1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

خواتین کا اکیلے ڈرائیونگ کرنا جائز ہے

سوال

سوال: میری شادی کو گیارہ سال کا عرصہ ہوگیا ہے۔ اس دوران ضروری گھریلو کاموں کے لیے سسرال سے گاڑی آتی رہی ہے، جو میرے گھر سے کافی دور ہے۔ اس میں مجھے کافی ذہنی اور جسمانی دقت اور عار رہتی ہے۔ میرے شوہر اب تک مجھے گھر کی گاڑی چلانے کی اجازت نہیں دیتے، نہ ہی گھر میں ڈرائیور رکھنا ممکن ہے اور نہ ہی شوہر کے لیے دن کے روزمرہ کے کاموں کو کرنا ممکن ہے؛کیونکہ وہ اپنے کاروبار میں دن بھر مصروف رہتے ہیں، جبکہ میں گزشتہ 13 سال سے ڈارائیونگ کرنا جانتی ہوں اور کرتی بھی رہی ہوں۔
تو کیا شریعت میں خاتون کے لیےحجاب کی مکمل پابندی کرتے ہوئے گھر کے ضروری کاموں کی انجام دہی لیے اپنے شہر اور علاقے کے اندر اندراکیلے گاڑی چلانا جائز ہے؟

جواب

خواتین کے لیے کسی واقعی ضرورت و حاجت کی غرض سے پردہ کی حدود میں رہتے ہوئے اکیلے ڈرائیونگ کرنا بلا کراہت جائز ہے،تاہم سفر شرعی کی مسافت یا اس سے زیادہ سفر ہو تو ساتھ میں محرم کا ہونا لازم ہے ۔گھر سے باہر کے کاموں کی انجام دہی شوہر کی ذمہ داری ہے، اس میں بیوی کو بھی حدوو شرعیہ کے اندر رہتے ہوئے شوہر کی مدد کرنی چاہیے، البتہ مستقل طور پر یہ کام کسی دوسرے پر ڈالنا مناسب نہیں۔
قرآن کریم میں ارشاد باری ہے:
وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاہِلِيَّۃِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۝۰ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللہُ لِيُذْہِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَيْتِ وَيُطَہِّرَكُمْ تَطْہِيْرًا۝۳۳ۚ
ترجمہ: " اور اپنے گھروں میں قرار کے ساتھ رہو اور (غیر مردوں کو) بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، جیسا کہ پہلی بار جاہلیت میں دکھایا جاتا تھا ۔"
(آسان ترجمہ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)
اس آیت کی تفسیر میں مفتی محمد شفیع صاحب  لکھتے ہیں:
قراربیوت سے مواقع ضرورت مستثنیٰ ہیں:
(آیت) قرن فی بیوتکن۔ میں عورتوں پر قرار فی البیوت واجب کیا گیا۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ عورتوں کے لئے گھر سے باہر نکلنا مطلقاً ممنوع اور حرام ہو ۔ مگر اول تو خود اسی آیت ولا تبرجن سے اس طرف اشارہ کر دیا گیا کہ مطلقاً خروج بضرورت ممنوع نہیں بلکہ وہ خروج ممنوع ہے جس میں زینت کا اظہار ہو ۔ دوسرے سورۃ احزاب کی آیت جو آگے آ رہی ہے، اس میں خود (آیت) یدنین علیہن من جلابیہن کا حکم یہ بتلا رہا ہے کہ کسی درجہ میں عورتوں کے لئے گھر سے نکلنے کی اجازت بھی ہے بشرطیکہ برقع وغیرہ کے پردہ کے ساتھ نکلیں ۔
اس کے علاوہ خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے مواضع ضرورت کا اس حکم سے مستثنیٰ ہونا ایک حدیث میں واضح فرما دیا۔ جس میں ازواج مطہرات کو خطاب کر کے فرمایا قد اذن لکن ان تخرجن لحاجتکن (رواہ مسلم)، یعنی تمہارے لئے اس کی اجازت ہے کہ اپنی ضرورت کے لئے گھر سے نکلو، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا عمل آیت حجاب نازل ہونے کے بعد اس پر شاہد ہے کہ ضرورت کے مواقع میں عورتوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت ہے۔ جیسا کہ حج و عمرہ کے لئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ازواج مطہرات کا جانا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ اسی طرح بہت سے غزوات میں ساتھ جانا ثابت ہے۔ اور بہت سی روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ ازواج مطہرات اپنے والدین وغیرہ سے ملاقات کے لئے اپنے گھروں سے نکلتی تھیں اور عزیزوں کی بیمار پرسی اور تعزیت وغیرہ میں شرکت کرتی تھیں اور عہد نبوی میں ان کو مساجد میں جانے کی بھی اجازت تھی....
خلاصہ یہ ہے کہ (آیت) وقرن فی بیوتکن کے مفہوم سے باشارات قرآن اور بعمل نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) اور باجماع صحابہ مواقع ضرورت مستثنیٰ ہیں، جن میں عبادات حج و عمرہ بھی داخل ہیں اور ضروریات طبعیہ والدین اور اپنے محارم کی زیارت، عیادت وغیرہ بھی۔ اسی طرح اگر کسی کے نفقہ اور ضروریات زندگی کا کوئی اور سامان نہ ہو تو پردہ کے ساتھ محنت مزدوری کے لئے نکلنا بھی، البتہ مواقع ضرورت میں خروج کے لئے شرط یہ ہے کہ اظہار زینت کے ساتھ نہ نکلیں، بلکہ برقع یا جلباب (بڑی چادر) کے ساتھ نکلیں ۔
(معارف القرآن)

21 صفر 1436ھ
حوالہ جات
وَقَرْنَ فِيْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَــبَرُّجَ الْجَاہِلِيَّۃِ الْاُوْلٰى وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِيْنَ الزَّكٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ۝۰ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللہُ لِيُذْہِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَيْتِ وَيُطَہِّرَكُمْ تَطْہِيْرًا۝۳۳ۚ
مجيب
لطف اللہ صاحب
مفتیان
مفتی محمد حسین خلیل خیل صاحب
مفتی سعید احمد حسن صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :53212
تاریخ اجراء :2014-12-12

PDF ڈاؤن لوڈ