1. دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
  2. فتاوی

کسی مدرس کوانتظامیہ کی منظورشدہ چھٹیوں سے زائدچھٹی کرنے پرفارغ کردیاگیاہوتواس کی تنخواہ کاحکم

سوال

بند ہ تین سال سے ایک مدرسہ میں استاذہے اوربندہ دوسال سے ششماہی کے موقع پر ۱۵ دن کے لئے گاؤں جاتااورتعلیمی کمیٹی کودرخواست دیتاتھا۔
حسب سابق بندہ کواس سال ۷ مارچ سے ۱۹ مارچ تک کے لئے گاؤں جاناتھا،اوربندہ نے یکم مارچ ۲۰۱۵ کودرخواست دی اوربندہ کو۶ مارچ تک کوئی جواب نہیں ملا۔جمعرات ۵ مارچ کودفتر والوں سے معلوم کیا،توانہوں نے کہاکہ ابھی تک انتظامیہ کمیٹی تک درخواست نہیں پہنچائی گئی ،بندہ نے کہاکہ اچھامیں جارہاہوں ،اورفون پر مجھے اطلاع کردینا،بعدمیں ۹مارچ کوفون کیاکہ آپ کی چھٹی دوہفتوں کے بجائے ایک ہفتے کے لئے منظورہوچکی ہے ،بندہ نے کہاکہ میں مجبورہوں ،ایک ہفتے میں نہیں آسکتا،لیکن یہ مجھے انکارکرتے رہے ،آخرکارانہوں نے ۱۹ مارچ کومجھے ایس ایم ایس کیاکہ آپ کومدرسے سے فارغ کردیاگیاہے ۔
عبارۃ بالاکی روشنی میں درج ذیل امورمطلوب ہیں :
۱۔ صرف ایک ہفتے کی چھٹی کی وجہ سے مجھے مدرسے سے فارغ کرناجائزتھا۔؟
۲۔ میرامطالبہ ہے کہ جب آپ لوگوں نے سال کے درمیان میں ۲۵ جمادی الاولی کومجھے فارغ کردیا،یاتومجھے سال کے آخرتک رکھویامجھے ۳۰ رمضان تک کے لئے ۵مہینوں کی تنخواہ دو،لیکن انتظامیہ والے دونوں صورتو ں کاانکارکرتےرہے ہیں ،آپ حضرات شریعت کی روشنی میں فیصلہ فرمادیں ۔بند ہ تین سال سے ایک مدرسہ میں استاذہے اوربندہ دوسال سے ششماہی کے موقع پر ۱۵ دن کے لئے گاؤں جاتااورتعلیمی کمیٹی کودرخواست دیتاتھا۔
حسب سابق بندہ کواس سال ۷ مارچ سے ۱۹ مارچ تک کے لئے گاؤں جاناتھا،اوربندہ نے یکم مارچ ۲۰۱۵ کودرخواست دی اوربندہ کو۶ مارچ تک کوئی جواب نہیں ملا۔جمعرات ۵ مارچ کودفتر والوں سے معلوم کیا،توانہوں نے کہاکہ ابھی تک انتظامیہ کمیٹی تک درخواست نہیں پہنچائی گئی ،بندہ نے کہاکہ اچھامیں جارہاہوں ،اورفون پر مجھے اطلاع کردینا،بعدمیں ۹مارچ کوفون کیاکہ آپ کی چھٹی دوہفتوں کے بجائے ایک ہفتے کے لئے منظورہوچکی ہے ،بندہ نے کہاکہ میں مجبورہوں ،ایک ہفتے میں نہیں آسکتا،لیکن یہ مجھے انکارکرتے رہے ،آخرکارانہوں نے ۱۹ مارچ کومجھے ایس ایم ایس کیاکہ آپ کومدرسے سے فارغ کردیاگیاہے ۔
عبارۃ بالاکی روشنی میں درج ذیل امورمطلوب ہیں :
۱۔ صرف ایک ہفتے کی چھٹی کی وجہ سے مجھے مدرسے سے فارغ کرناجائزتھا۔؟
۲۔ میرامطالبہ ہے کہ جب آپ لوگوں نے سال کے درمیان میں ۲۵ جمادی الاولی کومجھے فارغ کردیا،یاتومجھے سال کے آخرتک رکھویامجھے ۳۰ رمضان تک کے لئے ۵مہینوں کی تنخواہ دو،لیکن انتظامیہ والے دونوں صورتو ں کاانکارکرتےرہے ہیں ،آپ حضرات شریعت کی روشنی میں فیصلہ فرمادیں ۔

جواب

۔ مدرسہ کی انتظامی کمیٹی کوچاہئے کہ وہ مدرسین کی ضرورت کاخیال رکھے اورا ن کے ساتھ نرمی اورحسن سلوک کے ساتھ پیش آئے اورمدرسین کی ضرورت کاخیال رکھتے ہوئے ان کوجتنے دن کی چھٹی کی ضرورت ہوان کواپنے قواعد وقانون کے مطابق دیاکرے ،البتہ اگرمدرسین کی چھٹی سے تعلیم اورنظم کاغیرمعمولی حرج ہورہاہوتوچھٹی دینے سے انکاربھی کیاجاسکتاہے۔
مذکورہ صورت میں اگرمدرسہ کے عمومی ضوابط میں یااس مدرسہ کے ساتھ عقدملازمت میں یہ تصریح ہوکہ منظوری کے بغیرایک ہفتہ یااس سے زائدچھٹیاں کرنے پرانتظامیہ کومعاہدہ فسخ کرنے کاحق حاصل ہوگاتوپھرمذکورہ صورت میں انتظامیہ کمیٹی کویہ اختیارہے کہ وہ مدرس کی ایک ہفتہ سے زائدبغیراطلاع کے غیرحاضری کی وجہ سے اس مدرس کوفارغ کردے ،کیونکہ مدرس اورانتظامیہ کمیٹی کے درمیان جومعاہدہ ہوتاہے اس کی پاسداری لازم ہے ،اگرمدرس نے منظورشدہ چھٹیوں سے زائد چھٹیاں کی ہیں تویہ معاہدہ کی خلاف ورزی ہوئی جس کی وجہ سے اس کوفارغ کرناجائزہے ،البتہ اگرمعاہدہ ملازمت میں کوئی تصریح نہ ہوتوپھرچونکہ ایک ہفتہ کی چھٹی کرناکوئی اتنابڑاحرج نہیں کہ اس کی وجہ سے کسی مدرس کوفارغ کیاجائے ،لہذامذکورہ صورت میں انتظامیہ کایہ عمل درست نہیں،باقی تنخواہ کے حکم سے متعلق تفصیل نمبر۲میں ملاحضہ ہو ۔
۲۔ اس کے جواب کے لئے آپ کے مدرسے کے قوانین کودیکھاجائے گاکہ وہ مدرسین کے ساتھ عقد اجارہ مسانہہ یعنی سالانہ کی بنیادپرکرتے ہیں یاماہانہ ؟
اگرمسانہہ ہو جیساکہ اکثر مدارس میں اسی کاعرف ہے ،تومذکورہ بالاتفصیل کی شق نمبر۲ کے تحت آپ رمضان تک باقی مہینوں کی تنخواہ کےآپ مستحق ہیں ،اورمدرسہ والوں پرلازم ہے کہ آپ کوباقی مہینوں کی تنخواہ دیں۔
البتہ اگرمذکورہ صورت میں عقداجارہ ماہانہ کی بنیادپرہواہے توصرف جس مہینے آپ کوفارغ کیاگیاہے اس کے بقیہ ایام کی تنخواہ کے مستحق ہوں گے ،اس کے علاہ باقی مہینوں کی تنخواہ کامطالبہ نہیں کرسکتے ۔
حوالہ جات
"تفسير الألوسي" 10 / 448:
وأوفوا بالعهد } ما عاهدالله تعالى عليه من التزام تكاليفه وما عاهدتم عليه غيركم من العباذ ويدخل في ذلك العقود .وجوز أن يكون المراد ما عاهدكم الله تعالى عليك وكلفكم به ، والإيفاء بالعهد والوفاء به هو القيام بمقتضاه والمحافظة عليه وعدم نقضه واشتقاق ضده وهو الغدر يدل على ذل وهو الترك ولا يكاد يستعمل إلا بالباء فرقا بين وبين الإيفاء الحسي كإيفاء الكيل والوزن { إن العهد كان مسئولا }۔
"الأشباه والنظائر" 1 / 122:
العادة المطردة هل تنزل منزلة الشرط ؟ قال في إجارة الظهيرية : والمعروف عرفا كالمشروط شرعا انتهى۔
' البحر الرائق" 14 / 413:
غاب المتولي المتعلم عن البلد أياما ثم رجع وطلب وظيفته فإن خرج مسيرة سفر ليس له طلب ما مضى وكذا إذا خرج وأقام خمسة عشر يوما وإن أقل من ذلك لأمر لا بد له منه كطلب القوت والرزق فهو عفو ولا يحل لغيره أن يأخذ حجرته وتبقى حجرته ووظيفته على حالها إذا كانت غيبته مقدار شهر إلى ثلاثة أشهر فإذا زاد كان لغيره أخذ حجرته ووظيفته وإن كان في المصر ولا يختلف للتعلم فإن اشتغل بشيء من الكتابة المحتاج إليها كالعلوم الشرعية تحل له الوظيفة وإن لعمل آخر لا تحل له ويجوز أن تؤخذ حجرته ووظيفته .
فكيف مع الحضرة والمباشرة فلا يحل عزل القاضي لصاحب وظيفة بغير جنحة وعدم أهلية ولو فعل لم يصح واستفيد من البزازية جواز إخراج الوظائف بحكم الشغور لقوله وإن لعمل آخر لا تحل ويجوز أخذ وظيفته وحجرته وإن الشغور إنما هو بخروجه عن المصر وإقامته زائدا على ثلاثة أشهر أو بتركه المباشر وهو في المصر بشرط أن يشتغل بعمل آخر وذكر ابن وهبان في شرح المنظومة أن في قوله ليس له أن يطلب الوظيفة إشارة إلى أنه لا ينعزل عنها وفي قوله لا يؤخذ بيته إن غاب أقل من ثلاثة أشهر إشارة إلى أنه يؤخذ إذا كان أكثر وكذا ينبغي أن تؤخذ الوظيفة أيضا لا سيما إذا كان مدرسا إذ المقصود يقوم به بخلاف الطالب فإن الدرس يقوم بغيره قال ابن الشحنة في شرح المنظومة وهذا يدل على أنه فهم من الوظيفة ما هو المتعارف في زماننا وليس هو المراد بل المراد بالوظيفة ما يخصه من ريع وقف المدرسة فإن أصل المسألة في قاضي خان في الوقف على ساكني دار المختلفة فالمراد سقوط سهمه فيعطى لذلك ثم إنه قال ينبغي أن تكون الغيبة المسقطة للمعلوم المقتضية للعزل في غير فرض كالحج وصلة الرحم وأما فيهما فلا يستحق العزل ولا يأخذ المعلوم وهذا كله مفهوم من عبارة قاضي خان لا يقال فيه ينبغي بل هو مفهوم عبارة الأصحاب وهذا كله فيما إذا كان الوقف على ساكني دار المختلفة أما إذا شرط الواقف في ذلك كله شروطا اتبعت ا هـ .والله أعلم وبهذا ظهر غلط من يستدل من المدرسين أو الطلبةبما في الفتاوى على استحقاقه المعلوم بلا حضور الدرس لاشتغاله بالعلم في غير تلك المدرسة فإن الواقف إذا شرط على المدرسين والطلبة حضور الدرس في المدرسة أياما معلومة في كل جمعة فإنه لا يستحق المعلوم إلا من باشر خصوصا إذا قال الواقف إن من غاب عن المدرسة يقطع معلومه فإنه يجب اتباعه ولا يجوز للناظر الصرف إليه زمن غيبته .
وعلى هذا لو شرط الواقف أن من زادت غيبته على كذا أخرجه الناظر وقرر غيره اتبع شرطه فلو لم يعزله الناظر وباشر لا يستحق المعلوم فإن قلت : إذا كان له درس في جامع ولازمه بنية أن يكون عما عليه في مدرسة هل يستحق معلوم المدرسة قلت : لا يستحق إلا إذا باشر في المكان المعين بكتاب الوقف لقوله في شرح المنظومة أما لو شرط الواقف في ذلك شروطا اتبعت۔

"رد المحتار " 17 / 433:
ويأتي قريبا حكم النيابة ، هذا وفي القنية من باب الإمامة إمام يترك الإمامة لزيارة أقربائه في الرساتيق أسبوعا أو نحوه أو لمصيبة أو لاستراحة لا بأس به ومثله عفو في العادة والشرع ا هـ وهذا مبني على القول بأن خروجه أقل من خمسة عشر يوما بلا عذر شرعي ، لا يسقط معلومه ، وقد ذكر في الأشباه في قاعدة العادة محكمة عبارة القنية هذه وحملها على أنه يسامح أسبوعا في كل شهر ، واعترضه بعض محشيه بأن قوله في كل شهر ، ليس في عبارة القنية ما يدل عليه قلت : والأظهر ما في آخر شرح منية المصلي للحلبي أن الظاهر أن المراد في كل سنة .
قلت : ولا ينافي هذا ما مر من المسامحة بأسبوع ونحوه لأن القليل مغتفر كما سومح بالبطالة المعتادة على ما مر بيانه في محله۔
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
08/جمادی الثانی1436ھ
مجيب
محمّد بن حضرت استاذ صاحب
مفتیان
مفتی آفتاب احمد صاحب


ماخذ :دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
فتوی نمبر :53775
تاریخ اجراء :2015-03-29

PDF ڈاؤن لوڈ