طرف اشارہ ہے ،لیکن واضح رہے کہ اس آیت کو مسلم گھرانوں میں تشدد کی وجہ یا بنیاد بتانا بد فہمی کی دلیل ہے، اس لیے کہ یہی آیت گھروں میں، امن و سکون  اور خوشحالی کی ضامن ہے۔چنانچہ اس آیت میں تقسیم اختیارات اور تعین دائرہ عمل کو واضح فرمایا گیا ہےاور کسی معاشرتی اجتماعی نظام میں افراد میں اختیارات اور دائرہ عمل کی تقسیم  ایک لابدی اور ضروری امر ہے جس سے وہ نظام  پر سکون  اور خوشحال ہوتاہے،ورنہ لازم آتا ہے کہ جو اختیارات ریاست کے ہیں وہی اختیارات عوام اور رعایا کو بھی دیئے جانے چاہئیں اورجو اختیارات مالک اورآقا کے ہیں وہی اختیارات  مملوک اورنوکر کےبھی ہوں ،لیکن اس بات کو کوئی بھی قرین عقل وقیاس نہیں قرار دے گا۔

 خاندانی نظام کی تشکیل اور تنظیم کے سنہرے اور روشن اصول پر مشتمل قرآنی آیت مبارکہ:

تفصیل اس اجمال کی آیت کی تفسیر کی روشنی میں یہ ہے کہ  ازدواجی رشتہ اور تعلق ایک خاندانی نظام کے تشکیل کی بنیادی اکائی ہےاور انسانی معاشرےکے کسی بھی نظام میں حاکم اور محکوم کا تعلق اور ربط ایک لابدی ضرورت اور حقیقت ہے، جیساکہ پہلے بھی بیان ہوچکا،لہذااس نظام کےافراد میں حاکم اور محکوم کی تعیین  کےبنیادی وجوہ  اور اس نظام کے افراد کے اختیارات اور دائرہ عمل کی تعیین اور تحدید اور حاکم اور محکوم کے درمیان اختلاف اور تنازع کے تصفیہ وحل کے اصول اور طریقوں کو بیان کرنے کے لیے یہ آیت  ایک روشن اور سنہرا باب ہے،چنانچہ سب سے پہلے اس آیت کا ابتدائی حصہ"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ" مرد اور عورت کے آپس کے تعلق سے پیدا ہونے والے نظام میں حکام کی تعیین کرتے ہوئے مرد کو عورت پر حاکم قرار دینے کا اعلان کرتی ہے اور اس کی  درج ذیل دو مضبوط ومعقول بنیادی وجہیں بیان کرتی ہے:

 (۱)  سب سے پہلےخلقی اور فطری طور پر مردوں کی جسمانی ذہنی  ساخت اورعملی کارکردگی کو بنیاد بنایا گیا ہے، اس لیے کہ حاکم کے اندر دو صلاحیتوں کا ہونا ضروری ہے : ایک قوت فیصلہ اور دوسری  قوت تنفیذ عمل اور یہ دونوں صلاحتیں ذہنی کاکردگی اور جسمانی ساخت میں کمال کا تقاضا کرتی ہیں اور عورتوں کی بنسبت مردوں میں یہ اوصاف بدرجہ اتم ہیں ، چنانچہ عورتوں کا جسمانی قوت کے لحاظ سے مردوں سے کم زور ہونا تو ظاہر ہے اورسمجھ بوجھ  اور ذہنی لحاظ سے کم زور ہونے کی دلیل یہ ہے کہ  عام مشاہدے میں مردوں کی بنسبت عورتیں  جذبات کی مغلوبیت اور جلد فریب خوردگی اور ناعاقبت اندیشی میں مردوں سے بڑھ کر ہیں، لہذا معلوم ہوا کہ وہبی (خلقی اور فطری) لحاظ سے مرد عورت کی بنسبت حاکمیت کے زیادہ موزوں ہے۔

(۲)اسی پہلی وجہ پر تفریع کرتے ہوئے حاکمیت کی دوسری وجہ بیان کرتے ہوئے قرآن مجید فرماتاہےکہ نفقہ اور مالی ذمہ داریاں مردوں کے ذمہ ہے ،اس لیے کہ عورت اپنی فطری جسمانی ساخت کی کمزوری کے باعث اور گھر سے باہرکے ماحول کا  اس کے لیے سازگار نہ ہونے کے باعث ان ذمہ داریوں کی متحمل نہیں،لہذاآیت کے اس حصہ کی اس تفصیل وتفسیر سے جہاں مرد کی حاکمیت کی مضبوط ومعقول وجوہ سامنے آتی ہیں تووہیں اس طرف بھی اشارہ ہوتا ہے کہ جب تقسیم کار کے اصول کی بنیاد پر مالی ذمہ داریاں اور اس کے لیے طلب معاش مرد کے ذمہ ڈال دی گئی ہے تو عورت کے ذمہ امور خانگی رہ جاتے ہیں کہ وہ اسی کی متحمل ہے۔لہذا یہ سمجھنا درست نہیں کہ   عورت کو اپنے نفقہ میں مرد کا محتاج کرکے اس کا رتبہ کم کردیا گیا ہے، بلکہ یہ محض تقسیم کار کے اصول کے پیش نظر  ڈیوٹیاں تقسیم کردی گئی ہیں،، جس سے ایک دوسرے پر جزوی تفاضل ایک لابدی امر ہے ،لیکن مرد کی یہ  حاکمیت اور برتری نہ تو عورتوں کا رتبہ کم کرنے کے لیے ہے اور نہ ہی اس میں خاص مردوں کی کوئی ذاتی منفعت ہے،بلکہ اس کا فائدہ بھی درحقیقت عورت ہی کی طرف واپس لوٹتا ہے۔

 تقسیم عمل واختیارات کے اس بنیادی اصول کے بعدچونکہ عملی دنیا  میں عورتوں کے دو طبقے ہوگئے ہیں : (۱) ایک وہ جنہوں نے اس بنیادی اصول اور اپنے معاہدہ  زوجیت کی پابندی وپاسداری کی اور مرد کی حاکمیت کو تسلیم کرکےاس کی اطاعت کی، ایسا طبقہ چونکہ خانگی امن واطمینان کا خود ہی کفیل ہے،لہذا اس کو کسی اصلاح کی ضرورت نہیں،(۲) دسرا طبقہ وہ ہے جو اس اصول  اور معاہدہ ازدواج کے مطابق عمل پر آمادہ   نہ ہو۔

 چنانچہ آیت کے اگلے حصہ" فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ "میں محکوم بیوی کی منصبی ذمہ داری بیان کی گئی ہے کہ عورت اگر باصلاح ہے، یعنی وہ  شوہر کے مزاج کی ہم آہنگ اور آمادہ برعمل ہو تو اس کے ذمہ تمام انتظامی اور جائز شرعی امور میں شوہر کی اطاعت لازم ہے اور یہ اطاعت  احسان کے درجہ میں ہو یعنی سامنے بھی، پیٹھ پیچھے بھی،شوہر کے جان مال اور عزت کی مکمل حفاظت کرے اور صنفی نزاکت کے پیش نظر اس ذمہ داری کے اٹھانے میں خصوصی توفیق خدوندی  کےشامل ہونےکا مژدہ بھی سنایا گیا ہے اور دوسرے طبقہ کی اصلاح کے لیے آیت کے دوسرے  اگلےجملے" وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ" میں ایک ایسا مرتب نظام بتلایا گیا کہ جس کے ذریعہ گھر کی اصلاح گھر کے اندر ہی ہوجائے اور میاں بیوی کا جھگڑا انہیں دونوں کے درمیان نمٹ جائے ، کسی تیسرے کی مداخلت کی ضرورت نہ ہو، اس میں حاکم مردوں کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر عورتوں سے نافرمانی ہوجائے یا اطاعت میں کچھ کمی محسوس کرو تو سب سے پہلا کام یہ کرو کہ سمجھا بجھا کر ان کی ذہنی اصلاح کرو اور انہیں عمل اور اطاعت پر آمادہ کرو ، اس سے کام چل گیا تو معاملہ یہیں ختم ہوگیا ،  عورت ہمیشہ کے لیے گناہ سے اور مرد قلبی اذیت سے اور دونوں رنج وغم سے بچ گئے، اور اگر فہمائش سے کام نہ چلے تو دوسرا درجہ یہ ہے کہ ان کو  عملی تنبیہ کرنے  اور اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کےلیے خود علیحدہ بستر پر سوؤ ، یہ ایک معمولی اور بہترین  تنبیہ ہے، اس سے عورت متنبہ ہوگئی تو جھگڑا یہیں ختم ہوگیا اور وہ اس شریفانہ سزا پر بھی اپنی نافرمانی اور کج روی سے باز نہ آئی تو تیسرے درجہ میں معمولی مار مارنے کی بھی اجازت دیدی گئی ہے، جس کی حد یہ ہے کہ اس مار کا اثر وزخم نہ ہو۔ مگر  اس تیسرے درجہ کی سزاکے استعمال  کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہیں فرمایا ،بلکہ فرمایا کہ شریف لوگ ایسا نہیں کریں گے۔لہذا معلوم ہوا کہ اس سزا کی شرعی حیثیت محض ایک مشروط ومحدود اجازت کے درجہ سے زیادہ نہیں۔

 بہر حال اس معمولی مار پیٹ سے بھی معاملہ اگر درست ہوگیا تب تو مقصد حاصل ہوگیا ، اس میں مردوں کو عورتوں کی اصلاح کے لیے جہاں تین اختیارات دیئے گئے ہیں تو وہیں آیت کے آخری حصہ" فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا" میں یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ اگر ان تین نمبری تدریجی تدبیروں سے وہ تمہاری بات ماننے لگیں تو اب تم بھی  زیادہ  بال کی کھال نہ نکالو اور الزام تراشی میں مت لگو ،بلکہ چشم پوشی سے کام لو اورخاص شوہروں کی اصلاح کے لیے ایک بہترین نسخہ ارشاد فرمادیا کہ" خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالی نے ہی تمہیں عورتوں پر بڑائی اور اختیارات دئیے ہیں تو اللہ کی بڑائی تمہارے اوپر بھی مسلط ہے(سزا کی تنفیذ میں اس کو ہمیشہ سوچتے رہو )،تم نے زیادتی کی تو اس کی سزا تم بھگتوگے۔(ماخوذازمعارف القرآن:ج۲،ص۴۰۱ تا ۴۰۶)

اعتراض کا منشاء ناقدکی بدنیتی  یا بدفہمی ہے:

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں تحریک حقوق یا آزادی نسواں کے علمبرداروں سے سؤال ہے کہ  اس آیت کا کونسا حصہ کس طرح کسی مسلم گھرانے کی تشدد کی وجہ بن سکتاہے؟جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی مسلم گھرانے میں  تشددیا تنازع ہے تو اس کی  بنیادی وجہ اس آیت پر عمل نہ کرنا ہے، اس لیےکہ اس آیت اور اس کی بعد بھی کسی بھی آیت میں کسی بھی طرح تشدد کی اجازت نہیں دی گئی، بلکہ قرآن مجید کی اس آیت اور بعد کی آیات میں خاندانی اور گھریلو تشدد اور تنازع  کے اصلاح اور تصفیہ کے لیے تین درجے بیان کئے گئے ہیں:

۱۔ گھر کے جھگڑے کا حل اور تصفیہ گھر ہی میں  تدریجی تدبیروں سےچکادیا جائے۔جس میں مار کی سزا آخری اور وہ بھی مشروط ومحدود اجازت کے درجہ میں ہے اورحدود سے تجاوز کی صورت میں  اخروی مؤاخذہ کی تنبیہ بھی ساتھ مذکور ہے۔

۲۔ یہ صورت ممکن نہ رہے تو حکام یا برادری کے لوگ دوحکموں کے ذریعہ ان  میں مصالحت کی کوشش کریں، تاکہ گھر کا جھگڑا اگر گھر میں ختم نہ ہو تو کم از کم  خاندان کے اندر ہی اندر محدود ہوکر ختم ہوسکے۔

۳۔ جہاں یہ دوسرا طریقہ بھی مفید یا ممکن نہ رہے تو آخر میں معاملہ قانونی طریقے اور عدالت تک پہنچتا ہے اور عدالت دونوں کی حالات ومعاملات کی تحقیق کر کےعادلانہ فیصلہ کرے۔

 ہمارے خیال میں متمدن دنیا خاندانی نظام کی تشکیل اور تنظیم اوراس کے مشکلات کے لیےقرآن کی اس آیت میں پیش کردہ اصول اور ہدایات پر مشتمل فارمولے سے  بہتر کوئی فارمولا  پیش نہیں کرسکتی۔ ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین۔

حقیقت یہ ہے کہ تحریک نسواں کےناقدین کایہ اعتراض اگر آیت کا حقیقی مفہوم جاننے کے باوجود ہے تو  بد نیتی پر مبنی ہے،ورنہ بد فہمی کی دلیل وعلامت ہے، ہاں بعض دفعہ بعض افراد کی کسی قانون کی غلط تشریح یا غلط تطبیق سےبعض پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں ،لیکن اس کی وجہ سے  پورے معاشرے کے لیےاصل قانون کو ہی مورد الزام ٹہرانا ہرگز درست نہیں،بلکہ ایسا کرنا بہت بڑی سنگین غلطی اور ناعاقبت اندیشی قراردی جائے گی۔


حوالہ جات

۔۔۔۔۔


مجيب
نواب الدین
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :80960
تاریخ اجراء :2023-08-10