1. دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور

طلاق کوشرط کےساتھ معلق کرنا

سوال

میری بیوی میرےپاس رہنانہیں چاہتی تھی،وہ اپنی ماں کےگھرگئی تھی،میں نےتقریباچارسال انتظارکیا،مگروہ راضی نہیں ہورہی تھی،پھرہمارےدرمیان یہ تحریری معاہدہ ہوا۔

جواب

             واضح رہےکہ جب طلاق کسی شرط کےساتھ معلق کی جائے،توشرط کےپائےجانےکی صورت میں طلاق واقع ہوجائےگی،اورشرط کےنہ پائےجانےکی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔

             صورتِ مسؤلہ کےمطابق اگرواقعی تحریری شرط کےمطابق30 جون2021ءکوبیوی نےشوہرکومیسج کرکےیہ بتایاہو کہ میں آپ کےساتھ اپنی امی کےگھرمیں رہناچاہتی ہوں،توشرط نہ پائےجانےکی وجہ سےتیسری طلاق واقع نہیں ہوئی،لہذاعورت حسبِ سابق شوہرکی منکوحہ رہےگی،اورشوہرکوایک طلاق کااختیارحاصل رہےگا۔

 

إذاأضافه إلی الشرط،وقع عقیب الشرط.(الفتاوی الھندیة،کتاب الطلاق،الباب الرابع:فی الطلاق بالشرط،ج1ص 420)


ماخذ :دار الافتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
فتوی نمبر :14431706


فتوی پرنٹ