1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

وارث کے لیے وصیت کا حکم

سوال

ایک آدمی اپنی زمینوں میں سے ایک زمین بیچنا چاہتا تھا اور ساتھ میں(وفات سے 4،5 سال قبل)کاغذات میں یہ بھی لکھوایا کہ زمین جب بھی فروخت ہو اس کے پیسوں میں سے میری ہر ایک بیٹی کو تین تین لاکھ روپے اور میری دکانوں(جو اس زمین کے علاوہ ہیں)میں سے ایک ایک دکان دینی ہےـاب ان کی وفات کےبعد وہ زمین بک رہی ہے۔ تو پوچھنا یہ ہے کہ بیٹیوں کو تین تین لاکھ روپے دئے جائیں گے یا زمین میں جو شرعی حصہ(جبکہ زیادہ بھی ہے)بنتا ہے؟تین تین لاکھ دینے کی صورت میں والد مرحوم اور بھائی گناہ گار تو نہیں ہوں گے؟ اگر بیٹیوں کا صرف تین تین لاکھ کا حق بنتا ہے،تو مزید کے اصرار پر ان کو بھی گناہ ہوگا؟بینو واجرکم علی اللہ۔

جواب

بیٹیوں کو زمین میں جو شرعی حصہ بنتا ہے وہ ملے گاـصرف تین تین لاکھ دینے کی صورت میں والد مرحوم اور بھائی گناہ گار ہوں گے ۔کیوں کہ میت کا اپنے کسی وارث کے حق میں وصیت کرنا یا اسے جائیداد سے محروم کرناجائز نہیںـ
حوالہ جات
قال اللہ تعالیٰ: ﴿ُ يوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ﴾. [النساء: 11]
فی سنن الترمذي: (3/ 293)
عن أبى أمامة الباهلى قال : (سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في خطبته عام حجة الوداع: إن الله تبارك وتعالى قد أعطى كل ذى حق حقه فلا وصية لوارث.
فی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي: (6/ 201)
(وإن أوصى لأقاربه ولذوي قرابته أو لأرحامه أو لأنسابه فهي للأقرب فالأقرب من كل ذي رحم محرم منه ولا يدخل الوالدان والولد والوارث وتكون للاثنين فصاعدا).
فی الجوهرة النيرة على مختصر القدوري: (2/ 287)
ويعتبر كونه وارثا عند الموت لا وقت الوصية فمن كان وارثا وقت الوصية غير وارث وقت الموت صحت له الوصية ومن كان غير وارث وقت الوصية ثم صار وارثا وقت الموت لم تصح له الوصية.
مجيب
فضل حق صاحب
مفتیان
مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب
مفتی فیصل احمد صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :56238
تاریخ اجراء :2016-03-17

PDF ڈاؤن لوڈ