1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

قرآن کریم سے عید ملنا

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے ہاں عیدوالے دن خصوصاً عید کی نمازکےبعد آپس میں عید ملنے کے بعدقرآنِ مجیدسے بھی عید مباک کرتے ہیں یعنی عید ملتے ہیں اوراس کو لازمی سمجھاجاتاہے اورجو اس میں کوتاہی کرے اس کو معیوب سمجھاجاتاہے، کیا یہ عمل بدعت میں نہیں آتا،رہنمائی فرمائیں؟

جواب

شریعت میں قرآن مجید سے عید ملنے کا کوئی ثبوت نہیں اوراگراسے سنت سمجھ کرکیاجائے تو یہ بدعت اورگناہ ہے ،لہذا اس سے اجتناب لازم ہے ۔
حوالہ جات
البدعۃ ھي الأمر المحدث الذي لم یکن علیہ الصحابۃ والتابعون ولم یکن مما اقتضاہ الدلیل(قواعد الفقہ ۲۰۴)
إیراد قول لم یستن قائلہا وفاعلہا فیہ بصاحب الشریعۃ وأماثلہا۔ (المفردات للإمام راغب ۱؍۳۶ میمنیۃ مصر، لسان العرب ۲؍۶ بیروت)وہي اعتقاد خلاف المعروف عن الرسول۔ (درمختار، الصلاۃ / باب الإمامۃ ۲؍۲۹۹ زکریا)کذٰلک کل محدث قولاً و فعلاً لم یتقدم فیہ متقدم، فإن العرب تسمیہ بدعۃ۔ (تفسیر ابن کثیر ۱؍۲۲۲ دارالسلام ریاض) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
’’البدعۃ عبارۃ عن طریقۃ في الدین مخترعۃ تزاھي الشریعۃ یقصد بالسلوک علیہ المبالغۃ في التعبدللّٰہ سبحانہ (الاعتصام : ۱/۳۷)
عن عائشة رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم (من أحدث في أمرنا هذا ما ليس
مجيب
سید حکیم شاہ صاحب
مفتیان
مفتی آفتاب احمد صاحب
مفتی محمد حسین خلیل خیل صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :60989
تاریخ اجراء :2017-10-31

PDF ڈاؤن لوڈ