1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

صلح کرتے وقت مظلوم،مقتول کے گھر/قبرستان کے پاس جانور ذبح کرنے کی رسم

سوال

ہمارے علاقے میں جب کسی تنازع میں فریقین کی صلح کروائی جاتی ہے تو اس موقع پر صلح کرانے والے حضرات قاتل یا ظالم فریق کو حکم دیتے ہیں کہ وہ مظلوم یا مقتول کے گھر یا قبرستان کے پاس دنبے کو ذبح کرے۔کبھی صلح کرانے والا خود فریقین کی اجازت سے دنبہ ذبح کرتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا اِس دنبے کا گوشت حلال ہے یا حرام؟

جواب

اِن صورتوں میں بھی گھر کے پاس ذبح کرنے سے متعلقہ شخص کی تعظیم مقصود ہوتی ہے،جس سے ذبیحہ حرام ہوجاتا ہے،لہذا اِن صورتوں میں بھی اِس طریقے سے احتراز کرنا لازم ہے۔البتہ اگر صلح کے بعد خیرسگالی کے طور پر ایک دوسرے فریق اور صلح کرانے والوں کو کھلانے کی غرض سے کسی کے گھر جانور ذبح کیا جائے اور اِس میں کسی کی تعظیم مقصود نہ ہو تو نہ صرف جائز،بلکہ باعثِ اجروثواب بھی ہے۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی: ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها إلى الحكام لتأكلوا فريقا من أموال الناس بالإثم وأنتم تعلمون.( آیت:188 )
قال العلامۃ جلال الدین رحمہ اللہ: (ولا تأكلوا أموالكم بينكم( أي: يأكل بعضكم مال بعض {بالباطل} الحرام شرعا ،كالسرقة والغصب {و} لا {تدلوا} تلقوا {بها} أي :بحكومتها أو بالأموال رشوة {إلى الحكام لتأكلوا} بالتحاكم {فريقا} طائفة {من أموال الناس} متلبسين {بالإثم وأنتم تعلمون} أنكم مبطلون. (تفسير الجلالين : 39)
قال مسدد : حدثنا معتمر ، عن أبيه حدثني شيخ لقيه بالبحرين ، عن خطبة النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع ، أنه قال : لا يحل من مال امرئ إلا ما أعطى عن طيب نفس .
(إتحاف الخيرة المهرة :3/ 356)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: (ذبح لقدوم الأمير) ونحوه ،كواحد من العظماء (يحرم) ؛لأنه أهل به لغير الله (ولو) وصلية (ذكر اسم الله تعالى) (ولو) ذبح (للضيف) (لا) يحرم.

مجيب
متخصص
مفتیان
مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب
مفتی شہبازعلی صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :62101/57
تاریخ اجراء :2018-02-15

PDF ڈاؤن لوڈ