1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

جس کمرے میں ٹی وی ہو اس میں نماز پڑھنے کاحکم

سوال

ٹی وی جس گھر میں ہو چاہے بند ہویا کھلا تو وہاں نمازوں کا کیا حکم ہے؟جبکہ ہم نے سنا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ان الصلاة تنہی عن الفحشاء والمنکر"کے بارے میں کہ جو نماز بے حیائی کے کاموں سے نہ روکے وہ نماز نہیں ہے؟

جواب

ٹی وی اگر بند ہوتو اس کمرے میں نماز پڑھنا جائز ہے،تاہم بہتر یہ ہے کہ ٹی وی پر کوئی کپڑا ڈال دیا جائے ۔اور اگر ٹی وی چل رہا ہو تو اس کمرے میں نماز پڑھنے سے اجتناب کیا جائے ،کیونکہ ٹی وی پر نامحرم عورتوں کی تصاویر آرہی ہوتی ہیں اور ٹی وی کی آواز کی وجہ سے بھی نماز میں خلل واقع ہوتا ہے۔
یہ بات درست ہے کہ نماز انسان کو بے حیائی کے کاموں سے روکتی ہے،لیکن شرط یہ ہےکہ وہ نماز پورے آداب وشرائط کا لحاظ کرتے ہوئے خشوع وخضوع سے پڑھی جائے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی نمازیں تھیں،آج کل نماز پڑھنے کے باوجود بھی لوگ بے حیائی کے کاموں سے نہیں رکتے اس کی وجہ یہ ہےکہ ہم لوگ نماز کو بوجھ سمجھ کر سر سے ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں،نماز کی روح خشوع و خضوع ہے جو آج بالکل ختم ہوگیا ہے۔اسی وجہ سے آج ہماری نمازیں اور دعائیں بے اثر ہوگئی ہیں۔
حوالہ جات
--
مجيب
شفاقت زرین صاحب
مفتیان
مفتی سیّد عابد شاہ صاحب
مفتی سعید احمد حسن صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :55747-A
تاریخ اجراء :2016-07-31

PDF ڈاؤن لوڈ