1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

اگرکسی نے حج کے تینوں دن رمی نہ کی توایک ہی دم لازم ہوگا۔ ۱۳تاریخ کی رمی اس وقت واجب ہوگی جب ۱۳کی صبح صادق منی میں ہوجائے ۔

سوال

سوال: محترم قبلہ مفتی صاحب السلام علیکم !
حضرت !میں نے 2003 ٫کے حج تمتع میں بسبب علالت وکم ہمتی 10تاریخ کی رمی نہیں کی ،11کی صبح مکہ مکرمہ چلاگیا،وہاں بالترتیب قربانی ،حلق ،طواف زیارہ وسعی کی ،پھراسی علالت وکم ہمتی کے سبب 11 اور12 کی رمی کے بھی منی نہ لوٹا،13 کورمی نہ کرنے کاایک دم دیا۔
بعض حضرات کے مطابق رمی کے بغیر قربانی کردینے سے ایک اضافی دم میرے ذمہ ہے ،جب کہ کچھ حضرات کے خیال میں قربانی کی ترتیب صرف 10 کی رمی سے وابستہ ہے ،لہذاجب 10 کی رمی کاوقت گزرگیااورگیارہ کوقربانی کی تورمی کے بعدقربانی والی ترتیب ساقط ہوگئی ،اوراضافی دم کی ضرورت نہیں رہی ۔
درخواست ہے تحقیق فرماکربتائیں کہ :
۱۔ کیاادائیگی دم میں مجھ سے غلطی ہوئی ؟اگرہوئی تواصلاح کیسے کروں ؟
۲۔ 13تاریخ اگرچہ مشروط طورپرخودبھی یوم رمی ہے ،توجودم میں نے 13 تاریخ کو10،11،12 کی رمی کااداء کیاوہ ادابھی ہویانہیں ؟
۳۔میرے داماد حکومت کی طرف سے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لئے حج کے موقع پرجاتے ہیں ،جہاں وہ اپناحج بھی اداء کرتے ہیں ،12 تاریخ کورمی سے فارغ ہوکرمنی سے چلے جاتے ہیں ،کبھی کبھارانتظامی اموریاکسی اورضرورت مثلاتلاش سامان کی غرض سے 13 کودن میں منی آناپڑا،توکیااس طرح دوبارہ داخل ہونے پر،چاہے تھوڑی دیر کے لئے آئے ہوں ،13 کی رمی بھی واجب ہوجائے گی؟

جواب

۱۔ آپ کادم اداہوگیاہے ،دوبارہ دم دینے کی ضرورت نہیں ۔
۲۔ 13تاریخ کودم ادا کرنے سے تمام دنوں کی رمی چھوڑنے کادم ادا ہوگیا،کیونکہ تینوں دن کی رمی چھوڑنے سے بھی ایک ہی دم واجب ہوتاہے۔
۳۔مسئلہ یہ ہے کہ 12 تاریخ کوغروب شمس سے پہلے پہلے منی سے نکلناچاہئے ،اگرمنی میں غروب شمس ہوگیاتونکلنامکروہ ہے ،لیکن اگرکوئی نکل گیاتواس پر13تاریخ کی رمی لازم نہیں ہوگی بشرطیکہ 13 تاریخ کی صبح صادق سے پہلے پہلے نکل گیاہو،اوراگرمنی میں 13تاریخ کی صبح صادق ہوگئی تواب تیرہویں تاریخ کی رمی بھی واجب ہوگئی ،اب رمی چھوڑنےسے دم آئے گا۔
صورت مسئولہ میں اگر13 کی صبح صادق سے پہلے وہاں جاتے ہیں اورمنی میں ہی صبح صادق ہوجاتی ہے تورمی واجب ہوجاتی ہے اوراگرصبح صادق کے بعدجاتے ہیں تورمی واجب نہیں ہوتی ،چاہے تھوڑی دیرکے لئے جائے یازیادہ دیرکےلئے ۔
حوالہ جات
"غنیۃ "/184:
فان لم ینفرحتی غربت الشمس یکرہ ان ینفرحتی یرمی فی الرابع ،ولونفرمن اللیل قبیل طلوعہ لاشیئ علیہ فی الظاھرعن الامام ،ولونفربعدطلوع الفجرقبیل الرمی یلزمہ الدم مطلقا۔
"العناية شرح الهداية" 4 / 130:
) ومن ترك رمي الجمار في الأيام كلها فعليه دم ) لتحقق ترك الواجب ، ويكفيه دم واحد ؛ لأن الجنس متحد كما في الحلق ، والترك إنما يتحقق بغروب الشمس من آخر أيام الرمي ؛ لأنه لم يعرف قربة إلا فيها ، وما دامت الأيام باقية فالإعادة ممكنة فيرميها على التأليف ثم بتأخيرها يجب الدم عند أبي حنيفة خلافا لهما ۔
( وإن ترك رمي يوم واحد فعليه دم ) لأنه نسك تام ( ومن ترك رمي إحدى الجمار الثلاث فعليه الصدقة ) لأن الكل في هذا اليوم نسك واحد فكانالمتروك أقل إلا أن يكون المتروك أكثر من النصف فحينئذ يلزمه الدم لوجود ترك الأكثر۔
"العناية شرح الهداية " 4 / 134:
( قوله أو الرمي كله ) إنما وجب بتركه كله دم واحد لأن الجنس متحد كما في الحلق ، والترك إنما يتحقق بغروب الشمس من آخر أيام الرمي وهو الرابع لأنه لم يعرف قربة إلا فيها ، وما دامت الأيام باقية فالإعادة ممكنة فيرميها على التأليف ، ثم بتأخيرها يجب الدم عنده خلافا لهما بحر ، وبه علم أن الترك غير قيد لوجوب الدم بتأخير الرمي كله أو تأخير رمي يوم إلى ما يليه ، أما لو أخره إلى الليل فلا شيء عليه كما مر تقريره في بحث الرمي ( قوله أو في يوم واحد ) ولو يوم النحر لأنه نسك تام بحر ( قوله أو الرمي الأول ) داخل فيما قبله كما علمت ، لكنه نص عليه تبعا للهداية لأنه لو ترك جمرة العقبة في بقية الأيام يلزمه صدقة ؛ لأنها أقل الرمي فيها بخلاف اليوم الأول فإنها كل رمية رحمتي فافهم .
ومن أخر الحلق حتى مضت أيام النحر فعليه دم عند أبي حنيفة ، وكذا إذا أخر طواف الزيارة ) حتى مضت أيام التشريق ( فعليه دم عنده وقالا : لا شيء عليه في الوجهين ) وكذا الخلاف في تأخير الرمي وفي تقديم نسك على نسك كالحلق قبل الرمي ونحر القارن قبل الرمي والحلق قبل الذبح ، لهما أن ما فات مستدرك بالقضاء ولا يجب مع القضاء شيء آخر وله حديث ابن مسعود رضي الله عنه أنه قال " من قدم نسكا على نسك فعليه دم " ولأن التأخير عن المكان يوجب الدم فيما هو موقت بالمكان كالإحرام فكذا التأخير عن الزمان فيما هو موقت بالزم۔
"فقه العبادات " 1 / 193:
ويختص الذبح للقارن والمتمتع بأيام النحر الثلاثة وأفضلها أولها . فإن لم يجد صام ثلاثة أيام ولو متفرقة في الحج ويندب أن يكون آخرها يوم عرفة وسبعة بعد تمام أيام الحج وهي نهاية أيام التشريق سواء في مكة أم بعد رجوعه إلى وطنه لأن معنى قوله تعالى : { وسبعة إذا رجعتم } ( 1 ) : إذا فرغتم من أيام الحج . فإن لم يصم ثلاثة أيام قبل الوقوف بعرفة تحتم الدم في حقه فإذا مضت أيام النحر ولم يقدر على الذبح تحلل وعليه دمان : دم القران ودم لتقديم الحلق على الذبح . وإذا صام الأيام الثلاثة قبل يوم عرفة ثم قدر على الدم أيام النحر قبل الحلق بأن وصلت إليه أموال وجب الدم في حقه أما لو قدر على الدم بعد الحلق لم يلزمه شيء لأن التحلل قد حصل ۔
مجيب
محمّد بن حضرت استاذ صاحب
مفتیان
مفتی آفتاب احمد صاحب
مفتی محمد حسین خلیل خیل صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :54468
تاریخ اجراء :2015-10-15

PDF ڈاؤن لوڈ