1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

اگر بچہ مدت رضاعت میں دودھ پی کر الٹی کرے تو کیا حکم ہے؟

سوال

ایک بچی کو کسی نے صرف ایک بار دودھ پلایا اس نے پیٹ بھر کے دودھ پی لی،مگر پھر تھوڑی دیرکے بعدسب الٹی کردیـکیا حرمت رضاعت ثابت ہوگئی؟

جواب

جی ہاں،حرمت رضاعت ثابت ہوگئی ہے۔قے کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا بشرط یہ کہ یہ دودھ پینا مدت رضاعت میں ہوا ہوـ
حوالہ جات
(كذا فی خیرالفتاوی:4/485)
الدر المختار: (3/ 212)
(ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكا ولوالجية.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (3/ 238)
أي وصول اللبن من ثدي المرأة إلى جوف الصغير من فمه أو أنفه في مدة الرضاع الآتية فشمل ما إذا حلبت لبنها في قارورة فإن الحرمة تثبت بإيجار هذا اللبن صبيا، وإن لم يوجد المص .
واللہ سبحانہ و تعالی أعلم بالصواب
فضل حق
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
۲۹ /محرم الحرام ۱۴۳۸ ھ
مجيب
فضل حق صاحب
مفتیان
مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب
مفتی فیصل احمد صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :56205
تاریخ اجراء :2017-03-13

PDF ڈاؤن لوڈ