عقداجارہ کےبغیرہدیہ کے نام سے حق خدمت اجرت نہیں۔

سوال کا متن:

مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں اس بارے میں کہ ایک شخص جوکہ اپنے دوست کے مال کو بغیر متعین معاوضہ کے  بیچ رہا ہے، گذشتہ سالوں کے تجربہ سے یہ واضح ہے کہ وہ ہرسال مالک کو خاصہ نفع دے رہا ہے ،مالک دوست کو مال بیچنے پر بطور ہدیہ کےکچھ رقم دیتا ہے، جو وہ بخوشی قبول کرلیتا ہے،اگر یہ اجارہ کی صورت ہوتی تو اجرت معین نہ ہونے کی بناء پر معاملہ ناجائز تھا ،لیکن چونکہ معاملے کی نوعیت طے نہیں اور مالک بھی اس کو خدمت کا بدل ہدیہ کے طور پر دے رہا ہے تو کیا یہ شرعا جائز ہے؟

جواب کا متن:

اس طرح حق خدمت ہدیہ کے نام سے دینا جائز ہے، لیکن اگر خدمت وصول کرنے والا  حق خدمت دینے سے انکار کردے تو اس پر جبر نہیں کیا جاسکے گا۔


حوالہ جات

۔۔۔۔۔


مجيب
نواب الدین
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :80942
تاریخ اجراء :2023-08-07