1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

عدد طلاق میں میاں بیوی کے اختلاف کا حکم

سوال

یک مرد نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔مرد حلفیہ کہتا ہے کہ میں نے دو طلاقیں دی ہیں۔شوہرکی بہن اس کی تصدیق بھی کرتی ہے۔جب کہ عورت کہتی ہے کہ شوہر نے تین طلاقیں دی ہیں۔اب شرعا کیا فیصلہ کیا جائےگا؟

جواب

مذکورہ صورت میں اگرعورت کے پاس گواہ نہیں،تو مرد کو قسم دی جائے گی ۔اگر مرد قسم اٹھا لےتو طلاق واقع نہ ہونے کا فیصلہ دیا جائے گا۔لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ اگر مرد نے واقعی تین طلاقیں دی ہیں تو اس فیصلے کے باوجودیہ عورت اللہ کے نزدیک اس مرد کے لیے حلال نہ ہوگی۔لہذا مرد پرلازم ہے کہ اللہ سے ڈرے اور سچ بولے۔
اسی طرح اگر عورت کو یقین ہے کہ مرد نے اسے تین طلاقیں ہی دی ہیں اور اب وہ جھوٹی قسم کھا رہا ہے،تو عورت پر لازم ہے کہ وہ خلع یا پنچایت وبرادری کے ذریعےمرد سےشرعی خلاصی حاصل کرے۔اگر یہ بالکل ممکن نہ ہو تو عورت پر فرض ہے کہ اپنے آپ کو اس سے دور رکھے اورجس طریقےسےممکن ہواسےاپنے اوپر کسی قسم کی قدرت نہ دے۔اگرعورت کی تمام کوشش کے باوجود بھی مرد نہ مانےتواس کا گناہ مرد پر ہوگا۔
حوالہ جات
قال العلامة علاءالدين الحصكفى رحمه الله:ويسأل القاضي المدعى عليه عن الدعوى، فيقول: إنه ادعى عليك كذا، فماذا تقول... فإن أقر، فبها ،أو أنكر، فبرهن المدعي ،قضى عليه بلا طلب المدعي ،وإلايبرهن، حلفه الحاكم بعد طلبه؛ إذ لا بد من طلبه اليمين في جميع الدعاوى.(الدر المختار مع رد المحتار:5/548) فى الفتاوى الهندية: وكذلك إن سمعت أنه طلقها ثلاثا، وجحد الزوج ذلك، وحلف،فردها عليه القاضي، لم يسعهاالمقام معه،وينبغي لها أن تفتدي بمالها، أو تهرب منه. ( 5/386)
قال العلامة ابن عابدين الشامى رحمه الله:المرأة كالقاضي ،إذا سمعته ،أو أخبرها عدل، لا يحل له تمكينه. ....،بل تفدي نفسها بمال أو تهرب،....وفي البزازية: عن الأوزجندي: أنها ترفع الأمر للقاضي، فإن حلف ولا بينة لها، فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ،ولا على منعه عنها.(رد المحتار:3/251 )
مجيب
محمد تنویر الطاف صاحب
مفتیان
مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب
مفتی شہبازعلی صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :56333
تاریخ اجراء :2016-11-29

PDF ڈاؤن لوڈ