1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

اسلامی بینک کو کھاد بیچنے کا حکم

سوال

میں کھاد کا کاروبار کرتا ہوں اور مختلف قسم کے دوکاندار اور گاہک (زمیندار) مجھ سے کھاد خریدتے ہیں، ایک ادارہ(بینک) جو کہ اپنے آپ کو اسلامی بینکاری کے نام سے متعارف کرواتا ہے، یہ بینک مجھ سے کھاد خریدتا ہے اور پھر پرچی کی صورت میں کھاد قبضہ میں لے کر زمینداروں کو ادھار پر بیچتا ہے، کیا اس صورت میں میرا بینک کو کھاد بیچنا جائز ہے یا نہیں؟
وضاحت: سائل نے فون پر بتایا کہ یہ بینک مائیکرو فائنانس بینک لمیٹد کے نام سے معروف ہے، باقی پرچی کی صورت یہ ہوتی ہے کہ بینک خریداروں کی ڈیمانڈ کے حساب سےان کے نام پر پرچی بنواتا ہے، اس پرچی پر کھاد کی بوریوں کی تعداد بھی درج ہوتی ہے، اس طرح بینک کے لیے خریداروں کو کھاد پر قبضہ کرانا آسان ہوتا ہے، نیز بینک تمام بوریوں کی قیمت پہلے ادا کر چکا ہوتا ہے۔

جواب

مذکورہ صورت میں آپ کا بینک کو کھاد فروخت کرنا جائز ہے، تاہم اگر بینک اس کھاد پر خود یا اپنے کسی نمائندہ کے ذریعہ باقاعدہ اس پر قبضہ نہیں کرتا تو ایسی صورت میں اس کے لیے قبضہ سے پہلے یہ کھاد آگے خریداروں کو فروخت کرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
المعجم الأوسط (2/154)
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: نهى رسول الله عن سلف وبيع وعن شرطين في بيع وعن بيع ما لم يقبض۔

مجيب
محمد نعمان خالد صاحب
مفتیان
مفتی سیّد عابد شاہ صاحب
مفتی سعید احمد حسن صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :59044
تاریخ اجراء :2017-07-18

PDF ڈاؤن لوڈ