1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

منگنی کی شرعی حیثیت

سوال

ایک لڑکی کا ایک سال پہلےایک ایسےلڑکےسےمنگنی ہوئی تھی جس کی آنکھیں مکمل طورپرٹھیک تھیں اب وہ لڑکامکمل طور پرنابینا ہوگیا اب لڑکے والےاس لڑکی کی رخصتی چاہتے ہیں اور لڑکی والےانکارکرتے ہیں کہ ہم اس کو دینے کےلیے تیار نہیں ہےـ شرعا اس کا کیا حل ہے؟
واضح رہےکہ ہمارے قبائل میں منگنی کا طریقہ یہ ہوتا ہےکہ لڑکے والے لڑکی کےگھر آکر اس کے والداوربھائی کے ساتھ یہ طے کرتےہیں کہ میں نے اپنی بیٹی زینب آپ کے بیٹے الف کو دی ہے،اسی مجلس میں مہر کو متعین کردیتے ہیں اور دعا کرکے رخصت ہوجاتے ہیں،لیکن اس مجلس میں لڑکا شریک نہیں ہوتاـرخصتی کے وقت باقاعدہ ایجاب و قبول اورنکاح ہوتا ہےـ

جواب

صورت مسئولہ میں لڑکے کا لڑکی کےساتھ نکاح نہیں ہوا ہے،صرف وعدہ نکاح ہوا ہے اس لئےکہ منگنی وعدہ نکاح ہے،اوروعدے کی خلاف ورزی بغیرشدیدعذر کےناجائز ہے،البتہ شدید عذرکی صورت میں گنجائش ہے۔لڑکے کانابینا ہوجانا بھی عذرمیں داخل ہے۔لہذا اگرلڑکی والے بات ختم کرناچاہیں تواس کی گنجائش ہے۔
حوالہ جات
قال العلامة الحصكفى رحمہ اللہ :وإن للوعد فوعد.
وقال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ: لو قال: هل أعطيتنيها ،فقال :أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد، فنكاح.
(ردالمحتار:3/12)

وقال العلامۃ الملاعلی القاری رحمہ اللہ:فی حدیث لايخطب الرجل على خطبة أخيه ، لكن إن تزوج الثانى تلك المرأة بغيرإذن الأول، صح النكاح ،ولكن يأثم.قلت :ولاإثم عندتحقق الضرورةالتى جاز عندهاتطليق الحاكم إياها. (مرقاۃ المفاتیح:6/211)

عن أبى هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم ،قال :آية المنافق ثلاث :إذ حدث كذب ،وإذاوعد أخلف ،وإذا ائتمن خان.
(صحيح البخاري لعبدالله البخاري :1/ 15)
مجيب
فضل حق صاحب
مفتیان
مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب
مفتی فیصل احمد صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :56151
تاریخ اجراء :2017-03-16

PDF ڈاؤن لوڈ