1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

دوبیوں کی اولاد میں تقسیم ترکہ

سوال

محترم مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ
سید نسیم احمد کی وفات کے وقت مندرجہ ذیل ورثا تھے جوسب اب بھی حیات ہیں
9۔ بیٹے ﴿ پہلی زوجہ سے ۔تمام بالغ ﴾
2۔بیٹیاں ﴿ پہلی زوجہ سے ۔ تمام بالغ ﴾
1۔ بیٹی ﴿دوسری زوجہ سے ۔نابالغ ﴾
اور دوسری زوجہ ۔
واضح ہوکہ سید نسیم احمد کے والدین اور پہلی زوجہ ،ان کے انتقال سے قبل وفات پاچکے تھے ۔
اب سوال مذکورہ بالا زندہ ورثا میں جائداد کی تقسیم کس تناسب سے ہوگی ؟

جواب

مرحوم نسیم احمد نے بوقت انتقال منقولہ غیر منقولہ جائداد سونا چاندی ، نقدی اور دیگر چھوٹا برا جوبھی ساما ن اپنی ملک میں چھوڑا ہے سب مرحوم کا ترکہ ہے ۔ اس میں سے اولا کفن دفن کا متوسط خرچہ نکالاجائے بشرطیکہ یہ خرچہ کسی نے تبرعا ادانہ کیاہو ، اس کے بعد میت کے ذمہ کسی کا قرض ہوتو اس کو ادا کیا جائے ، اس کے بعد اگر میت نے غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو تہائی مال کی حد تک اس کو نافذ کیائے ۔اس کے بعد ورثا کے حصے حسب ذیل ہیں
بیوہ کا حصہ = ٪ 5. 12
9لڑکوں میں سے ہرلڑکے کا حصہ = ٪ 333 . 8
3لڑکیوں میں سے ہرلڑکی کا حصہ = ٪ 166. 4
حوالہ جات
......
مجيب
احسان اللہ شائق صاحب
مفتیان
مفتی آفتاب احمد صاحب
مفتی سیّد عابد شاہ صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :57721
تاریخ اجراء :2017-04-24

PDF ڈاؤن لوڈ