1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

مالِ وقف سے قرض دینے کا حکم

سوال

مساجدکے فنڈز سے قرضۂ حسنہ لینا یادینادرست ہے یا نہیں؟قرآن و سنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب

اگرمسجد کی ضرورت سے زائد رقم جمع ہو،اور قرض دینے کی صورت میں مسجد کی رقم ضائع ہونے کا امکان نہ ہو،اورمسجد کی کسی ضرورت کے وقت قرض کی واپسی یقینی ہو تومسجد کی زائدرقم سےصرف مسجد کےمتولی،امام،اورخادم وغیرہ کو متولی حضرات کے اجتماعی مشورےاور اکثریتی منظوری سےقرض دینے کی گنجائش ہے،اس کے بغیر کو نہیں۔اگربہ وقت ضرورت قرض کی واپسی یقینی نہ ہو،یا رقم ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو مسجد کی رقم سے کسی کوبھی قرض دینا جائز نہیں،اگر ان شرائط کے بغیر قرض دیا گیا تو اس کا ضمان دینے والے پر ہوگا۔
حوالہ جات
قال العلامة ابن نجیم رحمه الله: إن القيم ليس له إقراض مال المسجد. قال في جامع الفصولين: ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد ،إلا ممن في عياله، ولا إقراضه. فلو أقرضه ضمن،وكذا المستقرض. (البحرالرائق:5/401) قال العلامة ابن عابدين رحمه الله :قوله:(مال الوقف) :ذكره في البحر عن جامع الفصولين، لكن فيه أيضا عن العدة، يسع للمتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز اهـ ومقتضاه، أنه لا يختص بالقاضي، مع أنه صرح في البحر عن الخزانة، أن المتولي يضمن، إلا أن يقال: إنه حيث لم يكن الإقراض أحرز. (رد المحتار:5/417) (کذا فی فتاوی دارالعلوم دیوبند :13/498،432،وکفایت المفتی:7/226)
مجيب
محمد تنویر الطاف صاحب
مفتیان
مفتی ابولبابہ شاہ منصور صاحب
مفتی شہبازعلی صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :56210
تاریخ اجراء :2016-11-04

PDF ڈاؤن لوڈ