1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

ایک وارث کا ترکہ پر قابض ہونا

سوال

ایک شخص کا انتقال ہوا اس کی دوبیبیاں تھیں جن میں سے ایک مرحوم کی حیات میں انتقال کرگئی تھیں ، اس کے بطن سے 8اولاد ہیں 3 لڑکے 5لڑکیاں دوسری مرحوم کے انتقال کے وقت حیات تھیں بعد میں انتقال کرگئیں اس کے بطن سے 5اولاد ہیں 2لڑکے 3لڑکیاں
ترکہ کی تفصیلات کچھ اسطرح ہیں 1۔ مکان تقسیم ترکہ سے قبل جل گیا بعد میں معاوضہ وصول ہوا 2۔ والد کے انتقال پر حکومت کی طرف سے امداد ملی ہے 3۔ سالوں سے جاپانی پھل فروخت ہوئی ،4۔ مکان کا کرایہ ،دکان کا کرایہ 5۔ قرضہ جات والد کے 6۔ دیگر منقولہ غیر منقولہ جائدادیں
ایک بھائی والد کے تمام ترکہ کو اپنی ملکیت میں رکھنے کو اپنا فرض سمجھتا ہے اسی نے دیگر بھائیوں کی رضامندی کے بغیر سوتیلی ماں پر مرض الوفات پر خرچ کیا ۔
چھوٹے بھائی کو میراث سے یہ کہکر محروم کرنا چاہتاہے کہ تمہاری وجہ سے گھر جل گیا وہ کہتا ہے میری وجہ سے گھر کا معاوضہ ملا ہے ۔ نیز اگر قابض بھائی سے کہاجائے کہ میراث تقسیم کرو تو وہ کہتا ہے کہ میں بہنوں کے ساتھ رشتہ دارہ پالتا ہوں ۔
١۔ ترکہ میں کس وارث کا کتنا حصہ ہے ؟
سوتیلی ماں کے علاج پر جو دیگر ورثا کی اجازت کے بغیر جوخرچ کیا اس کا مواخذہ ہوگا یانہیں ؟

جواب

مرحوم کے انتقال کے وقت منقولہ غیر منقولہ جائداد سونا چاندی ،نقدی اور چھوٹا بڑا جوبھی سامان ان کی ملک میں تھا سب مرحوم کا ترکہ ہے ، مکان جلنے کے بعد جو معاوضہ ملا ہے وہ بھی ترکہ میں شامل ہوگا ۔ حکومتی امداد اگر ورثا کے لئے تبرعا تھی تووہ ترکہ میں شامل نہیں ہوگی بلکہ جس وارث کے نام لیکر دیا ہے وہی اس کا حقدار ہے ، دیگر ورثا اس میں حصہ دار نہیں ہونگے ۔سوتیلی ماں پر ایک بھائی نے دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر جو خرچہ کیا ہے وہ اسی کے حصے میں سے حساب کیاجائے گا ۔
ترکہ کاحکم یہ ہے کہ سب سے پہلے اس میں سے کفن دفن کا متوسط خرچہ نکالاجائے بشرطیکہ یہ خرچہ کسی نے تبرعا ادا نہ کیا ہو ۔ اس کے بعد مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض ہو اس کو ادا کیا جائے ۔ اس کے بعد اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال کی حد تک اس پر عمل کیاجائے ۔ اس کے بعد ترکہ کی تقسیم اسطرح ہوگی کہ
بیوہ کاحصہ = ٪ 5 . 12یہ حصہ بعد میں ان کی حقیقی اولاد دولڑکے تین لڑکیوں میں تقسیم ہوگا۔
5لڑکوں میں سے ہرایک کاحصہ = ٪ 722 . 9
8لڑکیوں میں سے ہرایک کاحصہ = ٪ 861. 4
حوالہ جات
۔
مجيب
احسان اللہ شائق صاحب
مفتیان
مفتی آفتاب احمد صاحب
مفتی سیّد عابد شاہ صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :57801
تاریخ اجراء :2017-04-29

PDF ڈاؤن لوڈ