1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

ٹی وی کی تباہ کاریاں

سوال

حضرات کیا ٹی وی بے حیائی کے کاموں میں سے ایک ہے؟ٹی وی دیکھنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

ٹی وی بیشمار برائیوں،منکرات اور محرمات کا مجموعہ ہے،جن میں سے چند مفاسداور خرابیاں درج ذیل ہیں:
• گانا بجانا،ناچنا اور ساز باجے کا استعمال شرعا ناجائز اور حرام ہے،جبکہ ٹی وی کے بہت سے پروگرام اس پر مشتمل ہوتے ہیں۔
• اجنبی مرد وعورت کا آپس میں میل جول اور بات چیت شرعا جائز نہیں،جبکہ ٹی وی کے تقریبا تمام مناظر بے پردگی اور مخلوط اجتماعات پر مشتمل ہوتے ہیں۔
• اس کے علاوہ ٹی وی میں دکھائے جانے والے پروگرام اور مناظر کی وجہ سے معاشرے میں بے حیائی،فحاشی وعریانی اور جرائم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
• ٹی وی پر آنے والے ملحد اور تجددپسند اسکالر آئے روز دین اور اہل دین کا مذاق اڑاتے ہیں،اور دین کی غلط تشریح کرکے مسلمانوں کو فکری ارتداد کا شکاربنا رہے ہیں۔
لہذا ان وجوہات کی وجہ سے گھر میں ٹی وی رکھنا اوردیکھنا جائزنہیں۔
البتہ جن اشخاص سے بہت سے لوگوں کے دینی ودنیوی امور وابستہ ہوں،وہ اگرعمل میں پختہ ہوں اور ناجائز میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو ان کے لیے شرعی حدود میں رہتے ہوئے بقدرضرورت ٹی وی یا انٹرنیٹ سے خبریں سننا یا دیگر علمی استفادہ جائز ہے۔
حوالہ جات
روح المعاني (11/ 66):
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ.
ولَهْوَ الْحَدِيثِ على ما روي عن الحسن كل ما شغلك عن عبادة الله تعالى وذكره من السمر والأضاحيك والخرافات والغناء ونحوها.
مجيب
شفاقت زرین صاحب
مفتیان
مفتی سیّد عابد شاہ صاحب
مفتی سعید احمد حسن صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :55747
تاریخ اجراء :2016-07-31

PDF ڈاؤن لوڈ