1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

گھر کی دیوار پر قرآنی آیات والی ٹائلیں لگانے کا حکم

سوال

گھر کی دیوار پر ایسی ٹائلیں لگانا،جن پر قرآنی آیات لکھی ہوں، جائر ہے؟؟ اور ان ٹائلوں پر اگر چھپکلی یا دوسرے کیڑے چلتے ہوں تو کیا ہم گناہ گار ہوں گے؟؟

جواب

قرآن کریم کا ادب و احترام ہر مسلمان پر لازم ہے،اس لئے ایک مسلمان کو ہر اس کام سے بچنا چاہئے جس میں قرآن کریم کی بے ادبی ہو۔ گھر کی دیوار پر قرآنی آیات والی ٹائلیں لگانا جائز تو ہے،البتہ اس میں پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ایسی ٹائلیں اونچی یا کسی ایسی جگہ لگائی جائیں جہاں قرآن کریم کی کوئی بے ادبی نہ ہو۔چھپکلی یا دیگر حشرات کبھی کبھار گزر بھی جائیں تو گناہ نہیں ہو گا،البتہ اگر صفائی کا بالکل خیال نہ رکھا جائےاور وہ جگہ حشرات کی آمدورفت کا رور کا راستہ بن جائے تو ایسی مقدس چیزیں وہاں سے ہٹالیں۔
حوالہ جات
قال في الفتاوى الهندية:
"ولوكتب القرآن على الحيطان والجدران بعضهم قالوا:يرجى أن يجوز،وبعضهم كرهوا ذلك مخافة السقوط تحت أقدام الناس،كذا في فتاوى قاضي خان."
(ج:43,ص:67,المكتبة الشاملة)
وفي البحر الرائق:
وفي النهاية وليس بمستحسن كتابة القرآن على المحاريب والجدران لما يخاف من سقوط الكتابة وأن توطأ." (ج:2,ص:40,دار الكتاب الإسلامي)

مجيب
سمیع اللہ داؤد عباسی صاحب
مفتیان
مفتی آفتاب احمد صاحب
مفتی سعید احمد حسن صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :54398
تاریخ اجراء :2016-09-16

PDF ڈاؤن لوڈ