1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

اگربیٹے والدکے ساتھ مل کرکام کرتے ہوں اورمشترک کام کیاہوتووہ سب کچھ والدکاشمارہوگا۔

سوال

ہم تین بھائی اور۴ بہنیں تمام شادی شدہ اوربھائی مرحوم غیرشادی شدہ جوکہ والدین کی حیات میں انتقال کرگیاتھا،علاقہ کوثرنیازی کالونی بلاک Fنارتھ ناظم آباد کے علاقہ میں ہمارے والدین کے دوپلاٹ (مکان )K-518 اورk-519 ہیں ، k-519 ہم تما م بہن بھائیوں کی پیدائش سے پہلے اورK-518 بعدمیں یعنی تقریبا15سے 18سال بعد اس وقت خریداجب ہم سب کاکچن ایک ہی تھا،اوربڑے بھائی ملازمت کرتے تھے ،اس وقت ہمارے والد اوربھائی نے مل کرخریداتھا،یہ دونوں پلاٹ ہمارے والدین نے ترکہ میں چھوڑے ہیں،ان کی وراثت کی ترتیب الجھاؤ کاشکارہے ،برائے مہربانی شفقت فرمائیں ،مکان نمبرK-519 جوکہ 3 فلورپرمشتمل ہے اورتینوں فلورہم تینوں بھائیوں کے استعمال میں ہیں ۔اوریہ تینوں فلورہم نے والدین کی حیات میں ہم نےتعمیرکرائے تھے ۔جس میں گراؤنڈ فلورمکمل فنشنگ کے ساتھ جس میں والدین رہائش پذیر تھے ،اورفرسٹ فلور بغیر پلستراوررنگ روغن اوردروازوں کے بغیر رہائش کرلی ،بعدمیں دویاتین سال بعد سب نے مل کر BC ڈال کرفرسٹ فلور کی فنشنگ کروالی ،اورمیری یعنی ضیاء الاسلام کی شادی سلسلہ طے ہونے کے بعد 1ST فلورپررہائش ہوئی ،اس کے بعد والدین نے میرے مرحوم بھائی یعنی عزیزالاسلام کی شادی کی سلسلے میں دوسری چھت پرایک کمرہ آئرن کی چھت ڈال کرنامکمل بنوایاجوکافی عرصہ تک کسی استعمال میں نہ آیا،اوربھائی کے انتقال کے بعد میں نے یعنی ضیاءالاسلام نے باقی ماندہ جگہ پر RCC چھت ڈلواکر ایک مکمل پورشن اپنی ہی جیب سے مکمل فنشنگ کےسے تعمیر کروالیاہے اوررہائش اختیار کرلی ،اب اس پلاٹ پریعنی k-519 پرہماری بہنوں کاجوحصہ بنتاہے وہ پلاٹ کی قیمت پرہوگایابلڈنگ کی قیمت پرہوگا؟
دوسراپلاٹ یعنی K-518 جس کارقبہ تقریبا59 گزہے ،جس میں 2 دکانیں اورایک دوکمرے کامکان ہے ،جواس وقت کرایہ پردیاہواہے ،اس پرایک چھت RCC ڈالی گئی ہے ،اوراس پلاٹ پرپیچیدگی یہ ہے کہ علاقہ میں ایک اورپلاٹ (مثلاK-510 )جوولدین نے 80گز رقبہ 180000روپے میں خریداجس کے لوکیشن یہ تھی کہ وہ تینوں طرف سے بلڈنگوں میں گھراہواتھا،اورراستے کے لئے اس میں صرف تقریبا4 فٹ کی گلی تھی ،اور(جوکہ آگے نقشہ میں دکھادیاجائے گا) اس پلاٹ کے ساتھ ایک چھوٹاساپلاٹ 30 گز تقریباجڑاہواتھا،جس کومیں یعنی ضیاء الاسلام اورمیرابھائی (مرحوم ) عزیز الاسلام نے والدکے ساتھ مل کرتقریبا100000 لاکھ روپے میں خریداجس کی وجہ سے ہمارے مندرجہ ذیل پلاٹ kأڑھ گئی ،ے میں خریداجس کی وجہ سے ہمارے مندرجہ ذیل ویلیواسلام اورمیرابھائی (مرحوم ) عزیز الاسلام نے والدکے ساتھ مل کرتقریبا100000510 کی ویلیوبڑھ گئی ،کیونکہ یہ پلاٹk-510 کوفرنٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے بڑھ گیا،بعدمیں ہم نے یہ پلاٹ 130000تیرہ لاکھ روپے کافروخت کردیاجس سے والدین حج بھی کرکے آئے اورتقریبا5سے 6لاکھ روپے K-518 پرلگادئیے ،مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اس پلاٹ میں ہماری بہنوں کاحصہ زمین یعنی پلاٹ پرہوگایابلڈنگ پرہوگا؟قرآن وسنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں ۔بینواتوجروا
وضاحت : k-519 پرایک کچامکان تھا،اس کوگراکر 3منزل تعمیر کی گئی ہیں،اوریہ مشترکہ طورپربنائی گئی والدکی حیات میں ،دوبھائی والد کے ساتھ ہی کام کرتے تھے ۔ایک بھائی ملازمت کرتے تھے ۔
رقم لگاتے وقت ایسی کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی کہ یہ رقم بطورشرکت یاقرض دے رہے ہیں ۔بس ایک ضرورت تھی سب کے پاس جوتھاوہ لگادیا۔والدصاحب چونکہ حیات تھے تویہ انہی کی ملکیت سمجھاجاتاتھا،کسی بھی بھائی نے اس پرملکیت کادعوی نہیں کیا،K-518 میں بڑے بھائی کاکہناتھاکہ اس میں میرے پیسے لگے ہوئے ہیں ،اس لئےمجھے ملناچاہئے ،لیکن والد صاحب نے کہاتھاکہ نہیں یہ سب کاہے ۔بالآخر بھائی نے والدکی بات کوتسلیم کرلیاتھاکہ جیسے آپ کہیں ۔K-519 کی تعمیر, K-510 جووالدین نے لیاتھا،اس کی فروختگی سے حاصل ہونے والی رقم سے کی گئی ہے ۔

جواب

صورت مسئولہ میں چونکہ بیٹے اپنے والدکے ساتھ ہی کام کرتے تھے ،یاجس کی الگ کمائی تھی وہ بھی والد کے حوالے کردیتاتھا،لہذامذکورہ صورت میں بیٹوں نے جوکچھ کماکر تعمیر میں خرچ کیاوہ سب والد کی ملک شمارہوگی ،اور آپ بھائیوں کے ساتھ بہنیں بھی میراث میں شریک ہوں گی ۔
اورپلاٹوں پرتعمیرآپ کے والد کی حیات میں ہی ہوئی تھی ،اس لئے ان پلاٹوں اوربلڈنگ دونوں کی قیمت لگائی جائے گی ،اوراس حساب سے میراث تقسیم ہوگی ۔
حوالہ جات
--"شرح المجلۃ" 1/741 :
اذاعمل رجل فی صنعۃ ھووابنہ الذی فی عیالہ ،فجمیع الکسب لذلک الرجل ،وولدہ یعد معینالہ ،فیہ قیدان احترازیان،الاول ان یکون الابن فی عیال الاب ،الثانی ان یعملامعافی صنعۃ واحدہ،اذلوکان لکل منہماصنعۃ یعمل فیہاوحدہ فربحہ لہ ۔
"رد المحتار" 17 / 114 :
مطلب : اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية [ تنبيه ] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز فأجاب بأنه بينهما سوية،وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ وقدمنا أن هذا ليس شركة مفاوضة ما لم يصرحا بلفظها أو بمقتضياتهامع استيفاء شروطها،ثم هذا في غيرالابن مع أبيه؛لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب۔
"ھدایۃ"4ٓ/414:
واذاکان ارض وبناء فعن ابی یوسف رحمہ اللہ تعالی انہ یقسم کل ذالک علی اعتبارالقیمۃ لانہ لایمکن اعتبارالمعادلۃ الابالتقویم ۔
واللہ سبحانہ وتعالی
مجيب
محمّد بن حضرت استاذ صاحب
مفتیان
مفتی آفتاب احمد صاحب
مفتی محمد حسین خلیل خیل صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :54056
تاریخ اجراء :2016-05-05

PDF ڈاؤن لوڈ