حَکَم کا فیصلے میں ٹال مٹول کرنا

سوال کا متن:

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ
زید اور بکر کے مابین کوئی جھگڑا چل رہا تھا۔ فیصلے کے لیے انہوں نے حکم مقرر کیے۔ وہ آجاتے ہیں، خصمین کو بٹھا دیتے ہیں، پھر کوئی فیصلہ کیے بغیر ہی مقدمے کو مؤخر کر دیتے ہیں اور اجرت صول کرکے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح سے یہ عمل کئی بار دہراتے ہیں اور فیصلہ کیے بغیر ہی صرف پیسے لے لیتے ہیں۔
کیا شریعت کی نظر میں ان کا اس طرح سے اجرت لینا اور معاملے کو ٹالتے رہنا درست ہے؟
o

جواب کا متن:

مذکورہ صورت میں زید اور بکر کا حَکَم کے ساتھ طے ہونے والا معاملہ اجارہ کہلاتا ہے۔ اس میں معلوم عمل یا وقت، کسی ایک کو طے کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یعنی حکم صرف وقت دینے سے اجرت کا مستحق ہوگا یا عمل (فیصلہ) مکمل کرنے سے۔ اگر عمل مکمل کرنے کا معاملہ طے ہوا ہو تو جب تک حکم فیصلہ نہ کرلے وہ اجرت کا مستحق نہ ہوگا۔ لیکن اگر معاملہ صرف وقت دینے کا طے ہوا ہو، تو جتنی مرتبہ بھی اس نے مقدمے کی کارروائی کی، ہر مرتبہ کی اجرت کا مستحق ہوگا۔
مذکورہ صورت میں چونکہ خصمین کا حکم کے ساتھ وقت پر معاملہ طے ہوا ہے، جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے، لہٰذا حکم جب جب بھی وقت دے گا اور مقدمے کی کارروائی کرے گا، اجرت کا مستحق ہوگا۔ البتہ اس کا جان بوجھ کر فیصلے میں تاخیر کرنا اور اس کو کمائی کا ذریعہ بنانا درست نہ ہوگا۔
حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 69)
(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

مجيب
متخصص
مفتیان
مفتی سیّد عابد شاہ صاحب
مفتی محمد حسین خلیل خیل صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :62875
تاریخ اجراء :2019-05-26