مالک کی اجازت کے بغیر اس کی رقم سے سرمایہ کاری اور منافع کا حکم

سوال کا متن:

اسی صورت میں دوست جو کہ جانور بیچ رہا ہے وہ مالک کا مال بیچنے پر جو رقم اکھٹی کرتا ہے، اس کو منڈی ختم ہونے سے پہلے منڈی سے مزید جانور لاکر اصل مالک کے جانوروں کے ساتھ ہی بیچتا ہے، اس بعد والے جانوروں سے حاصل ہونے والے نفع میں اصل مالک کا کوئی حصہ نہیں، حالانکہ ان جانوروں کا راس المال تو اصل مالک کا تھا، ایسا کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں؟

جواب کا متن:

مالک کی اجازت کے بغیر اس کی رقم سے اپنے لیے جانور خریدکر فروخت کرنا جائز نہیں بلکہ یہ غصب کے زمرے

 میں آتا ہے اور اس کے منافع بھی ناجائز ہیں، لہذا ایسے میں اصل رقم مع منافع اصل مالک کو لوٹانا ضروری ہے،البتہ اگروہ یہ کام دوست کو بتا کرکرتا ہےتویہ شرعا جائزہے،ایسے میں دوست کی رقم اس پر قرض بن جاتی ہے،اس لیےنفع سارا اس کےلیےخود رکھناجائز ہوتا ہے۔


حوالہ جات

۔۔۔۔۔


مجيب
نواب الدین
مفتیان
سیّد عابد شاہ صاحب
محمد حسین خلیل خیل صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :80943
تاریخ اجراء :2023-08-07