1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

تباہ شدہ مکانات کےمخلوط ملبہ کا حکم

سوال

چند سالوں سے جنوبی وزیرستان آپریشن راہ نجات کی زد میں ہے۔بم دھماکوں اور ماٹر گولوں سے اکثر گھرمسمار ہو گئے ہیں۔نہ گھروں کے دروازوں کا پتہ ہے اورنہ اینٹوں کا۔کوئی بھی اپنے گھر کی تباہ شدہ اینٹوں اور گارڈر کو نہیں پہچانتا۔جوشخص پہلے جاتا ہے وہ آس پاس کی چیزوں کو استعمال کرتا ہے،کیونکہ اپنے اور غیر کے مال میں کوئی پہچان نہیں ہوتی۔پوچھنا یہ ہے کہ اس آدمی کے لیے یہ اینٹیں اور دروازے وغیرہ استعمال کرنا کیسا ہے؟اور آیا یہ اشیاء لقطہ کے حکم میں ہیں؟

جواب

یہ اشیاء لقطہ کے حکم میں نہیں ہیں۔لہذا ہر شخص پر لازم ہے کہ صرف وہی اشیاء استعمال کرے جن کے بارے میں اسے یقین ہو کہ یہ اس کی اپنی ہیں۔اگر پہچان ممکن نہیں ہے جیسا کہ سوال میں ذکر ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ ایک محلے کے گھروں والے مل کر وہ چیزیں آپس میں رضا مندی سےبانٹ لیں۔
حوالہ جات

قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ:اللقطۃ:مال يوجد ولا يعرف مالكه، وليس بمباح ،كمال الحربي.
( الدر المختار: 1/ 355)
روی الإمام الطحاوی رحمہ اللہ عن عمرو يثربي رضی اللہ عنہ قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم، فقال : لا يحل لامرئ من مال أخيه شيء، إلا بطيب نفس منه.( شرح معاني الآثار :4/ 241)
قال العلامۃ ابن عابدین الشامی رحمہ اللہ:التصرف في مال الغير حرام،فيجب التحرز عنه.
(رد المحتار:5/ 150)
قال العلامۃ ابن الھمام رحمہ اللہ:قوله:( الشركة ضربان…فشركة الأملاك: العين يرثها الرجلان أو يشتريانها) ...أواختلط مالهما من غير صنع من أحدهما ،بأن انفتق كيساهما المتجاوران فاختلط ما فيهما ،أو اختلط بخلطهما خلطا يمنع التمييز كالحنطة بالحنطة ،أو يتعسر كالحنطة بالشعير.....وحكم هذه الشركة: أنه لا يجوز أن يتصرف في نصيب شريكه، إلا بأمره ؛لأن كلا منهما في نصيب الآخر كالأجنبي عن الشركة ؛لعدم تضمنها وكالة، وأنه يجوز له أن يبيع نصيبه من الشريك في جميع الصور.( فتح القدير:5/ 378)
مجيب
محمد تنویر الطاف صاحب
مفتیان
مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب
مفتی شہبازعلی صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :56407
تاریخ اجراء :2017-11-26

PDF ڈاؤن لوڈ