1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

کمپنی کے ملازم کے لئے کمیشن لینےکاحکم

سوال

:

میں ایک کمپنی میں کام کرتاہوں،کمپنی والوں نے مجھے گاڑی خریدنے کے لئےبھیجا،آنےجانےکا خرچہ کمپنی نے برداشت کیا۔ کیامیرے لئےاس میں کمیشن یا کوئی حیلہ کر کے کمیشن لینا جائز ہے؟جیسے گاڑی میرا بھائی سستی خریدے اور میں اس سے ادارے کے لئے مہنگی کرا دوں؟

جواب

چونکہ آپ کمپنی کے ملازم ہیں اور کمپنی نےآپ کو خریداری کا وکیل بنایا ہےاور یہ اصول ہے کہ خریداری کے وکیل کے ساتھ جو بھی رعایت کی جائےوہ رعایت مؤکل کے لئے خودبخود حاصل ہو جاتی ہے،لہذاآپ کسی بھی حیلے سےاس خریداری میں اپنے لئے کچھ بھی نہیں کما سکتے۔
حوالہ جات
قال في الفتاوى الهندية:
"وإن حط البائع عن الوكيل بعض الثمن فإنه يحطه عن الموكل ولو حط البائع جميع الثمن لا يظهر ذلك في حق الموكل حتى كان للوكيل أن يرجع على الموكل بجميع الثمن ولو وهب البائع بعض الثمن عن الوكيل يظهر ذلك في حق الموكل حتى لم يكن للوكيل أن يرجع على الموكل بذلك القدر ولو وهب كل الثمن لا يظهر ذلك في حق الموكل ولو أبرأه البائع عن جميع الثمن فالجواب فيه كالجواب في هبة جميع الثمن كذا في المحيط."
(ج:27,ص:116,المكتبة الشاملة)
وفي المبسوط للسرخسي:
"ولو حط البائع شيئا من الثمن عن الوكيل ثبت ذلك للآمر لأن حط بعض الثمن يلتحق بأصل العقد ويخرج قدر المحطوط من أن يكون ثمنا بخلاف ما لو وهب البائع الثمن كله للوكيل كان له أن يرجع على الموكل بالثمن لأن حط ال
لا يلتحق بأصل العقد إذ لو التحق بأصل العقد فسد البيع لأنه يبقى بيعا بغير ثمن وهو فاسد." (ج:19,ص:60, دار المعرفة - بيروت)

مجيب
سمیع اللہ داؤد عباسی صاحب
مفتیان
مفتی محمد حسین خلیل خیل صاحب
مفتی سعید احمد حسن صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :54382.1
تاریخ اجراء :2015-09-13

PDF ڈاؤن لوڈ