گابھن جانور کی قربانی کا حکم

سوال کا متن:

سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک بندے نے قربانی کے لیے ایک بچھیا خریدی اور خریدنے کے کچھ وقت بعد اسے پتہ چلا کہ اس کے پیٹ میں بچہ ہے،اب اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں؟
اگر قربانی جائز نہیں ہے تو اب ان کے لیے کیا حکم ہے،کیا اب ان کے ذمے اسی مالیت کا دوسرا جانور قربانی کے لیے لانا ہوگا،یا اس جانور کو بیچ کر دوسرا جانور قربانی کے لیے خرید سکتے ہیں؟

جواب کا متن:

اگر حمل نیا ہو اور ابھی پیٹ میں موجود بچے میں جان نہ پڑی ہو تو اس کی قربانی بلاکراہت جائز ہے،البتہ اگر اتنی مدت گزرچکی ہو کہ بچے میں جان پڑگی ہو تو پھر اس بچھیا کی قربانی مکروہ ہے،اس کے بجائے اسی کے برابر یا اس سے زیادہ قیمت والا جانور خرید کر قربانی کرلے اور اس بچھیا کے بارے میں اسے اختیار ہے، چاہے تو بیچ دے اور چاہے تو پاس رکھے۔(امدادالفتاوی:3/559)
حوالہ جات
"درر الحكام شرح غرر الأحكام" (1/ 270):
"(تنبيه) يكره ذبح الشاة الحامل إذا كانت مشرفة على الولادة كما في منية المفتي".
"البحر الرائق " (8/ 195):
"ويكره ذبح الشاة إذا تقارب ولادتها لأنه يضيع ما في بطنها".

مجيب
محمد طارق صاحب
مفتیان
مفتی سیّد عابد شاہ صاحب
مفتی سعید احمد حسن صاحب
ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :60066
تاریخ اجراء :2016-08-06